نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صد سالہ  تقسیم اسناد کے جلسے میں نائب صدر  جمہوریہ کے خطاب کا متن (اقتباسات)

Posted On: 23 JUL 2023 4:51PM by PIB Delhi

 آپ سب کو سلام و آداب اور اس عظیم دن پر میری طرف سے آپ سب کو مبارکباد۔

پہلی دو چیزیں۔ ایک، میں نے محترم وزیر کی توجہ آخری سطر کی طرف مبذول کرائی تھی۔ ٹائم شیڈول پر عمل کرنا ہوگا۔ اس عمل میں جس میں میں اشارہ کر رہا تھا، چیئرمین راجیش شرما کو اس میں نرمی کرنے کا استحقاق اور حق حاصل ہے اور یہ نرمی کرنے کا مناسب معاملہ تھا۔

نمبر دو، میں اور وزیر اعلیٰ ماحول میں کھوئے ہوئے ہیں، تھیٹر میں تالیوں کی گڑگڑاہٹ ہے۔ ہم نے  یہ نظر انداز کر دی۔ مجھے اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدیش دھنکھر کی باوقار موجودگی کو تسلیم کرنا چاہیے،  انہوں نے یہ بات محسوس کی اور بتایا کہ یہ سب کیا تھا۔ لہٰذا میں وائس چانسلر کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے طور پر انہیں مدعو کیا۔ ایک دانشمند وائس چانسلر اور ماہر تعلیم کی طرح، وہ دیکھ سکتی تھیں کہ میں کئی موقعوں پر لڑکھڑا جاتا ہوں اور مجھے ایک طرح کی ہمت افزائی چاہیے ہوتی ہے ۔

عزت مآب جناب دھرمیندر پردھان جی، وزیر تعلیم حکومت ہند، ایک عملی آدمی۔ بصیرت سے پرُ شخصیت۔ ایک ایسا شخص جو منصوبہ بندی اور عمل  آوری دونوں میں عمدہ ہے۔ میں انہیں طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ میں ان کے کھانے کی عادات جاننے کی کوشش کر رہا ہوں جو انہیں دن بھر متحرک رکھتی ہے۔

محترمہ وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر۔ خوبصورتی اور عظمت کی تصویر۔ جب مجھے پہلی بار ان کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا تو میں نے پایا کہ ان کے پاس کوئی پیکیجنگ نہیں ہے، صرف کارکردگی ہے اور یہ  ہر سمت سے  جھلک رہا ہے۔

اگر اساتذہ اپنا تعاون نہ دیں تو ایک عظیم ادارے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ فیکلٹی اپنا حصہ نہ ڈالے،  اساتذہ کی طرف وہ اتنا سب کچھ نہیں کیا جا سکتا جتنا کچھ انہوں نے کیا ہے۔ ہمارے سامعین میں بہت معزز ارکان ہیں اور مجھے معاف کیجئے میں ان میں سے کچھ کے نام لوں گا۔ اگر میں کچھ لوگوں کے نام لیتا ہوں اور ان کا ذکر کرتا ہوں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے قانونی پیشے میں اپنے فرائض کی انجام دہی کی اور گورنر اور اس وقت کا  نائب صدر رہتے ہوئے مجھے روشن خیال بنایا ہے۔ جناب نجیب جنگ، مضبوط اور طاقت ورشخص ہیں  اور ان کے تمام سابق ساتھی وائس چانسلرز جو یہاں موجود ہیں۔ ان سب کو تسلیمات!

بھارت  کا نائب صدر بننا بڑے اعزاز کی بات ہے، لیکن اس میں ای کذمہ داری بھی ہے، اور وہ ہے راجیہ سبھا کی صدارت کرنا ، جو ایک بڑا کام ہے۔  لہذا مجھے جاوید علی خان کی موجودگی کو تسلیم کرنا چاہیے، جو  بہت  ہی باصلاحیت ہیں،اور راجیہ سبھا کے ممبر ، دھرمیندر جی نے اپنی دانشمندانہ صلاحیت سے لوک سبھا کے ایک اور معزز ممبر پارلیمنٹ دانش علی کو بجا طور پر ترجیح دی ہے۔ دوستوں ہمارے درمیان ، ایک ممتاز قانونی شخصیت بھی موجود ہیں وہ ہیں ملک کے سب سے زیادہ باوقار اداروں میں سے ایک ادارے سے وابستہ سینئر ایڈوکیٹ جناب وکرم بینرجی، جو فی الحال ، ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ہیں۔معزز حاضرین ، ممتاز مہمانان گرامی، گراں قدر شخصیات اور میرے پیارے طلباء۔

یہ میرے اور میری اہلیہ کے لیےبڑی خوشی کی بات ہے  کیوں کہ میری آمد یہاں روز روز نہیں ہوتی۔ تقسیم اسناد کا جلسہ منعقد ہوتا ہے لیکن اس نوعیت کا نہیں جو صد سالہ جلسہ ہے، یہ موقع کسی کی زندگی میں بہت ہی کم آتا ہے اور ممکن ہے کہ آتا ہی نہ ہو۔

