بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

جناب نارائن رانے نے آ ر اے پی ایم پروگرام کے تحت ایم ایس ایم ای گرین انویسٹمنٹ اینڈ فنانسنگ فار ٹرانسفارمیشن اسکیم (ایم ایس ای گفٹ اسکیم)، ایم ایس ای اسکیم برائے فروغ اور مدور معیشت  میں سرمایہ کاری (ایم ایس ای  اسپائس اسکیم) اور تاخیر سے ادائیگیوں کے لیے آن لائن آن لائن تنازعات کے حل میں ایم ایس ای اسکیم ،تین ذیلی اسکیمیں شروع کیں


زیڈ ای ڈی اسکیم خواتین کی قیادت والی ایم ایس ایم ایز کے لیے مکمل طور پر مفت بنائی گئی ہے

Posted On: 20 DEC 2023 5:50PM by PIB Delhi

ایم ایس ایم ای کے مرکزی وزیر جناب نارائن رانے نے آج آر اے ایم پی پروگرام کے تحت تین ذیلی اسکیموں کا آغاز کیا۔ یہ ہیں ذیلی ایم ایس ایم ای گرین انویسٹمنٹ اینڈ فنانسنگ فار ٹرانسفارمیشن اسکیم (ایم ایس ای گفٹ اسکیم)، ایم ایس ای اسکیم برائے فروغ اور مدور معیشت  میں سرمایہ کاری (ایم ایس ای  اسپائس اسکیم) اور تاخیر سے ادائیگیوں کے لیے آن لائن آن لائن تنازعات کے حل میں ایم ایس ای اسکیم۔


 

پہلی اسکیم  ایم ایس ایم ای گرین انویسٹمنٹ اینڈ فنانسنگ فار ٹرانسفارمیشن اسکیم (ایم ایس ایم ای گفٹ اسکیم) سود کی امداد اور کریڈٹ گارنٹی سپورٹ کے ساتھ گرین ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ایم ایس ایم ای کی  مدد کرنے کے لیے ہے۔

مدور معیشت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے ایم ایس ای اسکیم (ایم ایس ای اسپائس اسکیم)  حکومت کی پہلی ایسی اسکیم ہے جو مدور معیشت              کےپروجیکٹوں کو سپورٹ کرنے کے لیے  ہے جسے کریڈٹ سبسڈی کے ذریعے انجام دیا جائے گا اور یہ 2070 تک ایم ایس ایم ای سیکٹر کے کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کے  خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گی۔

 

 

تاخیرسے ہونے والی ادائیگیوں کے لیے آن لائن تنازعات کے حل پر ایم ایس ای اسکیم اپنی نوعیت کی پہلی ایسی اسکیم ہے جو مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز کے لیے ادائیگیوں میں تاخیر کے معاملات کو دور کرنے کے لیے جدید آئی ٹی  ٹولز اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ قانونی مدد کو مربوط کرتی ہے۔

مذکورہ وزارت ایم ایس ایم ایز کو بہتر تعاون فراہم کرنے کے لیے موجودہ اسکیموں کے تحت نئے اقدامات بھی کر رہی ہے۔ آئی پی پروگرام کی کمرشیلائزیشن کے لیے سپورٹ (ایم ایس ایم- ایس سی آئی پی پروگرام) ایم ایس ایم ای سیکٹر میں اختراع کرنے والوں کو اپنے آئی پی آر کو کمرشیلائز کرنے کے قابل بنائے گا۔ اس کے علاوہوزارت کی زیڈ ای ڈی اسکیم کو اب خواتین کی قیادت والے ایم ایس ایم ایزکے لیے مکمل طور پر مفت کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سرٹیفیکیشن لاگت کے لیے 100 فیصد مالی امداد کی ادائیگی کی ضمانت دیتی ہے۔ مرکزی وزیر نے یہ دونوں اسکیمیں شروع کی ہیں۔

وزارت نے نفاذ کرنے والی ایجنسیوں ایس آئی ڈی بی آئی (ایم ایس ایم ای گفٹ اور ایم ایس ایم ای اسپائس اسکیموں   کےلیے) اور ایم ایس ای، او ڈی آر اسکیم کے لیے نیشنل انفارمیٹکس سینٹر سروسز انکارپوریشن ( این آئی سی ایس آئی )کے ساتھ مفاہمت کےاقرارناموں کا تبادلہ کیا۔

 


 

نیشنل ایم ایس ایم ای کونسل کی دوسری میٹنگ بھی جناب نارائن رانے کی صدارت میں  منعقد ہوئی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تمام ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا کہ وہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ اور ترقی کے لیے کام کریں تاکہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اس شعبے میں آمدنی اور روزگار میں اضافہ ہو اور ملک کی اقتصادی ترقی میں تعاون حاصل ہو سکے۔

ایم ایس ایم ای کے مرکزی وزیر مملکت جناب بھانو پرتاپ سنگھ ورما نے بھی اس موقع پر نیشنل  ایم ایس ایم ای کونسل کے وائس چیئرپرسن کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر مسابقتی بننے میں ایم ایس ایم ایزکی مدد کی ضرورت کا اعادہ کیا  اور مرکزی اور ریاستی سطح کے اقدامات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایم ایس ایم ای کی وزارت کے سکریٹری جناب ایس سی ایل داس نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ایم ایس ایم ای کی وزارت کے اقدامات کا فائدہ حاصل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکیموں کے فوائد ایم ایس ایم ای کے ذریعہ حاصل کیے جائیں اور اس میں تعاون کریں۔ آر اے ایم پی پروگرام کی کامیابی کی سمت اور ملک میں ایم ایس ایم ای ترقی کے نیشنل  ایم ایس ایم ای ایجنڈے کو حاصل کرنے میں اپنا تعاون دیں۔

میٹنگ میں مرکزی وزارتوں/محکموں کے سکریٹریز اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے پرنسپل سکریٹریز اور نوڈل آفیسرز (مجاز افسران) ، ایس آئی ڈی بی آئی کے سی ایم ڈیز اور این آئی سی ایس آئی، او این ڈی سی کے سی ای او کے ساتھ ساتھ دیگر معززحضرات نے  بھی شرکت کی۔

وزارت کی طرف سے قومی ایم ایس ایم ای کونسل قائم کی گئی ہے جو عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے آر اے ایم پی پروگرام کے ایک انتظامی اور فعال ادارے کے طور پر کام کرتی ہے تاکہ بین مرکزی وزارتی/محکمہ جاتی رابطہ کاری، مرکز ریاستی ہم آہنگی کی نگرانی کی جا سکے نیز لازمی اصلاحات پر پیش رفت کی نگرانی پر مشورہ دیا جاسکے۔ ایم ایس ایم ای سیکٹر میں آر اے ایم پی  پروگرام کا مقصد مارکیٹ اور کریڈٹ تک رسائی کو بہتر بنانا، مرکز اور ریاست میں اداروں اور حکمرانی  کو مضبوط کرنا، مرکزریاست روابط اور شراکت داری کو بہتر بنانا، ادائیگیوں میں تاخیر سے متعلق مسائل کو حل کرنا اور ایم ایس ایم ایزکو سب کے لیے موافق بنانا ہے۔

....................................

 

ش ح۔ ش م   ۔ ع ر

 (U: 2772 )



(Release ID: 1989036) Visitor Counter : 68


Read this release in: English , Marathi , Telugu