امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نکسلی سرگرمیاں اور تشدد

Posted On: 18 MAR 2025 3:32PM by PIB Delhi

بائیں بازو کی انتہا پسندی(ایل ڈبلیو ای) کے مسئلے کو جامع انداز میں  نمٹنے کے لیے 2015 میں"نیشنل پالیسی اینڈ ایکشن پلان فار کمبیٹنگ لیفٹ ونگ انتہا پسندی" کی منظوری دی گئی۔ یہ پالیسی  ایک کثیر جہتی اور طویل المدتی حکمت عملی کا تصور پیش کرتی ہے جس میں حفاظتی اقدامات، ترقیاتی مداخلتیں، مقامی کمیونٹیز کے حقوق اور استحقاق کو یقینی بنانا وغیرہ شامل ہیں۔

سکیورٹی کے محاذ پر حکومت ہند ( جی اوآئی) بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کو سینٹرل آرمڈ پولیس بٹالینز، تربیت اور ریاستی پولیس فورسز کی جدید کاری کے لیے فنڈز، آلات اور ہتھیار، انٹیلی جنس شیئرنگ، قلعہ بند پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر وغیرہ کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد کرتی ہے۔

سکیورٹی سے متعلق اخراجات ( ای آر ای) اسکیم کے تحت سکیورٹی فورسز کے آپریشنل اور تربیتی ضروریات، ہتھیار ڈالنے والے بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی باز آبادکاری، کمیونٹی پولیسنگ، ولیج ڈیفنس کمیٹیوں اور تشہیری مواد وغیرہ کے لیے ریاستوں کے ذریعے کیے جانے والے اخراجات سے متعلق مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 2014-15 سے 2024-25 کی مدت کے دوران 3260.37 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ خصوصی انفراسٹرکچر اسکیم (ایس آئی ایس) کے تحت، ریاستی انٹیلی جنس برانچز (ایس آئی بیز)، اسپیشل فورسز، ڈسٹرکٹ پولیس اور فورٹیفائیڈ پولیس اسٹیشنز (ایف پی ایس) کو مضبوط بنانے کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایس آئی ایس کے تحت 1,741 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ بائیں بازو کے انتہا پسندی کے انتظام کے لیے مرکزی ایجنسیوں کی مدد (اے سی اے ایل ڈبلیو ای ایم) اسکیم کے تحت 221 قلعہ بند پولیس اسٹیشن بنائے گئے ہیں، 1120.32 کروڑ روپے مرکزی ایجنسیوں کو 2014-15 سے 2024-25 کے دوران ہیلی کاپٹروں اور حفاظتی ڈھانچے کے اہم علاقوں میں دئیے گئے ہیں۔

ترقی کی طرف فلیگ شپ اسکیموں کے علاوہ، حکومت ہندوستان  (جی او آئی)  نے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی توسیع، ٹیلی کمیونیکیشن کنکٹی ویٹی کو بہتر بنانے، ہنر مندی اور مالیاتی شمولیت پر خصوصی زور دینے کے ساتھ کئی مخصوص اقدامات کیے ہیں۔

سڑک رابطے کی توسیع کے لیے 14,607 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔

ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں ٹیلی کام کنکٹی وٹی کو بہتر بنانے کے لیے 7,768 ٹاورز کو کام کیا گیا ہے۔

اسکل ڈیولپمنٹ کے حوالہ سے 46 انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ( آئی ٹی آئیز) اور 49  اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر ز(ایس ڈی سی) کو فعال بنایا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں میں معیاری تعلیم کے لیے 178 اکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) کو فعال بنایا گیا ہے۔

مالی شمولیت کے لیے محکمہ ڈاک نے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع میں بینکنگ خدمات کے ساتھ 5731 پوسٹ آفس کھولے ہیں۔ ایل ڈبلیو ای کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 1007 بینک برانچز اور 937 اے ٹی ایم کھولے گئے ہیں اور 37,850 بینکنگ خط و کتابت ( بی سیز) کو آپریشنل کر دیا گیا ہے۔

ترقی  کی  مزید  سرگرمیوں کے لیے خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) کے تحت پبلک انفراسٹرکچر میں اہم خلا کو پر کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ 2017 میں اسکیم کے آغاز کے بعد سے اب تک 3563 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کے نتیجے میں ایل ڈبلیو ای کے تشدد کے واقعات جو 2010 میں 1936 تک اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے، 2024 میں  گھٹ کر 374 رہ گئے یعنی 81 فیصد کی کمی آئی۔ اس عرصے کے دوران اموات کی کل تعداد (شہری + سکیورٹی فورسز) میں بھی 85 فیصد کمی آئی ہے یعنی 2010 میں 1005 اموات سے 2024 میں 150 ہوگئیں۔

 گزشتہ 10  برسوں  کے دوران ایل ڈبلیو ای کے تشدد کے واقعات جو 2014 میں 1091 تھے 2024 میں کم ہو کر 374 ہو گئے یعنی 65.7 فیصد کی کمی۔ اسی عرصے کے دوران اموات کی کل تعداد (شہری + سکیورٹی فورسز) میں بھی 52 فیصد کمی آئی ہے یعنی 2014 میں 310 اموات سے 2024 میں 150 ہوگئیں۔

ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کی تعداد میں بھی واضح کمی آئی ہے۔ ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع اپریل 2018 تک 126 سے کم ہو کر 90 اضلاع، جولائی 2021 تک مزید 70 اور پھر اپریل 2024 تک 38 رہ گئے ہیں۔

یہ بات وزیر مملکت برائے  وزارت داخلہ جناب نتیا نند رائے نے ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔

 *******

ش ح۔ ظ ا

UR No.8426


(Release ID: 2112330) Visitor Counter : 22


Read this release in: Tamil , English , Hindi