عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پچھلے 9 برسوں میں مودی حکومت کی توجہ صرف روزگار پیدا کرنے پر نہیں بلکہ صنعت کاری کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ہندوستان کے نوجوانوں کو آج کسی سرکاری ملازمت والی سلامتی مطلوب نہیں بلکہ وہ آگے بڑھ کر مخصوص شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے  تیار ہیں، جس کے نتیجے میں ملازمت کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں

اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیا سے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہو رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 JUN 2023 4:54PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، محکمۂ جوہری توانائی اور خلائی محکمے کے علاوہ  عملے، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ 9 برسوں میں اسٹارٹ اپ چھلانگ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی ایک بڑی کامیابی کی کہانی ہے۔

یہاں نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے تقریباً 350 نئی صنعتیں تھیں، لیکن جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں اپنے یوم آزادی کے خطاب میں لال قلعہ کی فصیل سے واضح پُکار دی اور 2016 میں خصوصی اسٹارٹ اپ اسکیم شروع کی، تو زبردست چھلانگ سامنے آئی اور آج ہندوستان دنیا کے تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کا حامل ہے۔ اس میں 115 سے زیادہ یونیکورن (اربوں ڈالر والے کاروباری اداروں) کے ساتھ 92,683 نئی صنعتیں ہیں۔

1.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ سال 2022 میں ہی 26,542 اداروں کو صنعت اور داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے نے اسٹارٹ اپ کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ نیسکوم کے ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ ٹیک اسٹارٹ اپس نے 2021-2017 میں ملازمتوں کے 23 لاکھ براہ راست اور بالواسطہ مواقع پیدا کئے۔ علاوہ ازیں اسٹارٹ اپس نے ازخود 2016 میں اسٹارٹ اپ انڈیا کے آغاز کے بعد سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر روزگار کے 10 لاکھ مواقع پیدا کئے  جب کل ملازمتیں پیدا ہونے کی تعداد صرف 10 تھی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ہندوستان کا نوجوان آج دھیرے دھیرے سرکاری ملازمت کی ذہنیت سے باہر آرہا ہے اور وہ چھلانگ لگا کر آگے بڑھنے اور مخصوص شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ سنبھل، اتر پردیش میں مرکزی حکومت کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں حکومت کی توجہ صرف روزگار پیدا کرنے پر نہیں رہی ہے بلکہ صنعت کاری کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی مرکوز ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا کے علاوہ مودی حکومت نے 5 اپریل 2016 کو اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم بھی شروع کی تھی۔ اس کا مقصد ٹریڈنگ میں گرین فیلڈ انٹرپرائز قائم کرنے کے لیے شیڈولڈ کمرشل بینکوں سے فی بینک درج فہرست ذات  یا درج فہرست قبائل کے ایک فرد اور ایک خاتون کو 10 لاکھ سے 1 کروڑ روپے تک کے بینک قرضوں کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم سے کم از کم 2.5 لاکھ قرض لینے والوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پی ایم مودی چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان نئے کاروباری اور نئے پروڈیوسر بنیں اور پورے ملک میں ان نئے کاروباریوں کے ذریعہ اسٹارٹ اپس کا ایک مکمل نیٹ ورک قائم ہو۔ وزیر اعظم جناب مودی کا خواب ہے کہ وہ اسٹارٹ اپ کی دنیا میں ہندوستان کو سر فہرست مقام دلائیں۔ جناب مودی کو پختہ یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں "اسٹارٹ اپ انڈیا" اور "اسٹینڈ اپ انڈیا" ملک کا مستقبل ہوگا۔۔

