تعاون کی وزارت

مرکزی وزیر داخلہ  اور امداد باہمی  کے وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں ‘پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی کیندر ’کے آپریشن کے لیے 5 ریاستوں کے پی اے سی ایس کو اسٹور کوڈ تقسیم کرنے کے پروگرام سے خطاب کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جنرک ادویات کے نظام کو ہموار کیا اور بھارتیہ جن اوشدھی کیندر کے ذریعے 60 کروڑ غریب لوگوں کو دوائیں دستیاب کرائیں

جناب نریندر مودی کی گارنٹی  کو پورا کرنے کے لیے، ملک کے 2373 پی اے سی ایس  جن اوشدھی کیندر کے طور پر قائم کیے جا رہے ہیں

اب پی اے سی ایس  کے ذریعے دیہی علاقوں کے غریبوں اور کسانوں کو سستی اور معیاری ادویات دستیاب ہوں گی

امداد باہمی  اور صحت کا یہ انضمام  خوشحالی اور اچھی صحت کی انضمام  ہے

امداد باہمی کا خاکہ  پی اے سی ایس کے بغیر نہیں بن سکتا،امداد باہمی کی  وزارت 2 لاکھ نئے پی اے سی ایس بنائے گی اور ہر پنچایت کو پی اے سی ایس فراہم کرے گی

ہمیں 2047 تک تعاون کے ذریعے غریب سے غریب کو خوشحال بنانے کے جناب  نریندر مودی کے خواب کو پورا کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، ملک کے غریبوں نے بھارتیہ جن اوشدھی کیندروں کے ذریعے 25,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت کی ہے

پی اے سی ایس  کے پاس اگلے 3 سالوں میں دنیا کی سب سے بڑی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی

فی الحال، 28 ہزار پی اے سی ایس ، سی ایس سی  کے طور پر کام کر رہے ہیں، عوام کو حکومت ہند کی 300 سے زیادہ خدمات فراہم کر رہے ہیں

آیوش، قدرتی کاشتکاری اور نامیاتی مصنوعات کے انضمام سے   جناب نریندر مودی نے دنیا کو بغیر دوا کے زندگی گزارنے کا ایک نیا بھارتی ماڈل دیا ہے

Posted On: 08 JAN 2024 5:07PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر داخلہ   اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں 5 ریاستوں کے پی اے سی ایس کو پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی کیندر کے آپریشن کے لیے اسٹور کوڈز کی تقسیم کے پروگرام سے خطاب کیا۔ صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکل اور کھاد کے مرکزی وزیر جناب منسکھ مانڈویہ ، امداد باہمی  کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما اور دیگر کئی معززین اس موقع پر موجود تھے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001BOF6.jpg

 

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس ) کو دوسرے کاموں سے جوڑ کر مالی طور پر مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آج اس مقصد کو وسعت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 2373 پی اے سی ایس سستی ادویات کی دکانوں یعنی جن اوشدھی کیندروں کے طور پر قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ قدم وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی طرف سے دی گئی گارنٹی  کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اوشدھی کیندر زیادہ تر شہری علاقوں میں قائم ہیں، جس کی وجہ سے صرف شہر کے غریبوں کو ہی ان کا فائدہ ملتا تھا اور انہیں 10 سے 30 روپے تک سستی دوائیں ملتی تھیں، لیکن اب پی اے سی ایس کے ذریعے سستی دوائیں  دیہی علاقوں کے غریبوں اور کسانوں کے لیے بھی دستیاب  ہیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002OSC4.jpg

 

