وزارتِ تعلیم
جناب دھرمیندر پردھان نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے ادارہ جاتی ترقیاتی منصوبے سے متعلق ورکشاپ کا افتتاح کیا اور یو جی سی کمپینڈیم آف ریگولیشنز (1957-2023) کااجراء کیا
آئی ڈی پی کو آموزگار پر مرکوز اور کثیرموضوعاتی تعلیم کی سہولت فراہم کرانے پر توجہ دینی چاہیے- جناب دھرمیندر پردھان
ہماری تعلیم کو 21ویں صدی کی اُمنگوں کو پورا کرنا چاہیے اور مقامی اور عالمی چیلنجوں کا حل تیارکرنا چاہیے -جناب دھرمیندر پردھان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 SEP 2024 4:29PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے ادارہ جاتی ترقی کے منصوبے پر ایک روزہ ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ انہوں یوجی سی کے تمام قواعد کے واحد، قابل رسائی اور قابل اعتماد ماخذ کے طور پر نے یوجی سی کمپنڈیم آف ریگولیشنز (1957-2023) کا اجراء بھی کیا۔ جناب سنجے مورتی، سکریٹری، محکمہ اعلیٰ تعلیم، وزارت تعلیم؛ ڈاکٹر این ایس کلسی، سابق چیئرمین این سی وی ای ٹی اور آئی ڈی پی رہنما خطوط تیار کرنے کے لیے کام کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین؛ جناب ایم جگدیش کمار، چیئرمین، یو جی سی؛ وائس چانسلرز، نوڈل آفیسرز اور دیگر معززین بھی اس موقع پرموجود تھے۔

جناب دھرمیندر پردھان نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے این ای پی2020 کی بنیادی اقدار اورجذبے کو اپناتے ہوئے وکست بھارت کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے تعلیم کے مقصد اور ڈھانچے کی از سر نو تشریح کرنے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنے، مجموعی داخلوں کے تناسب کو دوگنا کرنے، آبادی کی ایک بڑی اکثریت کو اعلیٰ تعلیم کے دائرے میں لانے، آبادیاتی فائدہ کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے،تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی مہارت کو حاصل کرنے اور جامع اور کلی نقطہ نظر کے ذریعے 5000 اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مہارت کے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے آئندہ لائحہ عمل تیار کرنے میں ایچ ای آئی کے رول کے بارے میں بھی بتایا۔
جناب پردھان نے یہ بھی کہا کہ تعلیم ہندوستان کو ایک صارف معیشت سے پیداواری معیشت بننے کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ جاتی ترقی کے منصوبے کو ہماری وسیع آبادی کی قابلیت کو بڑھانے، آموزگاروں پر مرکوز اور کثیر موضوعاتی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے، اعلیٰ تعلیم میں بھارتیہ بھاشا کو مربوط کرنے، اختراع کو ترجیح دینے، کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اساتذہ کی صلاحیت سازی اور تحقیق و ترقی کے عالمی معیار کو حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کو 21ویں صدی کی اُمنگوں کو پورا کرنا چاہیے اور مقامی اور عالمی چیلنجوں کا حل نکالنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا ہندوستان کے ٹیلنٹ پول کو نئے ماڈلز اور ہمارے دور کے چیلنجوں کے حل کی طرح دیکھتی ہے۔ انہوں نے تعلیمی برادری کو اپنے اداروں کو تشکیل نو کرنے، اعلیٰ تعلیمی منظر نامے کو تبدیل کرنے اور قومی ترجیحات کو حاصل کرنے کے لیےفوکسڈ طریقے اور وقت کی پابندی کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی۔