مجھے جامعہ ملیہ اسلامیہ جے ایم آئی کے صد سالہ تقسیم اسناد کے جلسے کے اس یادگار موقعے پر آپ سبھی کے درمیان خود کو پاکر انتہائی مسرت  محسوس کر رہا ہوں ۔  یہ ملک کی سرکردہ یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ میں ان سبھی کو تہہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں جنہیں ڈگریاں تفویض ہوئی ہیں ، گریجویشن کرنے والے طلبا کو ، اساتذہ کو، اور عملے کو بھی مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے  یونیورسٹی کے لیے اس سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی یہ پیش رفت کی ۔ عزیز طلبا اس باوقار ادارے میں گریجویشن حاصل کرنا آپ کو ہمیشہ یاد رہے گا اور آپ لوگ اسے کبھی مت بھولیے گا۔ اگر آپ بھول گئے تو آپ اپنی ترقی کو التوا میں ڈال دیں گے۔ آپ کی کامیابی یقیناً آپ کی تندہی ، آپ کی محنت پر منحصر ہے لیکن اصولی طور پر آپ کے اساتذہ ، آپکے والدین اور آپ کے خیرخواہوں پر بھی منحصر ہے۔ آپ نے ڈگریاں حاصل کر لیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اب سیکھنے کا عمل یا علم حاصل کرنے کا عمل رک گیا ہے۔آپ کو حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے یہ علم حاصل کرنا ہوگا ۔ جے ایم آئی کے اہم کاموں کے بارے میں کافی کہا گیا ہے یہ غیر معمولی کارنامے ہیں۔

یہ موقع قومی زندگی میں اس ادارے اور اس کے نامور سابق طلباء کی شرکت کے  اعتراف کا موقع ہے۔ میں اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر کو 2022 میں باوقار پدم ایوارڈ حاصل کرنے والی ان کی خدمات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جے ایم آئی کے لیے تعاون کو تبدیل کیا گیا تھا۔ تاریخ رقم کرتے ہوئے وہ جامعہ کی 100 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون وائس چانسلر ہیں۔ وہ اپنی صنف کے لیے ایک موثر مثال ہوں گی۔

یہ کوئی شماریات نہیں ہے۔ جامعہ کو قومی ادارہ جاتی درجہ بندی کے فریم ورک میں ملک کی تین اعلیٰ یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے پس منظر میں بہت کچھ چلا گیا ہے۔ زیادہ تر کوششیں مکمل ہوئیں۔ یہاں تک کہ ایک دریا میں جب آپ کھڑے ہوتے ہیں، اسی جگہ پر رہنے کے لیے آپ کو اپنے پیروں کو حرکت دیتے رہنا پڑتا ہے، یہ دہرائی جانے والی کارکردگی ہے۔ میں وائس چانسلر، فیکلٹی اور طلباء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دوستو، یونیورسٹی نے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعلیمی تحقیقی اتحاد  قائم کیا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اسی طرح کے اداروں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔ جب ہمیں سینرجیٹک موڈ میں کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو علم حاصل کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس میں 25 سے زیادہ ممالک کے غیر ملکی طلباء  تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ دوستو، میں انڈین کونسل آف ورلڈ افیئر کا چیئرمین ہوں۔ انڈین کونسل آف ورلڈ افیئر کا اس باوقار ادارے کے ساتھ ایک مفاہمت نامے کا معاہدہ ہوگا، اور مجھے یقین ہے کہ اس سے ان دونوں اداروں کی مدد ہوگی،اس کا ثمرہ ہمارے یوم آزادی سے پہلے حاصل ہوگا ۔

اس عظیم ادارے کے سابق طلباء کو دیکھتا ہوں تو اتنے سارے نام لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ سابق طلباء کی انجمنیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑی طاقت ہیں کہ ہر انسٹی ٹیوٹ بڑھتے ہوئے راستے پر ہے۔ ایک بار جب سابق طلباء اسے اپنی ذمہ داری سمجھ لیں تو ترقی اور زیادہ یقینی ہو جائی گی، اور اس وجہ سے، انسٹی ٹیوٹ کے سابق طلباء کو ہمیشہ فعال موڈ میں ہونا چاہیے۔ درحقیقت، کسی ادارے یا قوم کی ترقی کے لیے اس سے زیادہسرگرم تھنک ٹینک نہیں ہو سکتا جس طرح کے لوگ مختلف اداروں کے سابق طلباء پر مشتمل ہوں۔ تعلیمکی اہمیت ہے  یعنی تعلیم کو وسیع تر سماجی ترقی سے جوڑنا ایک بہت ہی اہم کام ہے۔

انسانی وسائل کو بااختیار بنانا قوم کی تعمیر میں ایک اہم جزو ہے، نوجوانوں کو خود کو بااختیار بنانا ہے اور میں بہت فکر مند ہوں اس لیے میںیہ بات آپ کے خیال کے لیے پیش کر رہا ہوں کہ نوجوانوں کو سیاسی نشے میں نہیں بلکہ ایک صحت مند ماحولیاتی معاشرے کی پرورش کے حتمی مقصد کے ساتھ صلاحیت کی تعمیر اور شخصیت کی نشوونما کے طریقہ کار کے ذریعے خود کو بااختیار بنانا  چاہیے۔

