وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری

مرکزی وزیر جناب پرشوتم روپالا نے این ڈی ڈی بی آنند میں جی 20 کے ایگریکلچر ورکنگ گروپ کے تحت سسٹین ایبل لائیواسٹاک ٹرانسفارمیشن کے موضوع پر بین الاقوامی سمپوزیم کا افتتاح کیا


جناب پرشوتم روپالا نے سمپوزیم کے انعقاد کے لیے این ڈی ڈی بی کی ستائش کی اور مویشیوں پروری کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا

Posted On: 19 JUL 2023 4:19PM by PIB Delhi

آزادی کا امرت مہوتسو اور جی 20 کے ایگریکلچر ورکنگ گروپ (اے ڈبلیو جی) کے زیراہتمام، ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے فروغ کے مرکزی وزیر جناب پرشوتم روپالا نے کل این ڈی ڈی بی، آنند میں سسٹین ایبل لائیو اسٹاک ٹرانسفارمیشن کے موضوع پر پر ایک بین الاقوامی سمپوزیم کا افتتاح کیا۔

جناب روپالا نے سمپوزیم کے انعقاد کے لیے این ڈی ڈی بی کی ستائش کی اور لائیو ا سٹاک (پالتو جانور) کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمپوزیم کے مباحثوں سے پائیدار تبدیلی کے لیے لائیو اسٹاک کے شعبے میں مختلف ایجادات کو پھیلانے میں مدد ملے گی۔ مویشی پروری اور ڈیری کے شعبے کے لیے وزیر اعظم کے ترقیاتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے، جناب روپالا نے کہا کہ انھوں نے مویشی پروری کی ایک خود مختار وزارت تشکیل دی ہے، جس نے اس شعبے کی ترقی میں نمایاں طور پر تعاون کیا ہے۔ موبائل ویٹرنری یونٹس کی تعیناتی، بریڈ ملٹی پلیکیشن  فارم اور این اے ڈی سی پی اس کی مثالیں ہیں۔ وزیر اعظم نے مویشیوں کی ٹیکہ کاری  کے لیے بھی دنیا میں کووڈ کی وبا پھیلنے سے ایک سال قبل فنڈز مختص کیے تھے۔ جناب روپالا نے مویشی پروری سے متعلق وبائی امراض کے تعلق سے تیاری کے لیے ایک ماڈل ایپ کے بارے میں بتایا۔

سمپوزیم کا ٹون طے کرتے ہوئے، ڈی اے ایچ ڈی کی سکریٹری محترمہ الکا اپادھیائے نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں پائیدار تبدیلی اس شعبے سے وابستہ کسانوں اور دیگر حصص داروں کی تعداد، روزی روزگار اور غذائی تحفظ کی فراہمی میں اس کے کردار، اسمال ہولڈر، پروڈکشن سسٹمز کو دیکھتے ہوئے زیادہ موزوں ہوجاتی ہے۔ سمپوزیم بہت مناسب طریقے سے تیار کیا گیا ہے جس میں تھیم سے متعلق تمام موضوعات پر غور و فکر کیا جائے گا۔ یہ عالمی لائیو اسٹاک انڈسٹری میں تمام ممکنہ حصص داروں کو اکٹھا کرنے کا ایک مثالی واقعہ ہے تاکہ ایک ایسا شعبہ بنایا جا سکے جو زیادہ موثر، ماحول دوست اور جامع ہو اور ساتھ ہی ساتھ ایس ڈی جی میں بھی زیادہ سے زیادہ تعاون دے۔

این ڈی ڈی بی کے چیئرمین ڈاکٹر مینیش شاہ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ہم مویشیوں کے شعبے کو مزید پائیدار بنانے اور ایک زیادہ مؤثر، جامع، لچکدار اور پائیدار لائیو اسٹاک کے شعبے کی طرف بڑھنے کے لیے ماہرین کے درمیان گفت و شنید کے منتظر ہیں تاکہ  ’بہتر پیداوار، بہتر غذائیت، بہتر ماحول اور بہتر زندگی‘ کا مقصد حاصل کیا جاسکے۔ یہ سمپوزیم یقینی طور پر ہم سب کو ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ایک اچھا پلیٹ فارم فراہم کرے گا، ایک حکمت عملی تیار کرے گا اور کچھ عصری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرے گا، جو ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ممالک کو درپیش ہیں، جن میں ’’وَن  ہیلتھ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری شامل ہے۔  

ڈاکٹر شاہ نے مزید کہا کہ یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اس کرۂ ارض پر تمام زندہ نظاموں کی صحت ایک دوسرے پر منحصر ہے اور ایک ماحولیاتی نظام میں خلل پڑنے سے دوسرے پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اس کی مثال ’’وسودیو  کٹم بکم‘‘ میں پیش کی گئی ہے جس کا ترجمہ ’’دنیا ایک خاندان ہے‘‘ یا اس کو مختلف انداز میں بیان کریں تو یہ’’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘ کی بات ہے، جو کہ ہندوستان کی جی 20 صدارت کا دستخطی موضوع (سگنیچر تھیم)  ہے۔

