زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے محترم کارلوس فیورو کی قیادت والے برازیلی وفد سے بات چیت کی
دونوں ممالک کے درمیان باہمی زرعی تجارت پروان چڑھ ہے اور خوراک ڈبہ بندی، زرعی صنعت، زرعی تحقیق و ترقی میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے: شوبھا کرندلاجے
زراعت اور مویشی پالن میں بہتر تال میل کے لیے بین وزارتی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا
Posted On:
02 NOV 2023 6:29PM by PIB Delhi
زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے نے آج برازیل کے زرعی، مویشی پالن اور خوراک سپلائی کے وزیر جناب کارلوس فیورو کی قیادت والے وفد کے ساتھ گفت و شنید کی۔ شروعات میں، کرندلاجے نے جناب کارلوس فیورو کا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا۔

وزیر مملکت کرندلاجے نے جی20 زرعی ورکنگ گروپ کی میٹنگوں کے دوران بھارتی صدارت کی حمایت کرنے کے لیے برازیل کا شکریہ ادا کیا اور حیدرآباد میں جی20 وزراعت کی میٹنگ میں برازیل کے وزیر کے حصہ نہ لے پانے پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اس سفر سے زراعت کے شعبے میں بھارت –برازیل کے افزوں تعاون کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی زرعی تجارت پروان چڑھ رہی ہے اور خوراک ڈبہ بندی، زرعی صنعت اور زرعی تحقیق و ترقی میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

محترمہ شوبھا کرندلاجے نے مزید کہا کہ بھارت میں ایووکاڈو کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بھارت کو برازیل سے ایووکاڈو درآمد کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بھارت جی 20 کی کامیاب صدارت کے لیے برازیل کو بھی اپنا مکمل تعاون دے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی ظاہر کی کہ برازیل ایک ٹاسک فورس ’بھک مری اور ناداری کے خلاف عامی اتحاد‘ تشکیل دے رہا ہے، جو خوراک سلامتی اور غذائیت پر بھارتی صدارت کے دکن اعلیٰ سطحی اصولوں کے ساتھ اس ٹاسک فورس سے ہم آہنگ ہے۔
جناب کارلوس فیورو نے دوستانہ خیرمقدم کے لیے بھارت کا شکریہ ادا کیا اور صدر لولا کی جانب سے گرمجوشانہ مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ برکس ڈھانچے کے اندر تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے برازیل کی مضبوط عہدبندگی کو اجاگر کیا۔ برازیل ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ماحولیات سے متعلق خدشات کو بین الاقوامی تجارت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ برازیل نے جنگلات کی کٹائی یا ماحولیات کو نقصان پہنچائے بغیر خوراک پیداوار میں اضافے اور زرعی شعبے کی توسیع کے اپنے ارادے واضح کیے۔
جناب کارلوس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برازیل اور بھارت کو زرعی شعبے میں یکساں چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے دونوں ممالک ان چنوتیوں کو کم کرنے کے لیے معیاری متبادل تلاش کر سکتے ہیں۔ بھک مری کے خلاف نبردآزمائی برازیل کے لیے اولین ترجیح ہے، اور انہوں نے بھک مری سے لڑنے کے لیے تکنالوجی کی منتقلی، علم ساجھا کرنے اور بھارت کے ساتھ امدادِ باہمی کی کوششوں کے توسط سے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔
برازیل کو بھارت کے خصوصی مفادات اور مطالبات موصول ہونے کی امید ہے، جنہیں دونوں ممالک کے ذریعہ ادارہ جاتی سطح پر حل کیا جا سکتا ہے۔ مختلف زرعی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی کھولنے اور تجارت میں سہولتیں پیدا کرنے کے لیے صفائی ستھرائی اور فائٹو سینٹری (ایس پی ایس) سے متعلق بات چیت میں تیزی لانے کی برازیل کی خواہش کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے پر روشنی ڈالی گئی۔ برازیل کے وفد نے آئندہ 2024 جی20 صدارتی تقریب کے لیے بھارت کو سرکاری طور پر مدعو کیا۔
برازیل کے وفد کے دیگر اراکین نے پھل پیداوار میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے باغبانی کے شعبے میں ڈرپ پر مبنی آبپاشی کے استعمال سمیت اپنے بہترین زرعی طور طریقوں کے بارے میں معلومات ساجھا کی۔
ایپکس برازیل کے صدر نے بتایا کہ بھارت اور برازیل کے مابین موجودہ تجارتی تعلقات کو دونوں ممالک کی صلاحیت کے مطابق ہونا چاہئے۔ ایپکس برازیل دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش رہا ہے، اور زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت نے اپنی معلومات فراہم کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔
سیشن کا اختتام کرتے ہوئے ، زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے محکمے کے سکریٹری نے بہتر تال میل کے لیے زراعت اور مویشی پالن کے لیے وقف ایک بین وزارتی جوائنٹ ورکنگ گروپ کی تشکیل کا اعلان کیا۔ بھارت شراکت داروں کی شناخت کرنے کے لیے مضبوط جنوب -جنوب تعاون اور تجارتی تعلقات میں یقین رکھتا ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن۔ م ف)
U.No:614
(Release ID: 1974335)
Visitor Counter : 117