وزیر موصوف نے بجا طور پر قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی طرف اشارہ کیا اور کیہا کہ یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ  یہ پالیسی صد سالہ تکمیل پر نافذ کی گئی اور یہ یکسر تبدیلی لانے والی پالیسی ہے۔ اس سے ہمارے نوجوان ذہنوں کو لچک فراہم ہوتی ہے اور جدت اور مہارت کی نشوونما پر زور دے کر تعلیمحاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔

میں آپ کو بتا سکتا ہوں دوستو، اس ملک میں تین دہائیوں کے بعد قومی تعلیمی پالیسی تمام متعلقہ فریقوں کی رائے پر غور کرنے کے بعد تیار کی گئی تھی، اور یہپورے عالمی انسانیت کے چھٹے حصے کے طور پر بھارت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی کا سبب بنے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ ملک کے سبھی حصوں میں اس پالیسی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس عظیم پالیسی کی فصل اور فوائد حاصل کریں گے کیونکہیہ مہارت پر مبنی کورسز، پیشہ ورانہ تربیت، اور ہماری تعلیم کو ایک نئی جہت دیں گے۔

دوستو، طلبا کے لیےیہ بہت ضروری ہے کہ وہ اختراعی انداز کے  کاروباری بنیں، اپنے اسٹارٹ اپ قائم کریں۔ تاکہ اس امرت کال میں ہمارے  اہل طلباء تقلید کریں، میں ان نوجوان کاروباریوں کی تقلید پر زور دے رہا ہوں جو اس ملک میں ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ ملازمت فراہم کرنے والے کے طور پر تیزی سے ابھرے ہیں۔ اس  میدان  میں ہماری پاس اسٹارٹ اپس کی ایک بڑی  تعداد  ہے جو ایک ٹھوس حقیقت ہے اور جس کا اعتراف پوری دنیا نے کیا ہے۔

میں اپنے نوجوان دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی پوری توانائی اور جوش کے ساتھ معاشی قوم پرستی میں ڈوب جائیں۔ معاشی قوم پرستی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر موجودہ دور میں ہماری توجہ ہونی چاہیے۔ ٹیکنالوجی اور رابطے کی وجہ سے دنیا ہر چیز کے لیے بہت چھوٹی ہو گئی ہے۔ دوستو اس میں کوئی شک نہیںہے ۔ مالیاتی فائدے کے لیے معاشی قوم پرستی پر سمجھوتہ کرنا یقینا قومی مفاد میں نہیں ہے۔ جو لوگ کاروبار، صنعت اور تجارت میں ہیں، انہیں معیشت کی قوم پرستی کے جوہر پر یقین رکھنا ہوگا، اور اس میں جھکاؤ اور سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ صرف مالی فائدہ کا موقع ہے۔ ہمارا ملک کرہ ارض کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی جمہوریت ہے، جو سب سے زیادہ فعال ہے۔ ہمیں اس بات سے پوری طرح آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اور معاشیشرکت معاشی قوم پرستی کی قیمت پر نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اپنے عہد، تاریخی کامیابیوں، کارناموں پر فخر کرنا ہوگا، اپنے عروج پر جسے دنیا تسلیم کرتی ہے، ہمیں ہمیشہ اپنی قوم کو اولیت دینا ہوگی۔

میرے نوجوان دوستو، آپ نے ڈگریاں حاصل کی ہیں، آپ اپنی پسند کے کریئر میں قدم رکھیں گے۔ یہ امید افزا وقت ہیں۔ ملک کی طرف کارنامے ہم سب کے لیے  باعث فخر ہیں۔ ہمیںبھارتی ہونے پر فخر ہے۔ ہمیں اپنی قوم اور کامیابیوں پر فخر کرنا ہے۔ بھارت  عروج پر ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور ملک کا عروج رک نہیں سکتا۔ نوجوانوں کے ذہنوں اور ہمارے نوجوانوں کی شراکت کی وجہ سے بھارت کی ترقی کی رفتار، جو کہ انسانیت کا چھٹا حصہ ہے، ہمیشہ ترقی کے  راستے پر گامزن رہے گا۔ مضبوط میکرو اکنامک بنیادوں کی وجہ سے چیلنجنگ عالمی صورتحال کے مقابلہ میں بھارتی  معیشت نمایاں طور پر لچکدار ثابت ہوئی ہے جو اسے دنیا کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں سے آگے رکھتی ہے۔

دوستو آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جہاں ایک دہائی قبل بھارت  11 ویں سب سے بڑی معیشت تھی، پچھلے سال ستمبر 2020 میں، ہم نے ایک سنگ میل کی کامیابی حاصل کی اور ہم کرہ ارض کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گئے ۔

تمامعندیوں کے مطابق بھارت  دہائی کے آخر تک تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا اور آپ 2047 کے واریئرس ہیں ، آپ طے کریں گے کہ 2047 میں  بھارت کیسا ہوگا اور  مجھے آپ کے عزم پر کوئی شک نہیں ہے۔ بھاےرت 2047 میں عروج پر ہوگا۔