2.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی اسٹارٹ اپس نے 2021 میں 44 بلین ڈالر اکٹھے کیے جس میں 33 بلین ڈالرسے زیادہ کی رقم  5 ملین ڈالر سے زیادہ کے سودوں کی طرف جا رہی ہے۔ بہت سے ہندوستانی اسٹارٹ اپس ہندوستان سے باہر آباد ہیں۔ حالانکہ  اس کی زیادہ تر منڈیاں، عملے کے اراکین اور بانیان ہندوستان میں ہیں۔ ایسے اسٹارٹ اپ ادارے ہندوستانییونیکورن کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے خلائی شعبے کے دروازے بھی نجی شعبے کی شراکت کے لیے کھولے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آج اسرو تقریباً 150 نجی اسٹارٹ اپس کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اسی طرح 2014 سے پہلے ہندوستان کی بایو اکانومی کی لاگت 10 بلین ڈالرتھی۔ اب یہ 80 بلین ڈالرسے زیادہ ہے۔ بائیوٹیک اسٹارٹ اپ پچھلے 8 برسوں میں 100 گنا بڑھ کر 2022 میں 5,300 سے زیادہ  ہو گئے ہیں۔ 2014 میںیہ تعداد 52 سے کچھ زیادہ تھی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپ انٹرپرینیورز کو مشورہ دیا کہ وہ آئی ٹی، کمپیوٹر اور کمیونیکیشن کے شعبوں سے ہٹ کر سب سے زیادہ غیر دریافت شدہ اور مالا مال فارم سیکٹر سے رجوع کریں جسے ماحول دوست انقلاب کے بعد ایک بہت بڑے تیکنالوجیائی انقلاب کا انتظار ہے۔ ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ زراعت ہندوستانی معیشت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے کیونکہ ہندوستانی آبادی کا 54 فیصد حصّہ براہ راست طور پر زراعت پر منحصر ہے اور جی ڈی پی میں اس کا  تقریباً 20 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے کسی کو ایروما مشن یا پرپل انقلاب کے بارے میں علم نہیں تھا۔ لیکن آج لیوینڈر کی کاشت ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کی تیزی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

مرکزی حکومت کا ایروما مشن، جس کو سی ایس آئی آر کی بھرپور حمایت حاصل ہے کسانوں کی ذہنیت کو بدل رہا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کسان مہنگے تیل نکالنے کے لیے لیوینڈر، لیمن گراس، گلاب اور میریگولڈ جیسی مہک والی فصلوں کی کاشت شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 9,000 روپے فی لیٹر میں فروخت ہونے والے تیل اگربتی بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں اور اسے کمرے کے اسپرے، کاسمیٹکس اور علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ایروما مشن ملک بھر سے اسٹارٹ اپس اور زرعی ماہرین کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہے اور پہلے مرحلے کے دوران سی ایس آئی آر نے 6,000 ہیکٹر اراضی پر کاشت کاری میں مدد کی اور ملک بھر کے 46 امنگوں بھرے اضلاع کا احاطہ کیا۔ 44,000 سے زیادہ افراد کو تربیت دی گئی ہے اور کسانوں کو کئی کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ ایروما مشن کے دوسرے مرحلے میں ملک بھر میں 75,000 سے زیادہ کاشتکار خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کے مقصد کے ساتھ 45,000 سے زیادہ ہنر مند انسانی وسائل کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی بجٹ جو 2014 میں 25,000 کروڑ روپے سے کم تھا، اسے اب بڑھا کر زائد از  1.25 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی ترقی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے حکومت نے 1 لاکھ کروڑ روپے کا زرعی انفراسٹرکچر فنڈ متعارف کرایا ہے۔ یہایک فنانسنگ سہولت ہے جو سال 2021-202 سے 2033-2032 تک آپریشنل ہے جو فصل کے بعد کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے اور کمیونٹی فارم کے اثاثوں کی تخلیق کے لیے ہے۔ اس سال کے بجٹ میں ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے ایکسلریٹر فنڈز کی فراہمی کے بارے میں بھی ایک اہم اعلان کیا گیا ہے۔ ہم نہ صرف ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر بنا رہے ہیں بلکہ ہم فنڈنگ کے راستے بھی تیار کر رہے ہیں۔ اب ہمارے نوجوان تاجروں کی باری ہے۔ وہ جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنے مقاصد حاصل کریں۔ یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ 9 سال پہلے ملک میں ایگری اسٹارٹ اپس بہت کم تھے لیکن آج ان کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے۔ پروگرام کے تحت تعاون یافتہ ایگری اسٹارٹ اپس آئیڈیا سے لے کر اسکیلنگ اور گروتھ اسٹیج تک نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔ یہ زرعی اسٹارٹ اپ کاشتکاری کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے زراعت اور متعلقہ شعبوں کے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں صحت سے متعلق زراعت، فارم میکانائزیشن، ایگری لاجسٹکس اور سپلائی چین، کچرے سے آمدنی، نامیاتی کاشتکاری، مویشی پالن، ڈیری اور ماہی پروری وغیرہ شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پچھلے نو برسوں میں مودی حکومت نے ہر ہندوستانی کو بااختیار بنانے کے لیے کئی فلاحی اسکیمیں شروع کی ہیں اور ان پر عمل درآمد کیا ہے۔اس طرح کے بااختیار بنانے کے ناقابل شکست اقدام کے نتائج مدرا یوجنا اور اسٹینڈ اپ انڈیا جیسے پروگراموں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو پسماندہ گروہوں کے نوجوان کاروباری افراد کا ایک بڑا حلقہ تیار کر رہے ہیں۔ مُدرا کے تحت دیئے گئے 40 کروڑ قرضوں میں سے آدھے سے زیادہدرن فہرست زات/درج فہرست قبائل/او بی سی کے کاروباریوں کو دیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تقریباً 34.5 لاکھ اسٹریٹ وینڈرز نے پی ایم سوانیدھی کے ذریعے قرض حاصل کیا جب کہ اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے تحت ایس سی اور ایس ٹی کے استفادہ کنندگان کو 7,351 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض فراہم کیے گئے۔

