وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

آبی زراعت کے انشورنس کا فروغ 

Posted On: 01 APR 2025 3:42PM by PIB Delhi

وزارت ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری، مویشی پروری اور ڈیری کے شعبوں کی ترقی کے لیے مختلف اسکیموں پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ  (i) پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)،(ii) ماہی گیری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی فنڈ ( ایف آئی ڈی ایف)،(iii) پردھان منتری متسیا کسان سمرِدھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی)،(iv) مویشیوں کی صحت اور بیماریوں پر قابو پانے کا پروگرام،(v) بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی فنڈ،(vi) ڈیری کی ترقی،(vii) راشٹریہ گوکل مشن،(viii) مویشیوں کی مردم شماری اور آئی ایس ایس،(ix) نیشنل لائیو اسٹاک مشن،(x) کوآپریٹیوز کے ذریعے ڈیری کی سرگرمیاں شامل ہیں۔  سال 25-2024 کے دوران 23 مارچ 2025 تک ان اسکیموں کے تحت 5113.00 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور ملک بھر میں مختلف سرگرمیوں کے لیے 3459.74 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

 محکمہ ماہی پروری، وزارت ماہی پروری، مویشی پالن اور ڈیری، موجودہ پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت ایک نئی مرکزی شعبے کی ذیلی اسکیم یعنی پردھان منتری متسیا کسان سمرِدھی سہ-یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی( کو نافذ کر رہا ہے، جو مالی سال 24-2023 سے مالی سال 27-2026 تک چار سال کی مدت کے لیے 6000 کروڑ روپے کے تخمینی اخراجات کے ساتھ چلائی جائے گی۔ پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے جز 1-بی کے تحت آبی زراعت  کے کسانوں کو 4 ہیکٹر تک کے آبی رقبے والے فارم کے لیے انشورنس خریدنے پر ایک بار کا ترغیبی معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ 'ایک بار کا ترغیبی معاوضہ' انشورنس پریمیم کی لاگت کے 40فیصد کی شرح سے دیا جاتا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 25000 روپے فی ہیکٹر آبی رقبے تک ہے۔ کسی ایک کسان کو زیادہ سے زیادہ 100000 روپے تک کی ترغیب دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے فارم کا سائز 4 ہیکٹر تک ہو۔ زیادہ گنجان آبی زراعت کی دیگر اقسام جیسے کہ کیج کلچر، ری-سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹم (آر اے ایس)، بائیو-فلوک، ریس ویز وغیرہ کے لیے بھی 40فیصد پریمیم کی شرح سے ترغیب دی جاتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 1 لاکھ روپے تک ہے اور زیادہ سے زیادہ مستحق یونٹ کا سائز 1800 مکعب میٹر (ایم³) ہے۔ اس 'ایک بار کے ترغیبی معاوضے' کا فائدہ صرف ایک ہی فصل یعنی ایک فصل کے دورانیے کے لیے آبی زراعت انشورنس خریدنے پر دیا جاتا ہے۔ درج فہرست ذات (ایس سی )، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور خواتین مستفیدین کو عام زمروں کے مقابلے میں 10فیصد اضافی ترغیب فراہم کی جائے گی۔

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے جزو 3 کے تحت، ماہی پروری کے مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ماہی پروری مصنوعات میں مربوط قدر کی افادیت، حفاظت اور معیار کی یقین دہانی کے نظام کو اپنانے کے قابل ہو سکیں۔ اس مالی مدد کو 'پرفارمنس گرانٹ' (کارکردگی گرانٹ) کہا جاتا ہے۔ اس گرانٹ کی مقدار درج ذیل ہے:
(
i)بہت چھوٹے کاروباروں کے لیے: عام زمرے کے لیے کل سرمایہ کاری کا 25فیصد یا 35 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، جبکہ ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے ملکیتی مائیکرو انٹرپرائزز کے لیے کل سرمایہ کاری کا 35فیصد یا 45 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو۔
(
ii) چھوٹے کاروباروں کے لیے: عام زمرے کے لیے کل سرمایہ کاری کا 25فیصد یا 75 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، جبکہ ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے ملکیتی چھوٹے کاروباروں کے لیے کل سرمایہ کاری کا 35فیصد یا 100 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو۔
(
iii) گاؤں کی سطح کی تنظیموں، اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جیز)، فِش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) اور کوآپریٹوز کے فیڈریشنز کے لیے: کل سرمایہ کاری کا 35فیصد یا 200 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو۔

یہ جانکاری ماہی پروری، حیوانات اور دودھ کی پیداوار کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے یکم اپریل 2025 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

************

ش ح ۔    م د  ۔  م  ص

 (U : 9266    )


(Release ID: 2117515) Visitor Counter : 8


Read this release in: English , Hindi , Tamil