مرکزی وزیر داخلہ اور امدادباہمی  کے وزیر نے کہا کہ برسوں سے، بھارت فارمیسی کے شعبہ  میں دنیا میں ایک رہنما رہا ہے اور پچھلے 10 سالوں میں، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے فارمیسی کے شعبے میں بہت سی اصلاحات کی ہیں اور آج بھارت پوری دنیا میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کا ایک قابل اعتماد پروڈیوسر بن گیا ہے۔ لیکن ایک ستم ظریفی یہ تھی کہ پوری دنیا کو دوائیاں بھیجنے والے بھارت میں 60 کروڑ لوگوں کو دوائیں نہیں مل سکیں کیونکہ وہ ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سے دوائیاں نہیں خرید پا رہے تھے۔ لیکن وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جن اوشدھی کیندر کے آئیڈیا کو آگے بڑھایا اور جنرک ادویات کے نظام کو ہموار کرتے ہوئے ایک ایسا پروگرام بنایا کہ ہر غریب کو 8 فیصد سے 30 فیصد کی قیمت پر دوائیں مل سکیں۔ اس سے دیہی علاقوں میں صحت کے شعبے میں بہت بہتری آئی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003OETS.jpg

 

جناب امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ نو سالوں میں جن اوشدھی کیندروں کے ذریعے ملک کے غریبوں کے تقریباً 25,000 کروڑ روپے بچائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کوآپریٹو سیکٹر کے ذریعے دیہی علاقوں میں جن اوشدھی کیندروں کی رسائی بڑھنے والی ہے اور آنے والے دنوں میں دیہی غریبوں کو سستی قیمتوں پر معیاری ادویات دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کوآپریٹو سیکٹر اس اقدام میں میڈیم بننے جا رہا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004KCF7.jpg

 

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی  کے وزیر نے کہا کہ امداد باہمی  اور صحت کا یہ انضمام  خوشحالی اور اچھی صحت کا انضمام  ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کئی ریاستوں میں کوآپریٹو سیکٹر کے ذریعے پی اے سی ایس  شروع کیا گیا ہے اور گجرات، جموں و کشمیر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں میں تقریباً 2300 بنیادی کوآپریٹو سوسائٹیاں  دیہی علاقوں میں سستی ادویات فراہم کر رہی ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ملک کے مختلف حصوں سے پانچ پی اے سی ایس کو علامتی سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے ہیں جن میں مہاراشٹر، بہار، جموں کشمیر، اتر پردیش اور آندھرا پردیش شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امداد باہمی  کی وزارت نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی کامیاب قیادت میں کوآپریٹیو کی توسیع کے لیے کافی کام کیا ہے۔ اس کے تحت امداد باہمی  کی وزارت نے کوآپریٹیو کی رسائی میں اضافہ کیا ہے اور 56 کوآپریٹیو کے ذریعے وزارت نے غریبوں میں خوشحالی لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادباہمی  کی وزارت نے اگلے 5 سالوں میں 2 لاکھ نئے پی اے سی ایس بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور ملک کے ہر گاؤں کی ہر پنچایت میں ایک پی اے سی ایس ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہمیں 2047 تک تعاون کے ذریعے غریب سے غریب کو خوشحال بنانے کے جناب نریندر مودی کے خواب کو پورا کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ اور امدادباہمی  کے وزیر نے کہا کہ پی اے سی ایس کی بنیاد کے بغیر امداد باہمی کا خاکہ  تیار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب وزارت نے 2 لاکھ نئے پی اے سی ایس بنانے کا فیصلہ کیا تو اس پر بحث ہوئی کہ تحریک کیوں پیچھے رہ گئی اور پی اے سی ایس کو کیوں بند کیا گیا۔ اس کے  تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ پی اے سی ایس کے ضمنی قوانین میں زرعی کریڈٹ کے علاوہ کسی بھی کام کو شامل کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اس لیے ہم نے سب سے پہلے ماڈل بائی لاز تیار کیا اور اسے تمام ریاستوں کو بھیجا اور اس پر وسیع بحث کی۔ آج ملک کے تمام پی اے سی ایس نے ماڈل بائی لاز کو اپنا لیا ہے۔ نئے پی اے سی ایس بھی ماڈل بائی لاز کے تحت رجسٹر کیے جا رہے ہیں۔