دوستو

دنیاحیران ہے کیونہ اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور سچ کہوں تو میریپیڑھی نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا ہو گا، جس طرح کا ڈیجیٹل انقلاب دنیا اس ملک میں دیکھ رہی ہے۔ سب سے بڑی جمہوریت جو اتنا متنوع ہے اور اس کا اثر کیا ہے؟ نااہلی اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے حکمرانی نے ایک نئی تعریف اختیار کر لی ہے ، نیا معیار شفافیت اور احتساب ہے۔ 2022 میں آپ کو ایک مثال دینے کے لیے اور ایسی بہت سی مثالوں کے  بیچ بھارت  نے 1.5 ٹریلین امریکی ڈالر کی رقم کا ڈیجیٹل لین دین کیا جو ایک ریکارڈ ہے۔ لیکن اگر ہم اسے تقابلی انداز میں دیکھیں تو یہ لین دین امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے  مجموعی لین دین سے چار گنا زیادہ ہے۔ ذرا تصور کریں کہ یہ کس قسم کا کارنامہ ہوا ہے۔ میں آپ سب سے گزارش کروں گا کہ غور و فکر کریں اور خود کا جائزہ لیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ یہیک طرفہ ٹریفک نہیں ہے۔ یہ دونوں طرف سے ہونا چاہئے۔ جس کا مطلب ہے کہ گاؤں کے نیم شہری علاقوں میں ہر بھارتی  نے خود کو تکنیکی طور پر، وصول کنندہ بننے اور اس طرح کے لین دین میںسرگرم  ہونے کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جس کا میریپیڑھی نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا اور دنیا اسے تسلیم کر رہی ہے۔ ایک اور سنگ میل یہ ہے کہ دنیا میں اس طرح کے سینکڑوں لین دین میں سے 46 لین دین ہمارے ملک میں کیے جاتے ہیں۔

مجھ سے پہلے بیٹھے ہوئے وہ سینئر لوگ جانتے ہیں کہ پاور کوریڈورز کیسے متاثر ہوئے، کام کا فائدہ کیسے اٹھایا گیا،بچولیوں کا کیا کردار تھا۔ اب گورننس کی پالیسیوں اور اقدامات کی بدولت، شفافیت اور جوابدہی پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے ہمارے پاور کوریڈور کو ایسے دلالوں سے پاک کر دیا گیا ہے جو فیصلوں اور  انہیں محفوظ بنانے کے لیے گورننس کا اضافی قانونی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حقیقتیہ ہے کہ وہ دن گئے، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیے گئے ہیں جن کی بحالی کی کوئی امید نہیں ہے۔  آئی ایم ایف، ایک تسلیم شدہ ادارہ نے ہماری ڈیجیٹل ترقی کو تسلیم کیاہے میں اس کا حوالہ دیتا ہوں کہ ’’عالمی معیار کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل تبدیلی سے گزرنے والی دوسری قوموں کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کر رہا ہے‘‘۔ ایک اور مثال جو ہم سب کو  لیے فخر کا باعث بنے گی، وہ ہے معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون کے نتیجے میں اور موثر حکمرانی کی پالیسیوں اور اقدامات اور عزت مآب وزیر اعظم کے وژن کی بدولت، بھارت  میں اسمارٹ فونز کے85 کروڑ  سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین ہیں، بھارتی وں کے پاس ایکلاویہ بننے اور ہنر سیکھنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے ۔

دوستو، میں پہلی بار 1989 میں پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوا تھا اور میں مرکزی وزیر تھا۔ میں اس وقت کے حالات سے پوری طرح واقف ہوں۔ قوم نے خود کو کمزور پانچ معیشتوں میں سے دنیا کی پہلی پانچ معیشتوں میں تبدیل کر لیا ہے۔ نازک پانچ سے لے کر ٹاپ فائیو تک جانا عزت مآب وزیر اعظم کے ویژن کا نتیجہ ہے جو سب کی کوششوں سے پورا ہو رہا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے۔

پوری دنیا میں نظر ڈالیں آپ  پائیں گے کہ بھارت  پسندیدہ مملک ہے اور یہاں بے شمار موقعے دستیاب ہیں۔ جس سے ہر کوئیمتفق ہے۔ آپ دنیا میں جہاں بھی جائیں آپ کو بھارتی  ہونا، بھارتی  پاسپورٹ کا حامل ہونا، اب ایک مختلف معنی رکھتا ہے۔ اس کے ایک جادوئی معنی ہیں، لوگ آپ کے ساتھ بات چیت کرنا خاص طور پر پسند کریں گے کہ یہ بڑی تاریخی تبدیلی اس لیے آئی ہے کیونکہ بھارت  کی ترقی کو تمام لوگوں کی فکر مندی نے آگے بڑھایا ہے۔  اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کامیابی سے کوششیں کی گئی ہیں کہ گاؤں کو میٹروکی شل میں تکنیکی طور پر بااختیار بنایا جائے اور یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ بھارت  تاریخ کے شاندار دور میں ہے۔ ہمارا بے مثال اور عروج اس صدی کا ایک اہم لمحہ ہے۔  بھارت بے مثال ملک ہے اور اس کا عروج اس صدی کی وضاحت ہے۔ یہ صدی بھارت  کی ہے اور جب بھارت  طلوع ہوگا تو عالم یسطح پر ہم آہنگی پیدا ہوگی، عالمی امن ہوگا، عالمی سطح پر استحکام ہوگا۔کسی بھی ملک کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک ہزار سال کی تہذیبی اقدار پر فخر کریں، ہمارا ثقافتی تنوع، ہماری ثقافتی دولت، عالمی افق پر بے مثال ہے۔ حال ہی میں، پچھلی دہائی میں، بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے ترقی کو یقینی بنانے کے لیے نظام میں اصلاحات اور مثبت حکمرانی کے اقدامات کا ایک سلسلہ اٹھایا گیا ہے۔ ہم اس ملک میں اس کی ترقی کی شاہراہوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ اب ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں اور  دوسرے ہمیں دیکھتے ہیں۔ جو لوگ ہمیں کسی زمانے میں ترقی کا مشورہ دیتے تھے وہ ہم سے مشورہ مانگ رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ قیادت اور عوام کا شکریہ۔

