صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدرِ جمہوریہ ہند نے رشی کیش میں ایمس کے چوتھے کنووکیشن میں شرکت کی
میڈیسن سے متعلق قومی، علاقائی اور مقامی مسائل کی تحقیق اور ان کا حل ایمس رشی کیش جیسے اداروں کی ترجیح ہونی چاہیے: صدر جمہوریہ مرمو
Posted On:
23 APR 2024 7:25PM by PIB Delhi
صدرِ جمہوریہ ٔ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (23 اپریل ، 2024 ء ) کو اترا کھنڈ میں رشی کیش کے ایمس کے چوتھے کنووکیشن میں شرکت کی ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ، صدر جمہوریہ نے کہا کہ طب کے شعبے میں عالمی سطح کی تعلیم اور خدمات فراہم کرنا ایمس رشی کیش سمیت تمام ایمس کی ایک عظیم قومی کامیابی ہے۔ تمام ایمس بہترین اور سستے علاج فراہم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بہت سے ایمس ، اس مقصد کے ساتھ قائم کیے جا رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ، ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور زیادہ سے زیادہ ہونہار طلباء ایمس میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ایمس رشی کیش میں 60 فی صد سے زیادہ طلباء کی تعداد لڑکیوں کی ہیں ، صدر جمہوریہ نے کہا کہ پالیسی سازی سے لے کر بنیادی سطح کی صحت کی دیکھ بھال تک کے شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ایک بہت بڑی اور مثبت سماجی تبدیلی کی تصویر پیش کرتی ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ سماج کے مفاد میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ایمس رشی کیش جیسے اداروں کی ترجیح ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایمس رشی کیش سی اے آر – ٹی – سیل تھیراپی اور اسٹیم سیل ریسرچ کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس ادارے پر زور دیا کہ وہ ایسے شعبوں میں تعاون کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا کردار تشخیص اور علاج میں فروغ پاتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر یقین ظاہر کیا کہ ایمس رشی کیش کے ذریعہ ، ان تبدیلیوں کو تیزی سے موثر استعمال میں لایا جائے گا۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ اتراکھنڈ میں سورج کی روشنی کی کمی اور مقامی کھانے کی عادات کی وجہ سے لوگ بالخصوص خواتین آسٹیوپوروسس اور خون کی کمی جیسی بیماریوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طب کے اس دور میں بھی طب سے متعلق قومی، علاقائی اور مقامی مسائل کی تحقیق اور ان کا حل ایمس رشی کیش جیسے اداروں کی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے ایمس رشی کیش پر زور دیا کہ وہ صحت عامہ اور کمیونٹی کی مصروفیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ادارہ ’ صحت مند بھارت ‘ اور ’ ترقی یافتہ بھارت ‘ کی تعمیر میں اپنا تعاون فراہم کر سکے گا ۔

Please click here to see the President's Speech -
………………………………………
ش ح ۔ و ا ۔ ع ا
U.No. 6626
(Release ID: 2018658)
Visitor Counter : 82