قانون اور انصاف کی وزارت
عام آدمی کے لیے قابل رسائی عدالتی نظام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 AUG 2023 3:56PM by PIB Delhi
وزیر قانون و انصاف جناب ارجن رام میگھوال نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستانی آئین کے تحت عدلیہ ایک آزاد ادارہ ہے۔ اس طرح، عدالتوں کے سامنے قانونی چارہ جوئی کے لیے پیش ہونے کے اصول اور طریقہ کار عدالتیں خود تیار کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس، بالترتیب آئین ہند کے آرٹیکل 145 اور 225 کے تحت انہیں عطا کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، عدالت کے عمل اور طریقہ کار کو منظم کرنے کے لیے اصول بناتے ہیں۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت کا براہ راست کوئی رول نہیں ہے۔
مرکزی حکومت عدلیہ کی آزادی کے لیے پوری طرح پابند عہدہے اور انصاف کی فراہمی میں مدد کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کرتی ہے۔ حکومت نے مدعیان کو انصاف کی فراہمی کے کام میں عدلیہ کی مدد کے لیے ایک تال میل پر مبنی نقطہ نظر اپنایا ہے، جس میں عدالتوں کے لیے بہتر انفراسٹرکچر بشمول کمپیوٹرائزیشن، عدالتی افسران/ججوں کی تعداد میں اضافہ، پالیسی اور ضرورت سے زیادہ قانونی چارہ جوئی کا شکار علاقوں میں قانون سازی کے اقدامات، اور انسانی وسائل کی ترقی پر زور شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-
- عدالتی انفراسٹرکچر کے لیے مرکزی اسپانسرڈ اسکیم کے تحت، عدالتی ہال، عدالتی افسران کے لیے رہائشی کوارٹرز، وکلاء کے ہال، بیت الخلا کمپلیکس اور ڈیجیٹل کمپیوٹر روم کی تعمیر کے لیے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں جو وکلاء اور مدعیان کی زندگی کو آسان بنا سکیں گے اور انصاف کی فراہمی میں مدد کریں گے۔ 94-1993 میں عدلیہ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے مرکزی اسپانسرڈ اسکیم (سی ایس ایس) کے آغاز سے اب تک 10035 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت کورٹ ہالوں کی تعداد 30.06.2014 کو 15,818 سے بڑھ کر 30.06.2023 تک 21,365 ہو گئی ہے، اور رہائشی یونٹوں کی تعداد 30.06.2014 کو 10,211 سے بڑھ کر 30.06.2014 کو 18,846 ہو گئی ہے ۔
- مزید برآں ای کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت، ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے آئی ٹی کو فعال کرنے کے لیے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ ضلعی اور ماتحت عدالتوں کی تعداد اب تک بڑھ کر 18,735 ہو گئی ہے۔ 99.4فیصد کورٹ کمپلیکس کو ڈبلیو اے این کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی ہے۔ 3,240 کورٹ کمپلیکس اور 1,272 باہمی مربوط جیلوں کے درمیان ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کو فعال کیا گیا ہے۔ عدالتی احاطے میں 815 ای-سیوا کیندر قائم کیے گئے ہیں تاکہ وکلاء اور مدعیان کی مدد کی جا سکے جن میں کیس کی حیثیت، فیصلے/حکم، عدالت/مقدمہ سے متعلق معلومات، اور ای فائلنگ کی سہولیات شامل ہیں۔ 18 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 22 ورچوئل عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ 31.05.2023 تک، ان عدالتوں نے 3.113 کروڑ سے زیادہ مقدمات کو نمٹا یاہے اور 408 کروڑ روپے سے زیادہ کے جرمانہ کی وصولی کی ہے۔ ای کورٹس فیز III شروع ہونے والا ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی کو مزید مضبوط، آسان اور تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔
