جل شکتی وزارت

جل شکتی کی وزارت نے چھوٹی آبپاشی (ایم آئی) اسکیموں پر اعدادوشمارسے متعلق چھٹی  رپورٹ جاری کی


23.14 ملین ایم آئی اسکیموں میں سے 21.93 ملین (94.8فیصد) زمینی پانی اور 1.21 ملین (5.2فیصد) سطحی پانی کی اسکیمیں ہیں

اتر پردیش  میں ایم آئی اسکیموں کی سب سے بڑی تعدادہے ، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو ریاستیں ہیں

Posted On: 26 AUG 2023 4:34PM by PIB Delhi

جل شکتی کی وزارت، آبی وسائل، دریا کے فروغ  اور گنگا کی احیاء کے محکمے نے آج چھوٹی آبپاشی اسکیموں پر اعداد وشمارسے متعلق چھٹی  رپورٹ جاری کی۔مذکورہ  رپورٹ کے مطابق، ملک میں 23.14 ملین چھوٹی آبپاشی (ایم آئی) اسکیمیں درج کی گئی ہیں، جن میں سے 21.93 ملین (94.8فیصد) زمینی پانی (جی ڈبلیو) اور 1.21 ملین (5.2فیصد) سطحی پانی (ایس ڈبلیو) اسکیمیں ہیں۔ اتر پردیش کے پاس ملک میں سب سے زیادہ ایم آئی اسکیمیں ہیں، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو ریاستیں ہیں۔ جی ڈبلیو اسکیموں میں سرکردہ ریاستوں  میں جن ریاستوں کے نام شامل ہیں وہ ہیں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، تمل ناڈو اور تلنگانہ۔ ایس ڈبلیو اسکیموں میں مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ جی ڈبلیو اسکیموں میں ڈگ ویل،کم گہرائی والے  ٹیوب ویل، درمیانی گہرائی والے  ٹیوب ویل اور گہرائی والے  ٹیوب ویل شامل ہیں۔ ایس ڈبلیو اسکیمیں سرفیس فلواورسرفیس  لفٹ اسکیموں پر مشتمل ہیں۔

5ویں اعداد شمار کے مقابلے چھٹے ایم آئی اعداد وشمارکے  دوران ایم آئی  سکیموں میں تقریباً 1.42 ملین کا اضافہ ہوا ہے۔ قومی سطح پر، جی ڈبلیو اور ایس ڈبلیو دونوں اسکیموں میں بالترتیب 6.فیْصد اور 1.2فیصد  کا اضافہ ہوا ہے۔ ایم آئی  اسکیموں میں کھودے کنوؤں کی تعدادسب سے زیادہ  ہے ۔ اس کے بعدکم گہرائی والے  ٹیوب ویلس، درمیانی  گہرائی والے ٹیوب ویلس اور زیادہ  گہرائی والے  ٹیوب ویلس ہیں۔ مہاراشٹرڈگ ویلس ، سرفیس فلو اورسرفیس لفٹ اسکیموں میں سرفہرست ریاست ہے ۔  اتر پردیش، کرناٹک اور پنجاب بالترتیب کم گہرائی والے  ٹیوب ویلس، درمیانی گہرائی والے  ٹیوب ویس  اور گہرے ٹیوب ویلوں میں سرفہرست ریاستیں ہیں۔ تمام ایم آئی اسکیموں میں سے، 97.0فیصد  ‘استعمال میں’ ہیں، اور 2.1فیصد  'عارضی طور پر استعمال میں نہیں ہیں' جبکہ 0.9فیصد ‘مستقل طور پر استعمال میں نہیں ہیں’۔ کم گہرائی والے  ٹیوب ویلس اور درمیانی گہرائی والے  ٹیوب ویلس استعمال  میں  اسکیموں کے زمرے میں آگے ہیں۔ ایم آئی اسکیموں کی اکثریت (96.6فیصد) نجی ملکیت میں ہیں۔ جی ڈبلیو اسکیموں میں، ملکیت میں نجی اداروں کا حصہ 98.3فیصد ہے جبکہایس ڈبلیو اسکیموں میں متعلقہ حصہ 64.2 ہے۔

