زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
کیڑوں کی روک تھام کرنے والے بیجوں کی موجودہ حالت
Posted On:
18 MAR 2025 5:59PM by PIB Delhi
زیادہ پیداوار دینے والی اقسام اوربیجوں کےلیے مخصوص مقام کی ترقی ایک مسلسل عمل ہے اور انڈیا کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے زیراہتمام نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سسٹم (این اےآر ای ایس) کے اصولوں اور رہنما خطوط کے مطابق، فصل پر مبنی آل انڈیا کوآرڈینیٹڈ ریسرچ پروجیکٹس (اے آئی سی آر پز) کے ذریعہ باقاعدگی سے انجام دیا جاتا ہے۔ اس طرح تیار کی جانے والی اقسام اوربیجوں کو فصل سے متعلق مرکزی ذیلی کمیٹی کے معیارات، نوٹیفکیشن اور زرعی فصلوں کے لیے اقسام کے اجراء کے بعد گزٹ آف انڈیا میں مطلع کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں (2014 - 2024) کے دوران مجموعی طور پر 2900 مقامات پر زیادہ پیداوار دینے والی فیلڈ فصلوں کی اقسام تیار کی گئی ہیں اور ان مطلع شدہ اقسام اوربیجوں میں سے فصل کے لحاظ سے تیار کی گئی اقسام اوربیج، کیڑوں اوربیماریوں کی روک تھام کرنے والی روادار اقسام اوربیج درج ذیل ہیں؛چاول 668(588)، گندم 178 (168)؛ جو 21 (13)؛ مکئی 239 (229); جوار 78 (68)؛ موتی باجرا 81 (75)؛ دیگر موٹےاناج 115 (95)؛ دالیں 437 (402)؛ تیل کے بیج 412 (342)؛ فائبر فصلیں 376 (345)؛ چارے کی فصلیں 178 (147)؛ گنا 88 (83) اور دیگر فصلیں 29 (19)۔ یہ بیج کسانوں کو معیاری بیج کی مزید فراہمی کے لیے سیڈ چین میں شامل کیے گئے ہیں۔
مزید برآں، کیڑے مکوڑوں کے حملے سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے، کیڑے مکوڑوں پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقوں کے پیکج کی سفارش کی گئی ہے، جس کے ذریعے کسان کیڑوں پر قابو پا رہے ہیں۔
حکومت ہند مناسب پالیسی اقدامات، بجٹ مختص کرنے اور فصلوں کی نمائش کرنے اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے گاؤں کی سطح پر بیداری پیدا کرنے کی مہم جیسے مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے ریاستوں کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ حکومت ہند کی مختلف اسکیموں اور پروگرام جیسے پی ایم فصل بیمہ یوجنا، نمو کسان یوجنا اور مربوط فصل کے انتظام کے طریقوں کو اپنانے کا مقصد کسانوں کی فلاح و بہبود ہےاوراس کا مقصد پیداوار میں اضافہ، منافع بخش آمدنی اور کسانوں کو آمدنی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ حکومت ہند نے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے محکمے کے بجٹ کو 21933.50 کروڑ روپے جو (2013-14 کے دوران تھی۔25-2024 کے دوران بڑھاکر1,22,528.77 کروڑ روپے کردیا ہے۔ کسانوں کی خودکشی کمیٹی سے متعلق ڈیٹا اورتفصیلات متعلقہ ریاستی حکومت کے ذریعہ محفوظ رکھے جاتے ہیں۔
ان 2900 تیار شدہ کھیت کی فصلوں کی اقسام میں سے 2661 اقسام : اناج 1258؛ تیل کے بیج 368؛ دالیں 410؛ ریشہ والی فصلیں 358؛ چارہ کی فصلیں 157، گنے کی 88 اور دیگر فصلیں 22 ہیں۔جو ایک یا اس سے زیادہ بائیوٹک تناؤ یا حیاتیاتی تناؤ کو برداشت کرنے والی ہیں۔ ان میں سے 537 اقسام خاص طور پر انتہائی آب و ہوا کے لیے درست فینوٹائپنگ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی گئی ہیں۔
مختلف ایجنسیوں سے موصول ہونے والے اشارے کے مطابق ان اقسام کے بریڈر اور معیاری بیج تیار کرنے کے لیے منظم کوششیں کی گئی ہیں۔ کاشتکاروں کو بیج کی فراہمی میں تیزی لانے کے لیے ربیع25-2024سے مناسب معیار میں بریڈر بیج کی پیداوار اور خریف 2025 کے لیے پروسیسنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 2014 کے بعد سے، کل 11.85 لاکھ کوئنٹل بریڈر بیج تیار کیا گیا ہے اور مختلف سرکاری اور نجی شعبے کے بیج ایجنسیوں کو اس کی بنیاد اور تصدیق شدہ بیجوں میں آتی ہوئی کمی کو بڑھانے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ کل بیج کی فراہمی میں 10 سال سے کم پرانی اقسام کا حصہ 70فیصد سے زیادہ ہے۔
دوردرشن چینلز، آل انڈیا ریڈیو، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیج تیار کرنے والی ایجنسیوں اور کسانوں میں ان اقسام کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔آئی سی اے آر اور ایس اے یوز جیسے اداروں کے ذریعے ملک بھر میں ان بہتر فصلوں کے فرنٹ لائن کی نمائش باقاعدگی سے کی جاتی ہے ۔ کرشی وگیان کیندرز (کے وی کز) کسانوں کو ان بہتر فصلوں کی کاشت کی نمائش پیش کرتے ہیں۔ تیار کردہ اقسام کو کے وی کز، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر، دوردرشن، آئی سی ٹی ٹولز جیسے موبائل ایپس وغیرہ کے ذریعے کسانوں میں بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے پھیلایا جارہا ہے۔
حکومت ہند نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ نیوٹریشن مشن کے تحت سب مشن آن سیڈ اینڈ پلانٹنگ میٹریل (ایس ایم ایس پی) کے سیڈ ولیج پروگرام کے جزو کو نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد گاؤں میں کسانوں کو آب و ہوا میں لچکدار، بایوفورٹیفائیڈ اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کے بیج دستیاب کرانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت، فاؤنڈیشن اور تصدیق شدہ بیجوں کی تقسیم کے لیے مالی امداد ایک ایکڑ فی کسان کے لیے معیاری بیج کی پیداوار کے لیے اناج میں بیج کی لاگت کا 50فیصد اور تیل کے بیجوں، چارے اور سبز کھاد کی فصلوں میں 60فیصد ہے۔ خوردنی تیلوں پر قومی مشن - تیل کے بیج (این ایم ای او۔ او ایس) کو25-2024 سے31-2030 کے دوران گھریلو تیل کے بیجوں کی پیداوار کو بڑھانے اور خوردنی تیلوں میں خود انحصاری (آتم نربھر بھارت) کے حصول کے لیے منظوری دی گئی ہے۔
یہ معلومات زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
***********
( ش ح۔م م ع۔م ر)
U.No.8497
(Release ID: 2112714)
Visitor Counter : 19