پوری دنیا بھارت  کے ساتھ شراکت داری کے لیے بے چین ہے۔ کیا آپ کبھی تصور کر سکتے ہیں کہ محترم وزیر اعظم کے ساتھ امریکہ میں ان کا دورہ کتنا کامیاب رہا؟ فرانس میں؟ متحدہ عرب امارات میں؟ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ،یہ کتنا اثر انگیز تھا اور امریکہ میں کانگریس اور سینیٹ سے ان کا خطاب ایک عالمی سیاستداں کا خطاب تھا۔ ہمارے وزیر اعظم کا شمار ایک عالمی سیاستدان کے طور پر کیا جاتا ہے، جن کی آواز ہمیشہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھتی ہے۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ ہم توسیع کے دور میں نہیںجی رہے ہیں، بھارت  کے وزیر اعظم کا ایک تاریخی اعلان اور حال ہی میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے جاری ایک مسئلے کے حوالے سے، انہوں نے کوئی اعلان نہیں کیا، لیکن دوستو جب بھارت  ترقی کرتا ہے، جب آپ موقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جب آپ اثر ڈالتے ہیں یا اس کے ارد گرد چیلنجز بھی ہوتے ہیں۔ آپ کی ترقی سبھی لوگ خوش نہیں ہو سکتے ۔

خطرناک ارادوں کے ساتھ نقصان دہ قوتیں ہیں، جو آپ کے اداروں کو آپ کی ترقی کو داغدار اور نیچا دکھاتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ان میں سے کچھ ہمارے درمیان ہیں۔ میں نوجوان ذہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پہل کریں اور اپنے عمل سے ان طاقتوں کو بے اثر کریں، مجھے کوئی شک نہیں کہ آپ سب یہ ضرور کریں گے۔ جب موجودہ اصول اور حکمرانی کا طریقہ کار شفافیت اور احتساب پر مبنی ہیں ، جن میں بدعنوانی کی کوئی جگہ نہیں ہے کہ بدعنوان لوگ ایک گروہ کی شکل اختیار کر چکے ہیں، وہ چھپنے اور فرار ہونے کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کرتے ہیں۔ ہم قوم کے مقروض ہیں۔ ہم سب، ہم میں سے ہر ایک، خاص طور پر نوجوان، بدعنوانی کا مطلب ہے آپ کی ترقی میں رکاوٹ، بدعنوانی کا مطلب ہے آپ کے مواقعوں میں کم آجانا ، بدعنوانی کا مطلب ہے سرپرستی جو اہم مرحلے کو لے رہی ہے، یہ سب منصفانہ ترقی اور مساوی موقعوں کے منافی ہے ۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے قوم کے مقروض ہیں کہ بدعنوانی میں کوئی کمییا اسے ہر گز نہ برداشت کیا جائے۔ یہ بات  کہتے ہوئے مسرت ہوتی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے فرار کے تمام راستے بند ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ آپ کا جو بھی نسب ہو، آپ کا کوئی بھی مقام ہو۔ آپ قانون کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ ہم قانون سے چلنے والی جمہوریت ہیں۔ لیکنیہ اس وقت سے متعلق ہے، جب عدالتی عمل حرکت میں آتا ہے، جب قانون اپنا راستہ اختیار کر رہا ہوتا ہے، تو قانون کی گرمی محسوس کرنے والوں کو سڑکوں پر کیوں آنا چاہیے؟یہ آپ سب کو سوچنا ہے کہ ہمارے پاس عدالتی نظام میں شکایات کے ازالے کا ایک مضبوط طریقہ کار موجود ہے۔ اگر کسی کو فوری طور پر عدالت کی طرف سے نوٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو نئی جمہوریت کو کھولنے کا واحد راستہ قانونی ذرائع کا سہارا لینا ہے۔ یقینی طور پر اسے سڑکوں پر نہیں لے جانا۔ قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کے لیے سڑکوں پر مظاہرے اچھی حکمرانی یا فطری جمہوریت کی پہچان نہیں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ نوجوان ذہن اس پر توجہ دیں گے۔ وہ سب کچھ کریں جو ان کے ذہن میں ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ ان طاقتوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

