امور داخلہ کی وزارت
نکسلی سرگرمیوں میں کمی
Posted On:
26 MAR 2025 1:43PM by PIB Delhi
وزارت داخلہ میں وزیر مملکت جناب نتیا نند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایاکہ بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کے خطرے سے مکمل طور پر نمٹنے کے لیےحکومت ہند (جی او آئی) نے 2015 میں ’ایل ڈبلیو ای سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور ایکشن پلان‘ کو منظوری دی۔ پالیسی میں ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کا تصور کیا گیا ہے جس میں مقامی برادریوں کے لیے سیکورٹی سے متعلق اقدامات، ترقیاتی مداخلت، حقوق اور اختیارات وغیرہ کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس پالیسی کے موثر نفاذ کے نتیجہ میں تشدد میں کمی اور نکسلیوں کے جغرافیائی پھیلاؤ میں تنگی واقع ہوئی ہے۔ بائیں بازو کے انتہا پسندوں (ایل ڈبلیو ای) کے تشدد کے واقعات جو 2010 میں 1936 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے، 2024 میں کم ہو کر 374 رہ گئے ہیں یعنی اس میں81 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس عرصے کے دوران اموات کی کل تعداد (شہریوں + سیکورٹی فورسز) میں بھی 85 فیصد کمی آئی ہے جو 2010 میں 1005 اموات سے 2024 میں 150 رہ گئی ہے۔
گزشتہ 6 برسوں کے دوران ایل ڈبلیو ای کے تشدد کے واقعات جو 2019 میں 501 تھے 2024 میں کم ہو کر 374 ہو گئے یعنی اس میں 25 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس عرصے کے دوران اموات کی کل تعداد (شہریوں + سیکورٹی فورسز) میں بھی 26 فیصد کمی آئی ہے جو 2019 میں 202 اموات تھی ،2024 میں 150 رہ گئی ہے۔
گزشتہ 6 برسوں میں بائیں بازو کے انتہاپسندوں کے تشدد کی ریاستی تفصیلات حسب ذیل ہیں۔
ریاست
|
2019
|
2020
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
آندھرا پردیش
|
13
|
11
|
08
|
03
|
03
|
01
|
بہار
|
48
|
17
|
20
|
11
|
04
|
02
|
چھتیس گڑھ
|
182
|
241
|
188
|
246
|
305
|
267
|
جھارکھنڈ
|
166
|
154
|
100
|
96
|
129
|
69
|
کیرالہ
|
0
|
01
|
00
|
00
|
04
|
00
|
مدھیہ پردیش
|
4
|
07
|
15
|
16
|
07
|
11
|
مہاراشٹر
|
48
|
13
|
15
|
16
|
19
|
10
|
اڈیشہ
|
34
|
21
|
11
|
16
|
12
|
06
|
تلنگانہ
|
6
|
05
|
04
|
09
|
03
|
08
|
مغربی بنگال
|
0
|
00
|
00
|
00
|
00
|
00
|
کل
|
501
|
470
|
361
|
413
|
485
|
374
|
سال 2022 اور 2023 میں تشدد میں اضافہ ایل ڈبلیو ای کی بڑھتی ہوئی انسدادی کارروائیوں کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ سیکورٹی فورسز نے سی پی آئی(ماؤٍنواز) کے اہم علاقوں میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے۔
ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع اپریل 2018 تک 126 سے کم ہو کر 90 اضلاع، جولائی 2021 تک مزید 70 اور پھر اپریل 2024 تک 38 رہ گئے ہیں۔
سیکورٹی کے محاذ پر حکومت ہند (جی او آئی) ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں کو سنٹرل آرمڈ پولیس بٹالینز، تربیت اور ریاستی پولیس فورسز کی جدید کاری کے لیے فنڈز، ساز و سامان اور اسلحہ، انٹیلی جنس کا اشتراک، قلعہ بند پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر وغیرہ کے ذریعے صلاحیت سازی کے لیے مدد کرتی ہے۔
- سیکورٹی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے تحت سیکورٹی فورسز کی آپریشنل اور تربیتی ضروریات، خود سپردگی کرنے والے ایل ڈبلیو ای کیڈرس کی بحالی کے لیے ریاستوں کے ذریعے کیے جانے والے اخراجات، کمیونٹی پولیسنگ، گاؤں کی دفاعی کمیٹیوں اور تشہیری مواد وغیرہ سے متعلق بار بار آنے والے اخراجات کے لیے امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 15-2014 سے 25-2024 کے دوران 3260.37 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
بنیادی ڈھانچے سے متعلق خصوصی اسکیم (ایس آئی ایس) کے تحت اسپیشل انٹیلی جنس برانچز (ایس آئی بیز)، اسپیشل فورسز، ڈسٹرکٹ پولیس اور قلعہ بند پولیس اسٹیشنز (ایف پی ایز) کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ایس آئی ایس کے تحت 1741 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت 226 ایف پی ایسز تعمیر کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ 400 ایف پی ایسز پہلے تعمیر کیےجاچکے ہیں۔
- اس کےعلاوہ 1120.32 کروڑ روپے مرکزی ایجنسیوں کو 15-2014سے 25-2024 کی مدت کے دوران ایل ڈبلیو ای مینجمنٹ (اے سی اے ایل ڈبلیو ای ایم) اسکیم کے لیے مرکزی ایجنسیوں کی مدد کے تحت ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں اور حفاظتی کیمپوں میں اہم بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے لیے دیے گئے ہیں۔
ترقی کی سمت میں فلیگ شپ اسکیموں کے علاوہ حکومت ہند نے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی توسیع، ٹیلی مواصلاتی روابط کو بہتر بنانے، ہنر مندی اور مالیاتی شمولیت پر خصوصی زور دینے کے ساتھ کئی مخصوص اقدامات کیے ہیں۔
- سڑک رابطے کی توسیع کے لیے 14,618 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔
- ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں ٹیلی مواصلاتی رابطہ کو بہتر بنانے کے لیے 7,768 ٹاورز کو کام کیا گیا ہے۔
- ہنرمندی کی ترقی کے حوالے سے 46 انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئیز) اورہنرمندی کی ترقی کے 49 مراکز( ایس ڈی سیز) کو فعال بنایا گیا ہے۔
- قبائلی علاقوں میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے 178 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایسز) کو فعال بنایا گیا ہے۔
- مالی شمولیت کے لیے محکمہ ڈاک نے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع میں بینکنگ خدمات کے ساتھ 5731 پوسٹ آفس کھولے ہیں۔ ایل ڈبلیو ای کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 1007 بینک کی شاخیں اور 937 اے ٹی ایم کھولے گئے ہیں اور 37,850 بینکنگ خط و کتابت کو آپریشنل کیا گیا ہے۔
- ترقی کو مزیدرفتار دینے کے لیے خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) کے تحت پبلک انفرااسٹرکچر میں اہم خلا کو پر کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ 2017 میں اسکیم کے آغاز کے بعد سے 3563 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
*******
(ش ح۔ م ش۔ اش ق)
UR-8935
(Release ID: 2115199)
Visitor Counter : 22