جناب شاہ نے کہا کہ پہلے بڑے پی اے سی ایس بڑے پیمانے پر کریڈٹ ایجنسیوں کا کام کرتے تھے، لیکن اب پی اے سی ایس کو مائیکرو اے ٹی ایم اور کسان کریڈٹ کارڈ کے کام سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ اب پی اے سی ایس میں مویشی پروری کے فروغ کے مراکز اور سی ایس سی بھی کھولے جا سکتے ہیں اور ریلوے ٹکٹ بھی بک کرائے جا سکتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی  کے وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ ایل پی جی ڈیلرشپ کے لیے بھی پی اے سی ایس کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیٹرول پمپس کے کام میں جو بھی رکاوٹیں تھیں وزارت پیٹرولیم نے دور کردی ہے۔ اب پی اے سی ایس پیٹرول پمپ بھی چلا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 27 ریاستوں نے پی اے سی ایس کو ہر گھر کے لیے ’ہر گھر نل سے جل’ مہم کو منظم کرنے کا اختیار بھی دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی اے سی ایس سستی ادویات کی دکانیں اور راشن کی دکانیں بھی چلا سکے گا۔ آج 35000 پی اے سی ایس ملک میں کھادوں کی تقسیم میں شامل ہیں۔ ہم نے نئے بائی لاز کے تحت 22 مختلف قسم کے کام شامل کیے ہیں جس کی وجہ سے اب پی اے سی ایس بند نہیں ہو سکتے اور انہیں بھاری منافع ملے گا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی طرف سے فراہم کردہ ‘پرائم منسٹر اسٹوریج’ کی سہولت کے ساتھ، پی اے سی ایس اب بہت کم سرمائے کے ساتھ ایک جدید گودام بنا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ نہ صرف اپنی تحصیل اور ریاست کے دھان اور گندم کو ذخیرہ کرنے کا مرکز بن جائے گا بلکہ کسانوں کو اپنی پیداوار کو کچھ وقت کے لیے وہاں رکھنے کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں ملک کے پی اے سی ایس کے پاس دنیا کی سب سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی  کے وزیر نے کہا کہ 6 ماہ کے عرصے میں 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 4470 پی اے سی ایس درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 2373 کو مکمل طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے 248 پی اے سی ایس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے چیلنجز کے باوجود پی اے سی ایس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی کاروبار کر سکتے ہیں۔

جناب شاہ نے کہا کہ امدادباہمی  کی وزارت کے سکریٹری کی قیادت میں فارمیسی کونسل آف انڈیا، تمام ریاستوں کی فارمیسی کونسل اور تمام ریاستی حکومتوں کے ساتھ ‘جن اوشدھی کیندر’ کے سلسلے میں کئی دور کی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ 40 فیلڈ افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو پی اے سی ایس کو آسانی سے چلانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی ایس کے لیے بہت سی اصلاحات کی گئی ہیں۔ پی اے سی ایس کے 84000 ماڈل بائی لاز کو اپنایا گیا ہے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے پی اے سی ایس کے کمپیوٹرائزیشن کے لیے 2516 کروڑ روپے دیے ہیں، جس کے ذریعے تمام پی اے سی ایس 20 نئی قسم کے کام کریں گے۔ 62000 پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائز کرنے کا کام شروع ہو چکا ہے، 10080 پی اے سی ایس میں ٹرائلز جاری ہیں اور 1800 پی اے سی ایس کو مکمل طور پر کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال 28 ہزار پی اے سی ایس، سی ایس سی کے طور پر کام کر رہے ہیں، عوام کو حکومت ہند کی 300 سے زیادہ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