دوستو، انفراسٹرکچر کے شعبے میں ہو یا ٹیکنالوجی کے شعبے میں وزیراعظم کا وژن اور اس پر عملدرآمد غیرمعمولی رفتار اور پیمانے پر رہا ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہوں کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت  ڈھائی سال سے بھی کم عرصہ میں بنی ہے ، لوگ سوچیں گے کہ عمارت بن گئی ہے، میں آپ کو اس سے کہیں زیادہ بتا سکتا ہوں، اس کے اندر کی ہر چیز، بہترین ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سارے عوامل کو مدنظر رکھا گیا، آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ اتنی قلیل مدت میں ایک ایسے وقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب دنیا کے ساتھ ساتھ ہم بھی کووڈ وباکا سامنا کر رہے تھے۔ دوستو، آپ سب سرکاری پالیسیوں اور اقدامات کے سلسلے کے نتیجے میں اس کے مثبت اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اب ایک ماحولیاتی نظام موجود ہے، جو ہر نوجوان ذہن کو اپنی صلاحیت اور  ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے اور اپنے خوابوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنی توانائی کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہمارے دور میں، ہمارے پاس وہ ماحولیاتی نظام نہیں تھا۔ ہمیں بڑی جدوجہد کرنی پڑی۔ لیکن اب اگر آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہے تو سسٹم آپ کی بہت زیادہ مدد کرتا ہے جس کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2047 کے واریئرس کے طور پر، میں آپ تمام نوجوان ذہنوں سے درخواست کرتا ہوں، ہمارے ملک کو درپیش چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لیے خود کو وقف کریں۔ آپ کو اپنی مادر علمی کی طرف سے حاصل کی گئی بصیرت کا استعمال کرنا چاہیے اور اسےملک کی تعمیر کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔ اس پر عزت مآب وائس چانسلر نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اس بیان پر غور کرنا چاہوں گا، جس انہوں نے کہا تھا کہ "تعلیم میں ایسا انقلاب آنا چاہیے کہ یہ گاؤں کے غریب ترین لوگوں کی ضروریات کو پورا کرسکے" ،میں سمجھتا ہوں کہ یہ آخری امتحان ہے اورٹھیک یہی  ہو رہا ہے۔ جب ہر گھر میں بجلی ہو گی تو ہر گھر میں گیس کا کنکشن ہوگا۔ ہر گھر میں نل کنکشن کا کام مکمل کیا جا رہا ہے۔ مہاتما گاندھی کا خواب اس وقت پورا ہوا جب ہندوستان اپنے موجودہ  کال  میں ہے۔

سب سے بڑی جمہوریت کے شہری کے طور پر یہاںانسانوں کا 6/1 حصہ رہتا ہے۔ یہ ہر شہری خصوصاً نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہمارے ملک کے قدرتی وسائل خواہ وہ پانی،پیٹرولیم معدنیات ہوں ،  کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بہترین طریقے سے استعمال ہوں۔ اب،  میں خود حیران ہوں  اور مجھے یقین ہے کہ آپ میریاس تشویش کو بانٹیں گے۔ ان وسائل کے استعمال کا تعین آپ کی جیب سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟ آپ کی جیب اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آپ کے پاس کیسا گھر ہے، کس  طرح کا فرنیچر ہے، لیکن جب ان وسائل یعنیقدرتی وسائل کے استعمال کی بات آتی ہے تو ہم سبھی ان وسائل کے  ٹرسٹی ہیں، ان کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے اور اس لیے ہمیںایک کلچر بنانا چاہیے کہ قدرتی وسائل کا استعمال آپ کی ضرورت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ہوگا، یقینی طور پر آپ کی مالی استعداد کے مطابق نہیں۔

 

ان وسائل کا استعمال کا تعین اپنی جیب سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟ آپ کی جیبیہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ آپ کے پاس کس قسم کا گھر ہے، کس قسم کا فرنیچر ہے۔ لیکن جب ان وسائل یعنی قدرتی وسائل کے استعمال کی بات آتی ہے تو ہم سب ان وسائل کے امین ہیں، ان کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے اور اس لیے ہمیںیہ کلچر بنانا چاہیے کہ قدرتی وسائل کا استعمال آپ کی ضرورت کے مطابق ہو، یقیناً آپ کی مالی استعداد کے مطابق نہیں۔

دوستو،یہ ایک عظیم یونیورسٹی ہے، یہترقی کررہی ہے، اس لیے میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہوں گا کہ اس ملک سے باہر اسی طرح کے تھیٹرز میں وہ ہندوستان مخالف بیانیہ ترتیب دینے کے لیےگڑھ  بن چکے ہیں۔

اس عمل میں، وہ ہمارے طلباء، ہمارے فیکلٹی ممبران کو استعمال کرتے ہیں، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ ہر سرکاری عمل سے آنکھیں بند کرلینی چاہئے ، انصاف پسند بنیں ، فیصلہ کن ہوں،  استفسار کریں ،معروضیت پر توجہ  دیں  اور پھر ایسے حالات سے نمٹیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ جنہیں کسی نہ کسی عہدے پر اس ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے، جب وہ اپنا عہدہ کھو دیتے ہیں تو وہ اس عظیم ترقی کی طرف نگاہیں پھیر لیتے ہیں جو ہمارا ملک چاروں طرف سے کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نوجوان ذہن اس کا نوٹس لیں گے، فعال اقدامات کریں گے اور جامعہ صحیح جگہ ہے، بہت متاثر کن نوجوان ذہن ایک ایسے ماحولیاتی نظام کو متحرک کریں گے جہاں ملک یا بیرون ملک اس طرح کے ملک مخالف بیانیے کو نہ صرف بے اثر کیا جائے گا بلکہ اس طرح کی غلط معلومات کے دھندے کی اجازت  نہیں دی  جاسکتی۔