- III. حکومت اعلیٰ عدلیہ میں خالی اسامیوں کو باقاعدگی سے پر کر رہی ہے۔ 01.05.2014 سے 10.07.2023 تک سپریم کورٹ میں 56 ججوں کی تقرری کی گئی۔ ہائی کورٹس میں 919 نئے ججز کی تقرری اور 653 ایڈیشنل ججز کو مستقل کیا گیا۔ ہائی کورٹس کے ججوں کی منظور شدہ تعداد مئی 2014 سے 906 سے بڑھا کر فی الحال 1114 کر دی گئی ہے۔ ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں جوڈیشل افسران کی منظور شدہ اور کام کی طاقت میں حسب ذیل اضافہ ہوا ہے:
|
تک
|
منظورشدہ تعداد
|
ورکنگ تعداد
|
|
31.12.2013
|
19,518
|
15,115
|
|
31.07.2023
|
25,246
|
19,858
|
تاہم، ماتحت عدلیہ میں خالی اسامیوں کو پُر کرنا ریاستی حکومتوں اور متعلقہ ہائی کورٹس کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
-ivاپریل 2015 میں منعقدہ چیف جسٹسز کی کانفرنس میں منظور کردہ قرارداد کے مطابق تمام 25 ہائی کورٹس میں بقایا جات کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں تاکہ پانچ سال سے زائد عرصے سے زیر التوا مقدمات کو نمٹا دیا جا سکے۔ ضلعی عدالتوں کے تحت بقایا جات کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
-v چودھویں مالیاتی کمیشن کےاہتمام کےتحت، حکومت نے بھیانک جرائم، بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں وغیرہ کے مقدمات نمٹانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی ہیں۔ 31.05.2023 تک، گھناؤنے جرائم، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم وغیرہ کے لیے 832 فاسٹ ٹریک عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ مجرمانہ مقدمات جس میں منتخب ایم پیز / ایم ایل ایز کو جلداز جلد نمٹانے کے لئے دس خصوصی عدالتیں نو (9) ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔ مزید برآں، مرکزی حکومت نے آئی پی سی کے تحت عصمت دری کے زیر التواء مقدمات اور پی او سی ایس او (پوسکو)ایکٹ کے تحت جرائم کو تیزی سے نمٹانے کے لیے ملک بھر میں 1023 فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سیز) کے قیام کی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ آج تک، 28 ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے اس اسکیم میں شامل ہو چکے ہیں۔
vi.عدالتوں کے مقدمات کے التوا کو کم کرنے اور عدالتوں میں رکاوٹیں دور کرنے کے مقصد سے، حکومت نے حال ہی میں مختلف قوانین میں ترمیم کی ہے جیسے نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس (ترمیمی) ایکٹ، 2018، کمرشل کورٹس (ترمیمی) ایکٹ، 2018، مخصوص ریلیف (ترمیمی) ایکٹ، 2018، ثالثی اور مفاہمت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 اور فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ، 2018۔
vii. تنازعات کے حل کے متبادل طریقوں کو پورے دل سے فروغ دیا گیا ہے۔ اسی کے مطابق، کمرشل کورٹس ایکٹ، 2015 میں 20 اگست 2018 کو ترمیم کی گئی تھی جس میں تجارتی تنازعات کی صورت میں پری انسٹی ٹیوشن میڈیشن اینڈ سیٹلمنٹ (پی آئی ایم ایس) کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ثالثی اور مفاہمت ایکٹ، 1996 میں ترمیم ثالثی اور مفاہمت (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے ذریعے کی گئی ہے تاکہ ٹائم لائنز کا تعین کرکے تنازعات کے فوری حل کو تیز کیا جا سکے۔