امداد باہمی  کے وزیر جناب شاہ نے میگا سیمینار میں آنے والے پی اے سی ایس کے تمام نمائندوں سے ضابطہ اخلاق پر احتیاط سے عمل کرنے کی اپیل کی۔ امداد باہمی  کی وزارت، حکومت ہند کی ہر اسکیم کو اس کی ویب سائٹ پر جا کر پڑھیں، اور اس طرح آگے بڑھیں کہ ہر پی اے سی ایس آپ کے گاؤں میں توانائی اور ترقی کا مرکز بن جائے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے لوگوں کی صحت کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں۔ آیوشمان بھارت یوجنا جیسی کوئی اسکیم دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ اس کے تحت حکومت ہند 60 کروڑ لوگوں کے 5 لاکھ روپے تک کے علاج کا سارا خرچ برداشت کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشن اندرا دھنش 130 کروڑ کی آبادی میں ہر بچے کو ہر قسم کے ٹیکے فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ جل جیون مشن کے ذریعے ہر گھر کو فلورائیڈ سے پاک پینے کا پانی فراہم کرنے کا منصوبہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ یوگا، آیوش، فٹ انڈیا جیسے کئی پروگراموں کے ذریعے صفائی اور صحت کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ ہر گھر میں بیت الخلاء کا انتظام کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی  کے وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تینوں آیوش، قدرتی کھیتی اور نامیاتی مصنوعات کو ملا کر دنیا کو بغیر دوا کے زندگی گزارنے کا ایک نیا بھارتی ماڈل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں ملک کا صحت کا بجٹ 33000 کروڑ روپے تھا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اسے بڑھا کر 90000 کروڑ روپے کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی صحت پر فی کس اخراجات 1000 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ہو گئے ہیں۔ ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر پر 200 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ اس سے قبل اس طرح کی کوئی رقم مختص نہیں تھی۔

جناب شاہ نے کہا کہ پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا، آیوشمان یوجنا، پردھان منتری ہیلتھ انفراسٹرکچر یوجنا، پردھان منتری سواستھیا بیمہ  یوجنا، قومی صحت مشن، ملیریا فری انڈیا، یونیورسل ویکسینیشن کے لیے مشن اندرا دھنش، ٹی بی کے خاتمے کا پروگرام،مار وندنا یوجنا، جن نی سرکشا یوجنا، قومی دماغی صحت پروگرام، فٹ انڈیا، کھیلو انڈیا اور ڈائیلاسز پروگرام جیسے کئی پروگراموں کا نیٹ ورک بنا کر  وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے غریبوں، خاص کر بچوں اور نوعمروں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردھان منتری جن اوشدھی یوجنا کے تحت آج جن اوشدھی مراکز کی تعداد 10,000 سے زیادہ ہو گئی ہے، جن میں 2260 سے زیادہ ادویات اور آلات دستیاب ہیں۔

امداد باہمی  کے وزیر نے کہا کہ ہندوستان جنرک ادویات، ویکسین اور سستی ایچ آئی وی ادویات کی فراہمی میں دنیا کے فارما سیکٹر میں پہلے نمبر پر ہے۔ ہم فارما اور بائیوٹیک پیشہ ور افراد  تیار  کرنے میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ادویات کی مجموعی پیداوار میں ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سال 2047 تک ہندوستان تمام شعبوں میں دنیا میں نمبر ایک بن جائے گا اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا ‘آتم نیر بھر بھارت’  کا خواب پورا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھارت دنیا کو 90145 کروڑ روپے کی ادویات برآمد کرتا تھا، لیکن اب وہ 183000 کروڑ روپے کی ادویات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہت سے ممالک ویکسین بنانے کے قابل نہیں تھے لیکن وزیر اعظم کی قیادت میں ہمارے سائنسدانوں نے نہ صرف ویکسین تیار کی بلکہ ملک کے ہر گاؤں میں غریب سے غریب ترین افراد تک بھی  ویکسین اور سرٹیفکیٹ پہنچائے  جس نے انہیں کورونا سے محفوظ رکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ ا م۔

U- 3386



(Release ID: 1994303) Visitor Counter : 52


Read this release in: English , Marathi , Telugu