پہلی بار، انفرادی ملکیت کے معاملے میں ایم آئی اسکیم کے مالک کی جنس کے بارے میں معلومات بھی جمع کی گئیں ہیں۔ انفرادی طور پر ملکیتی اسکیموں میں سے 18.1فیصدخواتین کی زیر ملکیت ہیں۔ تقریباً 60.2فیصد اسکیموں کے پاس فنانس کا ذریعہ  واحدہے جبکہ 39.8فیصد اسکیموں کے پاس ایک سے زیادہ مالیات کے ذرائع  موجودہیں ۔ فنانس کے واحد ذریعہ میں، زیادہ تر اسکیموں کی مالی اعانت (79.5فیصد) انفرادی کسان کی اپنی بچتوں سے کی جارہی ہے۔

اس شعبے میں موثر منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے چھوٹی آبپاشی کی اسکیموں کے لیے ایک ٹھوس اور قابل اعتماد ڈیٹا بیس ضروری ہے۔ اس مقصد کے ساتھ،  بھارتی حکومت چھوٹی آبپاشی اسکیموں کے اعدادوشماراکٹھا کر رہی ہے۔اس کے حوالے سے  اب تک پانچ  مرتبہ اعدادوشماربالترتیب سال 87-1986،94-1993،01-2000اور 14-2013 کے حوالے سے اکٹھاکئے جاچکے ہیں18-2017 کے حوالے سےچھٹے  معمولی آبپاشی  اعدادشمار 32 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکمل کئے جاچکے ہیں ۔ چھٹے  اعدادوشمار اکٹھا کرنے  کا کام کووڈ-19 کی وجہ سے  تاخیر کا شکار ہوااعدادوشمارکو اکٹھاکرنے کا کام اب کامیابی کے ساتھ مکمل  کیاجاچکا ہے اورچٹھے اعدادشمارپرمبنی  آل انڈیا اور ریاست وار رپورٹ شائع کر دی گئی ہے۔

اعدادوشمار کا یہ عمل  مرکزکے ذریعہ چلائی جانے والی اسکیم ‘‘آبپاشی اعدادوشمار’’کے تحت کی گئی تھی۔ مختلف پیرامیٹرز کے بارے میں تفصیلی معلومات جیسے آبپاشی کے ذرائع (کھودا ہوا،کم گہرائی والا  ٹیوب ویل، درمیانی گہرائی والاٹیوب ویل، گہرے ٹیوب ویل، سطح کا بہاؤ اور سطح کی لفٹ اسکیمیں)، آبپاشی کی صلاحیت پیدا (آئی پی سی )، ممکنہ استعمال، ملکیت، مالک کے ذریعہ زمین کا ہولڈنگ سائز ، پانی اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والے آلات، توانائی کے ذرائع، توانائی  کی بچت  والے آلات کا استعمال کیاگیا جس میں اسپرنکلر اور ڈرپ اریگیشن، غیر روایتی توانائی کے ذرائع جیسے سولر پمپ، ونڈ ملز وغیرہ کا استعمال  شامل ہیں۔

یہ رپورٹ منصوبہ سازوں، پالیسی سازوں، محققین اسکالرز، زرعی اور زمینی پانی کے سائنسدانوں، منتظمین اور ملک کی آبپاشی اور زرعی معیشت کی ترقی سے وابستہ تمام لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

آل انڈیا رپورٹ: https://jalshakti-dowr.gov.in/document/all-india-report-of-6th-census-of-minor-irrigation-schemes-volume-1/

ریاست وار رپورٹ: https://jalshakti-dowr.gov.in/document/state-wise-report-of-6th-census-of-minor-irrigation-schemes-volume-2/

************

 

(ش ح ۔ش م  ۔  ع ا )

U.No. 8911



(Release ID: 1952896) Visitor Counter : 109