انٹرنیشنل ڈیری فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کی ڈائرکٹر جنرل محترمہ کیرولین ایمنڈ  نے تسلیم کیا کہ ہندوستان نے کسب معاش کو سہارا دینے اور غذائیت نیز صحت کو بہتر بنانے کے لیے ڈیری کا مسلسل استعمال کیا ہے۔ ہم تبدیلی کو بڑھانے والی ٹھوس مثالوں کے ساتھ آئے ہیں۔ اس شعبے میں بہت سے مواقع ہیں۔ لائیو اسٹاک کے کردار کو پہچاننا اور اس شعبے پر اخراجات کو بڑھانا اہم ہے۔

لائیو اسٹاک کے شعبے میں پائیداری کے لیے تعاون بڑھانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ڈاکٹر ایلن لی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل، صحت مند آبادی ڈویژن، ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ون ہیلتھ اپروچ کے ساتھ پالیسی کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ ہم نے ایک صحت کا مشترکہ ایکشن پلان شروع کیا ہے جو مستقبل میں وبائی امراض کی روک تھام اور پائیدار زندگی اور مویشیوں کے ٹرانسفارمیشن کو فروغ دینے کے بلیو پرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔

ورلڈ آرگنائزیشن فار اینیمل ہیلتھ (ڈبلیو او اے ایچ) کے  ایشیا پیسیفک کے علاقائی نمائندے  ڈاکٹر ہیروفومی کوگیتا  نے کہا کہ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ڈیری انڈسٹری کے ساتھ مل کر مویشی پروری کے شعبے میں مختلف اقدامات کا اشتراک کریں۔ ممالک کے لیے صحت اور وبائی امراض کا جواب دینے کے لیے جانوروں کو صحت خدمات فراہم کرنے کے لیے مؤثر ویٹرنریرینز کا ہونا ضروری ہے۔ ہمیں جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے مویشی پروری کے عمدہ طور طریقوں کی بھی ضرورت ہے۔

ہندوستان میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے نمائندے جناب تاکایوکی ہاگیوارا نے بتایا کہ مویشی بہت اہم ہیں اور دیہی ٹرانسفارمیشن اور اقتصادی ترقی، خوراک کی حفاظت اور غذائیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھارت کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کے پاس ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ہیں اور مسائل کو حل کرنے کا ایک نظام ہے۔ ایف اے او، ایس ڈی جی کے اہداف کے حصول کے لیے ہندوستان کے ساتھ کام کرنا چاہے گا اور ہندوستان دوسرے ممالک کو ایک مؤثر راہ دکھا سکتا ہے۔

امریکہ کے نیشنل ملک پروڈیوسرز فیڈریشن کے  چیف سائنس آفیسر ڈاکٹر جیمی جونکر نے دودھ کی اہمیت اور ڈیری سیکٹر میں مویشیوں کے اہم کردار کے بارے میں بات کی۔

افتتاحی اجلاس میں شکریہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے، انیمل ہسبنڈری کمشنر  ڈاکٹر ابھیجیت مترا نے وَن ہیلتھ کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کے کردار اور نقطہ نظر پر روشنی ڈالی۔

دو روزہ سمپوزیم کا مقصد لائیو اسٹاک سیکٹر پر خصوصی توجہ کے ساتھ، زیادہ موثر اور پائیدار زرعی خوراک کے نظام میں تبدیلی پر بصیرت انگیز بات چیت اور غور و فکر کو فروغ دینا تھا۔ جی 20 کے ممتاز ماہرین، پالیسی سازوں اور حصص داروں جنہوں نے تقریب میں شرکت کی، نے علم کا تبادلہ کیا، تجربات کا اشتراک کیا، اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اختراعی طور طریقوں کی دریافت کی۔

سمپوزیم کو ایک سنگ میل تقریب کے طور پر اجاگر کیا گیا، جو لائیو اسٹاک کے شعبے میں تبدیلی لانے اور پائیدار مستقبل کے لیے تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔

اس تقریب میں ڈبلیو او اے ایچ  -  (ورلڈ آرگنائزیشن فار انیمل ہیلتھ)، ڈبلیو ایچ او - (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)، ایف اے او - (فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن)، آئی ڈی ایف - (انٹرنیشنل ڈیری فیڈریشن)، این ڈی ڈی بی - (نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ)  اور محکمہ کے ماہرین کے ساتھ پینل ڈسکشن کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ امول ڈیری اینڈ چاکلیٹ پلانٹ، اور مجکووا ڈی سی ایس کا تکنیکی دورہ، جہاں جی 20 ممالک کے مندوبین کو ملک کے پروسیسنگ سسٹم، دودھ جمع کرنے، بائیو گیس اور سولر کوآپریٹیو کے بارے میں بصیرت افروز معلومات فراہم کی گئیں۔

مویشی پروری اور ڈیری کے محکمہ (ڈی اے ایچ ڈی)، وزارت ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری، حکومت ہند؛ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی)؛ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے مشترکہ طور پر  18 سے 19 جولائی 2023  تک  دو روزہ تقریب کا اہتمام کیا ہے۔

******

ش  ح۔ م  م۔ م ر

U-NO. 7181



(Release ID: 1940765) Visitor Counter : 86