viii. لوک عدالت ایک اہم متبادل تنازعات کے حل کا طریقہ کار ہے جو عام لوگوں کے لیے دستیاب ہے۔ یہ ایک ایسا فورم ہے جہاں عدالت میں زیر التوا تنازعات/مقدمات یا قانونی چارہ جوئی سے پہلے کے مرحلے پر خوش اسلوبی سے حل/سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ لیگل سروسز اتھارٹیز (ایل ایس اے) ایکٹ، 1987 کے تحت، لوک عدالت کے ذریعے دیا گیا فیصلہ سول عدالت کا حکم نامہ سمجھا جاتا ہے اور یہ حتمی اور تمام فریقوں کے لیے پابندعہد ہوتا ہے اور اس کے خلاف کسی عدالت میں کوئی اپیل نہیں ہوتی۔ لوک عدالت کوئی مستقل ادارہ نہیں ہے۔ پہلے سے طے شدہ تاریخ پر تمام تعلقوں، اضلاع اور ہائی کورٹس میں قومی لوک عدالتیں بیک وقت منعقد کی جاتی ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران لوک عدالتوں میں نمٹائے گئے مقدمات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-
|
سال
|
قانونی چارہ جوئی سے پہلے کے مقدمات
|
زیرا التوا مقدمات
|
کل
|
|
2021
|
72,06,294
|
55,81,743
|
1,27,88,037
|
|
2022
|
3,10,15,215
|
1,09,10,795
|
4,19,26,010
|
|
2023 (تک 17.06.2023)
|
3,00,11,291
|
61,88,686
|
3,61,99,977
|
|
کل
|
6,82,32,800
|
2,26,81,224
|
9,09,14,024
|
ix. حکومت نے 2017 میں ٹیلی لا پروگرام کا آغاز کیا، جس نے ایک موثر اور قابل اعتماد ای-انٹرفیس پلیٹ فارم فراہم کیا جو ضرورت مند اور پسماندہ طبقوں کو جوڑتا ہے جوگرام پنچایت میں واقع کامن سروس سینٹرز (سی ایس سیز) پر دستیاب ویڈیو کانفرنسنگ، ٹیلی فون اور چیٹ کی سہولیات کے ذریعے اور ٹیلی لا موبائل ایپ کے ذریعہ قانونی صلاح و مشورے اور پینل وکلاء سے مشورے کے خواہاں ہیں ۔
*ٹیلی - لا ڈیٹا کا فیصد کے حساب سے تفصیلات حسب ذیل ہے:
% وائز بریک اپ ایڈوائس فعال % وائز بریک اپ
|
28 فروری 2023 تک
|
درج شدہ مقدمات
|
فیصد کے حساب سے تفصیل
|
فعال صلاح و مشورہ
|
فیصد کے حساب سے تفصیل
|
|
صنفی لحاظ سے
|
|
خواتین
|
15,75,140
|
34.38
|
15,35,775
|
34.39
|
|
مرد
|
30,06,772
|
65.62
|
29,30,601
|
65.61
|
|
ذات کے زمرہ کے لحاظ سے
|
|
جنرل
|
9,82,636
|
21.45
|
9,52,773
|
21.33
|
|
او بی سی
|
13,28,505
|
28.99
|
12,93,153
|
28.95
|
|
ایس سی
|
14,88,971
|
32.50
|
14,53,283
|
32.54
|
|
ایس ٹی
|
7,81,800
|
17.065
|
7,67,167
|
17.18
|
|
کل
|
45,81,912
|
|
44,66,376
|
|
ملک میں بے لوث ثقافت اور بے لوث وکالت کو ادارہ جاتی بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ ایک تکنیکی فریم ورک قائم کیا گیا ہے جہاں بے لوث کام کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنا وقت اور خدمات دینے والے وکلا نیا ئےبندھو (اینڈرائیڈ اور آئی او ایس اور ایپس) پر پرو بونو ایڈووکیٹ کے طور پر رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ نیا بندھو خدمات اُمنگ پلیٹ فارم پر بھی دستیاب ہیں۔ ریاستی سطح پر 21 ہائی کورٹس میں وکلاء کا پرو بونو پینل شروع کیا گیا ہے۔ ابھرتے ہوئے وکلاء میں پرو بونو کلچر کو فروغ دینے کے لیے 69 منتخب لا اسکولوں میں پرو بونو کلب شروع کیے گئے ہیں۔
************
ش ح۔ اک ۔ م ص
(U: 7980 )
(ریلیز آئی ڈی: 1945881)
وزیٹر کاؤنٹر : 255