ورکشاپ کی موزونیت اور اہمیت پر بات کرتے ہوئے جناب کے سنجے مورتی نے اس شاندارمنصوبے کی وضاحت کی ،جسے وزارت تعلیم نے اگلے پچیس سالوں کے وژن کے ساتھ سماجی گروپ کے ایک حصے کے طور پر وزیر اعظم کو پیش کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیے جانے والے زبردست کام کی پشت پناہی کرنے کے لیے ٹیلنٹ اور قابلیت کی ضرورت ہوگی اور اداروں کو ٹیلنٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کی مانگ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کام کے مستقبل پر بھی زور دیا اور کہا کہ آئی ڈی پی کو اداروں کے معیار کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈئی پی کے آغاز سے اداروں کو دنیا کی یونیورسٹیوں کی برابری کرنےمیں بھی مدد ملے گی۔
ورکشاپ کے بارے میں:
ادارہ جاتی ترقیاتی منصوبہ (آئی ڈی پی)پر ورکشاپ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ایک مقام پرلاتی ہے، تاکہ ادارہ جاتی نمو اور ترقی کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ کمپنڈیم آئی ڈی پی کی تیاری اور نفاذ کے سلسلے میں اداروں کے لیے ایک قیمتی ماخذ کے طور پر کام کرے گا۔اس ورکشاپ میں ہندوستان بھر کےاعلیٰ تعلیمی اداروں سے 170 سے زیادہ نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی2020) کے مطابق آئی ڈی پی اداروں کو مستقبل کے لیے تیار تعلیمی نظام کے واسطے اپنے وژن، مشن اور اہداف کو تیار کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔
دو موضوعاتی سیشنز کے ذریعے، شرکاء کو گورننس کے قابل بنانے والوں، مالیاتی منصوبہ بندی اور انتظام، انسانی وسائل اور معاون سہولت فراہم کرنے والوں، نیٹ ورکنگ اور تعاون فراہم کرانے والوں، فزیکل اینبلرز، ڈیجیٹل اینبلرز اور ریسرچ اور دانشورانہ املاک کو فعال کرنے والے، اختراعی فنڈنگ کے ماڈلز اور نصاب تیار کرنے کے بارے میں آموزش کا موقع فراہم کریں گے۔ صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے نامور ماہرین ان اہم شعبوں پر اپنی بصیرت اور تجربات کا اشتراک کریں گے۔
ہر سیشن میں، مختلف یونیورسٹیاں اپنے آئی ڈی پی بنانے کے لیے اپنے بہترین طریقوں کا اشتراک کریں گی۔ ایک الگ سوال و جواب کے سیشن میں چیئرمین یو جی سی، سابق چیئرمین، این سی وی ای ٹی اور پینلز کے مقررین شرکاء کے سوالات کا جواب دیں گے۔
یوجی سی کمپنڈیم کے بارے میں:
تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک واحد حوالہ جاتی ماخذ فراہم کرانے کے لیے یوجی سی نے1957 سے2023 تک کا کمپنڈیم آف آل یوجی سی ریگولیشنز، رولز اینڈ نوٹیفکیشن تیار کیا ہے۔ اس کمپنڈیم میں15 قواعد، 87 ضوابط اور 28 نوٹیفیکیشنز شامل ہیں، جن میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، بشمول معائنہ، گرانٹس کے لیے اداروں کی فٹنس،ریٹرن آف انفارمیشن، بجٹ اور اکاؤنٹس، ادارے، الحاق، خود مختاری، ایکریڈٹیشن، داخلہ اور فیس، ڈگری کی خصوصیات اور دیگر متفرق معاملات۔ کمپنڈیم تمام ریگولیٹری تقاضوں کے لیے وَن اَسٹاپ حوالہ فراہم کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ادارے آسانی سے یوجی سی کے رہنما خطوط تک رسائی اور ان کی تعمیل کرسکیں۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کارروائیوں کو ہموار کرے گا اور باخبر فیصلہ سازی میں تعاون کرے گا،تعمیل اور بہترین طریقوں کا ماحول پیدا کرے گا۔ 1100 سے زیادہ صفحات پر مشتمل یہ کمپنڈیم یو جی سی کی ویب سائٹ پر پی ڈی ایف اور ای بک کی صورت میں دستیاب ہے۔
آئی ڈی پی کے بارے میں:
ادارہ جاتی ترقیاتی منصوبہ (آئی ڈی پی)کے رہنما خطوط یوجی سی نے 6 فروری 2024 کو شروع کیے تھے۔ آئی ڈی پی رہنما خطوط بورڈ کے اراکین، ادارہ جاتی رہنماؤں، فیکلٹی، طلباء اور عملے کی مشترکہ شرکت سے اداروں کو ایک اسٹریٹیجک ادارہ جاتی ترقیاتی منصوبہ بنانے میں مدد کریں گے، جس کی بنیاد پر ادارے ترقی کریں گے، اقدامات کریں، اپنی پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور اس میں طے شدہ اہداف تک پہنچیں۔
ملاحظہ کریں: https://www.ugc.gov.in/pdfnews/1713699_IDP-Guidelines.pdf
******
(ش ح ۔ ا گ ۔ن ع(
U.No 10539
(ریلیز آئی ڈی: 2051887)
وزیٹر کاؤنٹر : 95