دوستو، آج کا کانووکیشن دراصل  آپ، آپ کے خاندان اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لیے بڑے فخر اور اطمینان کا لمحہ ہے، جس نے آپ کے تعلیمی سفر کے دوران آپ کی پرورش کی۔ آج، آپ ممتاز سابق طلباء کا حصہ بنیں گے جن میں سے کچھ یہاں نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہیایک زبردست ذمہ داری آتی ہے جب آپ دنیا میں قدم رکھتے ہیں، اپنی پہچان  بنانے کے لیے، آپ کے پاس ایک ٹیگ ہوتا ہے اور آپ ایک صدی سے بھی زیادہ قدیم ادارے سے سند یافتہ ہونے کا ٹیگ لے کر چلتے ہیں۔  آپ کے پاس ایک امید افزا کیرئیر ہے، امید افزا مستقبل ہے لیکن نہر موڈ میں مت جاؤ ۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ  نہر کاغذ پر کھینچی جاتی ہے  ندی  کی طرح بنو، چلو، اپنا راستہ خود چنو، جھکاؤ اور اہلیت کے مطابق کام کرو۔ جب  بات آپ کے خیالات کی ہو تو اسے کبھی بھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں ۔ کبھی بھی ناکامی کا خوف نہ  رکھیں، جس لمحے آپ کو ناکامی کا خوف ہوگا آپ  بے خوف یا انٹرپرائزئنگ  نہیں ہوں گے اور ملک یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ ہمارے نوجوان  اپنے کام  میں  بے باک نہ ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی خیال  ہے تو میں آپ سے گزارش  کرتا ہوں کہ برائے مہربانی اس پر کام کریں، اور مجھ پر بھروسہ کریں کہ کوئی بھی پہلی بار میں کسی آئیڈیا کے ساتھ کامیاب نہیں ہوا ہے ۔ چاند پر اترنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن کیا یہ پہلی بار میں کامیاب رہی اور ایسا  کئی تاریخی  ترقی کے ساتھ ہوا جو حقیقت میں انسانیت کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں  جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

میں آپ کی توجہ اے پی جے عبد الکلام کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا ،  انہوں نے کہا تھا کہ  ”اپنے مشن میں کامیابی کے لیے، آپ کو اپنے مقصد میں یکسوئی سے کام کرنا چاہئے ۔ وہ اسرو کے ساتھ تھے‘‘۔ انکی اپنی ناکامیاں تھیں، انہوں نے ان پر غور کیا ہے، اگر نوجوان اسرو میں انکی ناکامیوں پر نظر ڈالیں تو ناکامیاں مستقبل کی کامیابی تھیں.... کامیابی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے انہیں وہ بنا دیا جس کے لیے انہیں یاد کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ایک اور موقع پر انہوں  نے  تذکرہکیا، میں  ایک بار پھر  حوالہ دیتا ہوں کہ ’’ عظیم خواب دیکھنے والوں کے عظیم خواب ہمیشہ ماورا ہوتے ہیں‘‘ لیکن جن کے ذہن میں صرف ایک اچھا خیال ہوتا ہے وہ اپنے ذہن کو خوابوں کے لیےوسیع  جگہ  فراہم کرتے ہیں، آئیڈیاز تاریخ میں اثر انداز نہیں ہوتے۔ آپ کو آخر تک اثر انداز ہونا پڑے گا ۔ ہمیں ہمیشہ ایک امتیازیاد رکھنا چاہیے جو ہمارے لیے منفرد ہو۔ ہم سب سے بڑی قدیم جمہوریت ہیں جو ہر سطح پر فعال ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہوں گا ، دنیا کا کوئی ملک فخر نہیں کر سکتا کہ اس نے آئینی جمہوریت کا ڈھانچہ بنایا ہے جیسا کہ ہمارے پاس ہے۔ ہمارا آئین گاؤں کی سطح پر،پنچایت کی سطح پر، پنچایت سمیتی کی سطح پر، ضلع پریشد کی سطح پر اور یقیناً ریاستی اور مرکزی سطح پر جمہوریت فراہم کرتا ہے۔

