امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

زراعت،2047 تک ملک کو ’وکست بھارت‘بنانے میں کلیدی رول ادا کرے گی:جناب پیوش گوئل


جناب گوئل نے کسانوں کے گودام کی رسد کو آسان بنانے کے لیے’ای-کسان اُپج نِدھی‘ کا آغاز کیا

ڈبلیو ڈی آر اے کے رجسٹرڈ گوداموں میں سیکورٹی ڈپازٹ چارجز جلد ہی 3فیصد سے کم کر کے 1فیصد کردیے جائیں گے:جناب گوئل

’ای کسان اُپج نِدھی‘ کسانوں کی بحرانی فروخت کو روکنے کے لیے ہے:جناب گوئل

Posted On: 04 MAR 2024 5:23PM by PIB Delhi

امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم نظام، تجارت، صنعت اور ٹیکسٹائل کےمرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا کہ زراعت کا شعبہ 2047 تک ملک کو ’وکست بھارت‘ بننے کی طرف لے جانے والا بنیادی ستون ہوگا۔ ویئر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(ڈبلیو ڈی آر اے) کا ای-کسان اُپج ندھی(ڈیجیٹل گیٹ وے) کا آج نئی دہلی میں آغاز کرتے ہوئے  وزیر موصوف نے کروڑوں ہندوستانیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کسانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ‘ای کسان اُپج ندھی‘ پہل ٹیکنالوجی کی مدد سے کسانوں کے گودام کی رسد میں آسانی ہوگی اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

جناب پیوش گوئل نے اعلان کیا کہ ڈبلیو ڈی آر اے کے رجسٹرڈ گوداموں پر سیکورٹی ڈپازٹ چارجز کو جلد ہی کم کر دیا جائے گا، تاکہ مزید کسانوں، خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو گوداموں کا استعمال کرنے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان گوداموں میں اپنی پیداوار ذخیرہ کرنے والے کسانوں کو پہلے 3 فیصد کی بجائے اب صرف 1 فیصد سیکورٹی ڈپازٹ ادا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

جناب گوئل نے کہا’’ڈیجیٹل گیٹ وے پہل کاشتکاری کو پرکشش بنانے کی ہماری کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کو بھی اُجاگر کیا کہ’ای-کسان اُپج ندھی‘ بغیر کسی ضمانت کے، اضافی سیکورٹی ڈپازٹ پالیسی کسانوں کی بحرانی فروخت کو روک سکتی ہے، جنہیں فصل کے بعد ذخیرہ کرنے کے ناقص مواقع کی وجہ سے اکثر اپنی پوری فصل سستے داموں فروخت کرنی پڑتی ہے۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ڈبلیو ڈی آر اے کے تحت گوداموں کی اچھی طرح نگرانی کی جاتی ہے، اعلیٰ درجہ بندی کی جاتی ہے اور وہ بنیادی ڈھانچے سے لیس ہوتے ہیں جو زرعی پیداوار کی حفاظت کرتے ہیں اور کسانوں کی فلاح و بہبود کا باعث بھی بنتے ہیں۔ وزیر موصوف نے ڈبلیو ڈی آر اے کے تحت ریاستوں میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا(ایف سی آئی)کے زیر استعمال گوداموں کی لازمی رجسٹریشن اور ریاستی گوداموں کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر زور دیا۔

’’ای-کسان اُپج ندھی‘‘ پلیٹ فارم کی وضاحت کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ اس کے آسان ڈیجیٹل عمل کے ساتھ پہل کسانوں کے ذریعے کسی بھی رجسٹرڈ ڈبلیو ڈی آر اے گودام میں 6 ماہ کی مدت کے لیے7 فیصد سالانہ سود پر ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنا سکتی ہے۔ وزیر  موصوف نے گودام رجسٹریشن کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ڈبلیو ڈی آر اے کے اقدام کی ستائش کی، جس میں سال بہ سال نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پورٹل پر رجسٹریشن کے لیےایک لاکھ گوداموں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 1500 گودام رجسٹرڈ ہوئے تھے۔

وزیرموصوف نے اس بات پر زور دیا کہ’ای-کسان اپج ندھی‘ اور ای-نام کے ساتھ، کسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بازار کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے انہیں اپنی پیداوار حکومت کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)پر فروخت کرنے سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس پی کے ذریعے حکومت کی خریداری میں گزشتہ دہائی کے دوران 2.5 گنا اضافہ ہوا ہے۔

وزیرموصوف نے دنیا کی سب سے بڑی کوآپریٹو فوڈ گرین اسٹوریج اسکیم کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈبلیو ڈی آر اے پر زور دیا کہ وہ کوآپریٹو سیکٹر کے تحت تمام گوداموں کی مفت رجسٹریشن فراہم کرنے کی تجویز کی منصوبہ بندی کرے۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر کے گوداموں کی مدد کرنے کے اقدام سے کسانوں کو اپنی پیداوار کو ڈبلیو ڈی آر اے کی سہولیات میں ذخیرہ کرنے سے زبردست فائدہ ہوگا ، جس سے وہ اپنی فصلوں کی فروخت مناسب قیمت پر کر سکیں گے۔

 

************

 

ش ح۔ج ق۔ن ع

U. No.5654



(Release ID: 2011327) Visitor Counter : 80


Read this release in: Tamil , English , Hindi , Bengali-TR