خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
حکومت نے سیاسی شمولیت اور مقامی حکومت پر توجہ مرکوز کرکے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی ہے
حکومت نے ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک ماڈل گرام پنچایت قائم کرنے کے مقصد سے ماڈل ویمن فرینڈلی گرام پنچایت کی پہل شروع کی ہے
Posted On:
19 MAR 2025 3:56PM by PIB Delhi
بہبودی خواتین و اطفال کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے آج راجیہ سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت ہند نے معاشرے کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مجموعی طور پر بااختیار بنانے کے واسطے روز مرہ کی بنیاد پر مسائل کو حل کرنے کے لیے "پوری حکومت" اور "پورے معاشرے" کا نقطہ نظر اپنایا ہے، اور اس میں خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانا بھی شامل ہے۔ مختلف پالیسیوں کے ذریعے حکومت ہند مقامی حکومت اور سیاسی قیادت کے کرداروں میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دے رہی ہے۔
سال 2023 میں، ہندوستانی پارلیمنٹ نے آئین (ایک سو چھٹی ترمیم) ایکٹ، 2023، "ناری شکتی وندن ادھینیم" منظور کیا، جو وفاقی ڈھانچے کی تمام سطحوں پر عوامی زندگی میں خواتین کی مساوی نمائندگی کو فروغ دینے کے اپنے قومی سفر میں تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ تاریخی مسودہ قانون یکے بعد دیگرے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، لوک سبھا، اور تمام وفاقی ریاستی قانون ساز اسمبلیوں بشمول قومی راجدھانی خطہ دہلی کی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کے لیے تمام نشستوں کا ایک تہائی حصہ محفوظ کرتا ہے، اس طرح سیاست میں خواتین کی نمائندگی کو عوامی فیصلہ سازی کی اعلی ترین سطح پر ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔
یہ حالیہ سنگ میل 73 ویں اور 74 ویں آئینی ترامیم (1992) کے ذریعے دیہی اور شہری بلدیاتی اداروں یعنی، پنچایتی راج اداروں (پی آر آئی ) اور بلدیاتی اداروں میں ایک تہائی (33 فیصد) نشستیں محفوظ کرکے نچلی سطح پر خواتین کی قیادت کو مستحکم کرنے کے تین دہائیوں سے زیادہ کی بنیاد بنائی گئی ہے۔ لامرکزی وفاقی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے، دو تہائی سے زیادہ ریاستوں (21 ریاستوں/اور 2 پی آر آئی والے مرکز کے زیر انتظام علاقوں) نے اپنے پنچایتی راج اداروں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن کا التزام کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، آج مقامی حکومتوں میں تقریبا 31 لاکھ منتخب نمائندوں میں سے تقریبا نصف (46 فیصد) خواتین ہیں، جن کی تعدا 14.5 لاکھ ہے- نمائندگی کا ایسا پیمانہ جو دنیا میں کہیں بھی ناپید ہے۔
حکومت نے ’’سشکت پنچایت-نیتری ابھیان‘‘ کی شروعات کی ہے، جو ایک جامع اور ہدف بند صلاحیت سازی کی پہل ہے جس کا مقصد ملک بھر میں پنچایتی راج اداروں کی منتخب خواتین نمائندوں کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ ان کی قائدانہ ذہانت کو تیز کرنے، ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور نچلی سطح کی حکومت میں ان کے کردار کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ حکومت نے پنچایتی راج اداروں کی منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیت سازی کے لیے خصوصی تربیتی ماڈیول تیار کیے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین ڈیوٹی بیئرز اور خواتین لیڈروں کو درپیش زمینی چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے پنچایت کے منتخب نمائندوں کے لیے ایک جامع ’’صنفی بنیاد پر تشدد اور نقصان دہ طریقوں سے نمٹنے کے قانون سے متعلق پرائمر‘‘ بھی تیار کیا گیا ہے۔
حال ہی میں، حکومت نے ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک ماڈل گرام پنچایت قائم کرنے کے مقصد سے ماڈل ویمن فرینڈلی گرام پنچایت پہل شروع کی ہے جو خواتین اور لڑکیوں دونوں کے لیے دوستانہ ہو، جس سے صنفی مساوات اور پائیدار دیہی ترقی کے عزم کو تقویت مل سکے۔
حکومت کا مقصد نوعمر خواتین سمیت ایک لاکھ نوجوانوں کو سیاسی وابستگی کے بغیر سیاست میں شامل کرنا اور وکست بھارت کے اپنے خیالات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہیں قومی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
مزید برآں، حکومت ہند کی مختلف وزارتوں اور محکموں کے ذریعے خواتین کو جامع تعلیمی، اقتصادی، سماجی، سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے متعدد اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں۔ حکومت غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے لیے سستی رہائش، خواتین کی جائیداد کی ملکیت کی حوصلہ افزائی، اور صحت کی عالمگیر کوریج ، رسمی کریڈٹ ، بیمہ اور بینکنگ خدمات کے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو بچے کی پیدائش کے بعد آرام کرنے اور صحت یاب ہونے کے لیے مالی مدد، بچوں اور ماؤں کے تغذیہ اور فلاح و بہبود پر نظر رکھنے جیسی ضروری خدمات کی تکمیل کے ذریعے جامع نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
سیلف ہیلپ گروپوں کو تبدیلی کا محرک تصور کرتے ہوئے، آج 10 کروڑ خواتین دیہی منظر نامے کو معاشی طور پر تبدیل کر رہی ہیں، اور نچلی سطح پر زیادہ قائدانہ رول اختیار کر رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ م ش ع ۔ ن م۔
U-8530
(Release ID: 2113022)
Visitor Counter : 25