بنیادی جمہوریت کی اقدار ہماری تہذیبی اخلاقیات میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں، وہ ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی ہیں اور اسی لیے جی 20 کی ہندوستانی صدارت کے تحت یہ مقصد ہے کہ ایک کرہ ارض ، ایک خاندان ،ایک مستقبل  اورہم نے اس کا مظاہرہ ایسے وقت کیا جب دنیا میں وبا پھیلی تو ہم نے  کووڈ میتری  کے نام سے قدم اٹھایا اور ایک کروڑ 30 ارب لوگوں کی دیکھ بھال کی۔  ہم کوویکسن کے ساتھ کئی دوسرے ممالک کی بھی مدد کر رہے تھے جو بالآخر ہمارے قول  کو درست ثابت کرتے ہیں۔ دوستو، ایک تشویش میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا ۔ اعلیٰ  دانشور یہاں موجود ہیں، نوجوان ذہن یہاں موجود ہیں، کچھ پارلیمنٹ سے بھی ہیں۔ جمہوریت کیا ہے؟ جمہوریت کا مطلب ڈائیلاگ  ہے۔ آپ کی عوامی بھلائی کے تحفظ  کے لیے بحث، غور و خوض اور مباحثہ ۔یقیناً جمہوریت خلل نہیں ہو سکتی۔ یہ خلل انگیز نہیں ہو سکتی۔ خلل اور رکاوٹ جمہوری اقدار کے جوہر کے خلاف ہے۔ میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے دکھ محسوس کررہا ہوں کہ  خلل  اور رکاوٹ کو جمہوریت کے مندروں کو داغدار کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جسے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے  ساتوں دن ، 24 گھنٹے فعال ہونا چاہئے ۔

پارلیمنٹ کے کام کاج  نہ ہونے دینے  کا کوئی  عذر نہیں ہوسکتا ،اس ملک کاہر دوسرا فرد اس کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔  لیکن میں اس کے مالی مضمرات پر  بات نہیں کررہا  ہوں۔ میں بڑے مسائل پر بحث چاہتا ہوں  جب پارلیمنٹ میں یا کسی خاص دن  خلل  پیدا ہوتا ہے تووقفہ سوالات نہیں ہوسکتا ، وقفہ  سوال  حکمرانی میں  جوابدہی اور شفافیت پیدا کرنے کے لئے ایک طریقہ کار ہے۔ حکومت ہر سوال  اور ضمنی سوالات کا جواب دینے کے پابند ہے۔ اس سے گورننس کا بہت  فائدہ ہوتا ہے۔ ہر کوئیراستے پر ہے۔ وقفہ سوال کا نہ ہونا کبھی بھی معمول نہیں ہو سکتا۔

جب آپ جمہوری اقدار اور بہترحکمرانی کے لحاظ سے سوچتے ہیں۔

اگر وہ رابطہ منقطع کر دیتے ہیں چاہے خاندان میں ہو یا معاشرے میں اور یقیناً جمہوریت کے مندروں میں اس طرح کا رابطہ منقطع ہو جائے تو اس کے سنگین نتائج  برآمدہوں گے۔

مجھے یقین ہے کہ بڑی جمہوریت کے ہر شہری کے لیے ایک ماحولیاتی نظام پیدا کرنا فرض ہے۔

آپ کی آواز ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، آپ اس ملک کی ترقی اور جمہوریت کے پھلنے پھولنے میں سب سے بڑے  فریق ہیں ۔

دوستو، میں اپنی بات ختم کروں گا ، میں آپ کے لئے ایکفکر  چھوڑتا ہوں اور یہ فکر ہندوستانی آئین کے معمار ڈاکٹر امبیڈکر  نے قوم کو دی تھیاور وہ آخری دن آئین ساز اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔ 25 نومبر 1949   آئین ساز اسمبلی سے  خطاب اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں مزید نہیں کہوں گا۔ میں صرف ان کا حوالہ دوں گا۔

’’ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان کبھی آزاد ملک نہیں تھا۔ بات یہ ہے کہ وہ ایک بار اپنی آزادی کھو چکا تھا جو اس کے پاس تھی۔کیا وہ اسے دوسری بار کھو دے گا؟ جس چیز نے مجھے بہت پریشان کیا وہ یہ ہے کہ نہ صرف ہندوستان نے اس سے پہلے ایک بار اپنی آزادی کھو دی ہے بلکہ اس نے اسے اپنے ہی کچھ لوگوں کی بے وفائی اور غداری سے کھو ئی ہے۔"

ہم ایسا ہونے نہیں دے سکتے۔ ہمیں اپنے بانیوں کے تئیں  سچاہونا چاہیے۔ ہمیں قوم پر یقین رکھنا ہو گا۔ ہمارے پاس ملک کو ہمیشہ آگے رکھنے کے علاوہ  کوئی اورکلچرنہیں ہو سکتا اور یہ  اختیاری نہیں ہے۔ یہ ضروری  نہیں ہے۔ ہماری جمہوریت کے پھلنے پھولنے اور خوشحالی کو یقینی بنانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

دوستو، میں تمام گریجویٹنگ طلباء، اساتذہ اور والدین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، کہ جے ایم آئی آنے والے برسوں میں مزید بلندیوں کو چھوتی رہے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ بلند سے بلند تر ہوتی رہے گی اور میڈیکل کالج اور اسپتال یقیناً عالمی افق پر اعلیٰترین  معیار کے ہوں گے۔

جے ہند!

 

************

 

ش ح۔ف ا۔ا س۔ م  ص ۔ ت ح

 (U:7378) 



(Release ID: 1941985) Visitor Counter : 215


Read this release in: English , Hindi , Assamese , Tamil