نوجوانوں کے لیے نئی باضابطہ ملازمتوں کے مواقع  پیدا کرنے کی مودی حکومت کی ترجیحات کی کامیابی کو نئے ایمپلائی پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کھاتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کو سرمایہ کاری کے ایک پرکشش مرکز میں تبدیل کرنے کی مسلسل کوششوں، ایم ایس ایم ایز کی مدد اور گھریلو پیداوار کے لیے پروڈکشن سے منسلک ترغیبی اسکیم جیسے پروگراموں نے نوجوان ہندوستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تعاون کیا ہے۔ 2017 اور جنوری 2023 کے درمیان ای پی ایف او کے 4.78 کروڑ نئے صارفین کا اضافہ ہوا ہے جس میں عالمی وبا کے باوجود 2021-22 میں 1.2 کروڑ نئے ای پی ایف او اکاؤنٹس شامل ہیں۔

آزادی کے 75 ویں سال کے موقع پر ہندوستان کے امرت کال میں داخل ہونے کے موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ امرت پیڑھی نوجوانانِ ہند مودی حکومت کی توجہ کا مرکز ہیں۔ 2020 کی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) نے تیس سال سے زائد عرصے کے بعد موجودہ تعلیمی نظام کو تبدیل کیا۔ اس کے آغاز کے بعد سے 1.37 کروڑ سے زیادہ نوجوانوں نے پی ایم کوشل وکاس یوجنا کے تحت ہنر کی تربیت حاصل کی ہے اور اس طرح ان کے روزگار کے امکانات میں بہتری آئی ہے۔ اسٹینڈ اپ انڈیا پروگرام کے تحت ایس سی اور ایس ٹی کے استفادہ کنندگان کو 7,351 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دیا گیا ہے۔ 2021-2017 میں ٹیک اسٹارٹ اپس کے ذریعہ 23 لاکھ براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں۔ حکومت نے دس لاکھ مرکزی حکومت کی نوکریوں کے لیے روزگار میلہ بھرتی مہم کا آغازکیا ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو مسلح افواج میں خدمات انجام دینے کا موقع بھی دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توجہ صرف روزگار پیدا کرنے پر نہیں ہے بلکہ صنعت کاری کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی مرکوز ہے تانہ نوجوانوں کو ملازمت کے متلاشی رہنے کے بجائے ملازمت کے مواقع خلق کرنے کا متحمل بنایا جائے۔

***

ش ح۔ ع س۔  ک ا

 


(ریلیز آئی ڈی: 1929518) وزیٹر کاؤنٹر : 220