وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم ایم کے ایس وائی کے تحت استفادہ کنندہ خواتین

Posted On: 18 MAR 2025 3:51PM by PIB Delhi

ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کا محکمہ ماہی گیری حالیہ جاری پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت مرکزی شعبے کی نئی ذیلی اسکیم پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) کو مالی سال 24 – 2023  سے مالی سال 27 – 2026 تک چار سال کی مدت کے لیے 6000 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کے ساتھ نافذ کر رہا ہے۔

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت، ذیلی اسکیم میں حسب ذیل مدد فراہم کی جاتی ہے: (i) نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ماہی گیروں، مچھلی کے کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو کام پر مبنی ڈیجیٹل شناخت فراہم کرکے ماہی گیری کے شعبے کے غیر منظم حصے کو مستقل بنانا؛ (ii) ادارہ جاتی کریڈٹ تک رسائی کی سہولت مہیا کرنا، (iii)  پریمیم کا 40 فیصد (25,000 روپے فی ہیکٹر، یا 4 ہیکٹر کے لیے 1 لاکھ روپے فی کسان فراہم کرکے کسانوں کو 'یکمشت مراعات' فراہم کرکے آبی زراعتی بیمہ کو اپنانے کی ترغیب، ایس سی/ایس ٹی اور استفادہ کنندہ خواتین کو اضافی 10فیصد مراعات ملتی ہیں؛ (iv)  مائیکرو انٹرپرائز کے لیے پرفارمنس گرانٹ کے ذریعے جزو 2 کے تحت ماہی گیری کی ویلیو چین کی استعداد کار میں بہتری کرنا، کل سرمایہ کاری کا 25 فیصد یا 35 لاکھ، جو بھی کم ہو، جنرل زمرے کے لیے، اور کل سرمایہ کاری کا 35 فیصد یا  45  لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کی زیر ملکیت مائیکرو انٹرپرائزز کے لیے۔ اس کے علاوہ، دیہی سطح کی تنظیموں اور ایس ایچ جی، ایف ایف پی او اور کوآپریٹیو اداروں کے لیے پرفارمنس گرانٹ کل سرمایہ کاری کا 35 فیصد یا 200 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، اس سے زیادہ نہیں ہوگی اور چھوٹے اور مائیکرو انٹرپرائز یعنی پرفارمنس گرانٹ کے ذریعے جزو 3 کے تحت صارفین کو محفوظ مچھلی کی مصنوعات کی سپلائی چین کے قیام کے لیے، کل سرمایہ کاری کا 25 فیصد یا 35 لاکھ روپے، جو بھی مائیکرو انٹرپرائز کے لحاظ سے کم ہو اور کل سرمایہ کاری کا 25 فیصد یا 75 لاکھ روپے، جو بھی جنرل زمرے کے لحاظ سے چھوٹے کاروبار کے لیے کم ہو اور کل سرمایہ کاری کا 35 فیصد یا 45 لاکھ روپے، جو بھی مائیکرو انٹرپرائز کے لحاظ سے کم ہو اور کل سرمایہ کاری کا 35 فیصد  یا 100 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، ایس سی، ایس ٹی اور خواتین چھوٹے کاروباریوں کے لیے۔ اس کے علاوہ، دیہی سطح کی تنظیموں اور ایس ایچ جی، ایف ایف پی او اور کوآپریٹیو اداروں کے لیے پرفارمنس گرانٹ کل سرمایہ کاری کا 35 فیصد یا 200 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کا مقصد مرد اور عورت کے لیے ملازمتوں کی تخلیق اور دیکھ بھال کے لئے بالترتیب 10,000 روپے اور 15,000 روپے سالانہ کی رقم فراہم کرنا ہے جو کل اہل گرانٹ کے 50% کی حد سے مشروط ہے۔

