ریلوے کی وزارت
مال بھاڑا آمدنی 2019-20 کی 1.13 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 1.68 لاکھ روڑ روپے کے بقدر ہوگئی، جس سے چار برسوں میں 54805 کروڑ روپے کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے
مسافر آمدنی جو 2019-20 میں 50669 کروڑ روپے کے بقدر تھی، وہ 2023-24 میں بڑھ کر 70693 کروڑ روپے کےبقدر ہوگئی ، جس سے چار برسوں میں 20024 کروڑ روپے کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے
Posted On:
29 MAR 2025 5:33PM by PIB Delhi
گذشتہ پانچ برسوں کے دوران مال برداری اور مسافروں کے آپریشنوں سے بھارتی ریلوے کو حاصل ہونے والی آمدنی درج ذیل ہے: -
مالی سال
|
آمدنی (کروڑ وپے میں)
|
مال بھاڑا
|
مسافر
|
2019-20
|
1,13,488
|
50,669
|
2020-21*
|
1,17,232
|
15,248
|
2021-22*
|
1,41,096
|
39,214
|
2022-23
|
1,62,263
|
63,417
|
2023-24
|
1,68,293
|
70,693
|
*کووِڈ وبائی مرض کے سال
2019-20 سے 2023-24 کے دوران فلیکسی کرایہ، تتکال اور پریمیم تتکال کی وجہ سے ہندوستانی ریلوے کی کمائی ہوئی آمدنی مسافر خدمات سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کا تقریباً 5.7فیصد ہے۔ ٹکٹوں کی منسوخی کی وجہ سے جمع ہونے والی رقم کو الگ سے برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔
01.04.24 تک، ٹرین خدمات چلانے کے لیے تقریباً 79,000 ریل ڈبے استعمال کیے گئے ہیں۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:
کلاس
|
سواری ڈبوں کی تعداد
|
نشستوں کی تعداد
|
جنرل اور غیر اے سی سلیپر
|
~56,000(مجموعی تعداد کا 70 فیصد)
|
~51لاکھ
|
اے سی کوچز
|
~ 23,000
|
~14 لاکھ
|
میزان
|
~ 79,000
|
~ 65 لاکھ
|
20-2019 سے 2023-24 کی مدت کے دوران مسافروں کی نشستوں اور آمدنی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
کلاس
|
2019-20 سے 2023-24 کے دوران مجموعی نشستوں کا اوسط فیصد حصہ
|
2019-20 سے 2023-24 کے دوران مجموعی مسافر آمدنی کا اوسط فیصد حصہ
|
غیر اے سی کوچز (جنرل/ سلیپر وغیرہ)
|
~ 82%
|
~ 53%
|
اے سی کوچز
|
~ 18%
|
~ 47%
|
یہ اطلاع ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے گذشتہ روز راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:9176
(Release ID: 2116661)
Visitor Counter : 34