مزید برآں ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ ماہی گیری نے 11.09.2024 کو پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی) کا آغاز کیا ہے۔ این ایف ڈی پی کا مقصد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے کام پر مبنی ڈیجیٹل شناخت اور ڈیٹا بیس کے ذریعے ہندوستانی ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے کو رسمی شکل دینا ہے۔ یہ ادارہ جاتی قرض تک رسائی، ماہی گیری کے کوآپریٹیو کو مضبوط بنانے، آبی زراعت کے بیمہ کی حوصلہ افزائی، کارکردگی پر مبنی ترغیبات، ماہی گیری کے ٹریس ایبلٹی سسٹم اور تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے 'ون اسٹاپ' حل کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ این ایف ڈی پی پر اب تک 20,25,676 ماہی گیروں، مچھلی پرور کسانوں اور دیگر فریقوں نے اندراج کیا ہے جن میں آندھرا پردیش سے 209850 اندراجات شامل ہیں۔ ان میں 56,165 خواتین، 8374 ایس سی مستفیدین اور 5075 ایس ٹی مستفیدین شامل ہیں۔ ضلع کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-1 میں فراہم کی گئی ہیں۔

 

این ایف ڈی پی کے تحت آبی زراعتی بیمہ، قرض کی سہولت، کارکردگی کی گرانٹ، ٹریسیبلیٹی اور تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے ماڈیول تیار کیا گیا ہے اور اسے لائیو کیا گیا ہے۔ استفادہ کنندہ این ایف ڈی پی پورٹل پر لاگ ان کر سکتا ہے اور فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ آج تک، آندھرا پردیش سے 13 درخواستوں سمیت آبی زراعتی بیمہ کے لیے 286 لیڈ درخواستیں مستفیدین کی طرف سے 716 ہیکٹر فارموں کا احاطہ کرتے ہوئے جمع کرائی گئی ہیں اور انہیں پورٹل پر بیمہ کمپنیوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ مزید برآں پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت کمپونینٹ 2 کے تحت 6 درخواستوں اور کمپونینٹ 3 کے تحت 2 درخواستوں سمیت پرفارمنس گرانٹ کے لیے 8 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ابھی تک آندھرا پردیش سے پرفارمنس گرانٹ کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔


ضمیمہ - I
آندھرا پردیش میں ضلع کے لحاظ س ے نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تحت رجسٹریشن کی تفصیلات

 

ضلع کا نام

خواتین کے اندراجات کی تعداد

مردوں کے اندراجات کی تعداد

کل اندراجات

ایس سی رجسٹریشن

ایس ٹی رجسٹریشن

الوری سیتاراما راجو

57

364

421

25

140

اناکاپلی

305

1126

1431

18

47

اننت پور

291

1692

1983

183

47

انمایا

8

150

158

8

17

باپٹلا

990

2076

3066

43

125

چتور

684

928

1612

224

138

ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کونسیما

4299

6363

10662

90

6

مشرقی گوداوری

12380

35557

47937

340

174

ایلورو

619

1352

1971

308

28

گنٹور

1574

7745

9319

658

807

کرشنا

11406

20778

32184

2202

594

کرنول

373

3450

3823

363

90

نندیال

63

327

390

17

16

این ٹی آر

193

362

555

122

24

پالناڈو

42

254

296

59

126

پاروتی پورم مانیم

73

617

690

34

338

پرکاسم

1952

7687

9639

305

212

سری پوٹی سریرامولو نیلور

3195

10355

13550

743

1058

سری ستھیا سائی۔

51

606

657

38

15

سریکاکولم

8547

17094

25641

65

64

تروپتی

572

2692

3264

241

287

وشاکھاپٹنم

5434

19673

25107

172

210

وجیا نگرم

1457

3547

5004

98

343

مغربی گوداوری

1495

8514

10009

1944

96

وائی۔ ایس۔ آر کڑپہ

105

376

481

74

73

کل

56165

153685

209850

8374

5075

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ معلومات ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے 18 مارچ 2025 کو لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی ہیں۔

***

ش ح ۔  م ش ع۔   م ت                                         

U - 8440


(Release ID: 2112550) Visitor Counter : 26


Read this release in: English , Hindi , Bengali