بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

ساحلِ سمندر سے قریب بادی توانائی کے پروجیکٹوں کو فروغ دینے کی خاطر حکومت نے 31 دسمبر ، 2032 ء تک یا اس سے پہلے قائم کیے گیے پروجیکٹوں کے لیے آئی ایس ٹی ایس کے چارجز  25 سال کے لیے مکمل طور پر معاف کر دیئے ہیں


گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا پروجیکٹوں پر آئی ایس ٹی ایس کی چھوٹ کو 30 جون ، 2025 ء سے بڑھا کر 31 دسمبر ، 2030  ء  تک کر دیا گیا ہے

Posted On: 29 MAY 2023 7:11PM by PIB Delhi

حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ، ساحل کے قریب سمندر میں بادی  توانائی کے پروجیکٹوں  کو آئی ایس ٹی ایس کے چارجز  سے مستثنیٰ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس استثنیٰ میں   گرین ہائیڈروجن / گرین امونیا   کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ یہ فیصلہ  گرین ہائیڈروجن / گرین امونیا پروجیکٹوں میں توسیع کو فروغ دینے اور انرجی اسٹوریج سسٹم  پروجیکٹوں  سے قابل تجدید توانائی کے حصول کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا گیا ہے۔

بجلی کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، 31 دسمبر ،  2032  یا اس سے پہلے شروع ہونے والے  ساحلِ سمندر کے قریب بادی بجلی پروجیکٹوں کے لیے آئی ایس ٹی ایس  چارجز (انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن چارجز) کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے  ، جو  پروجیکٹ کے شروع  ہونے کی تاریخ سے 25 سال کی مدت کے لیے ہو گی ۔  یکم جنوری ،  2033  ء سے شروع ہونے والے  آف شور پروجیکٹوں   پر آئی ایس ٹی ایس   چارجز    درجہ بندی سے عائد کیے جائیں گے ۔ اس سے قبل تمام ونڈ انرجی پروجیکٹوں کو 30 جون ، 2025 ء  تک آئی ایس ٹی ایس سے مستثنیٰ کیا گیا تھا ۔ اب،  ساحل سمندر سے قریب بادی توانائی کے پروجیکٹوں کو علیحدہ سمجھا جائے گا اور  انہیں 31 دسمبر ، 2032 ء تک  مکمل طور پر چارجز سے مستثنیٰ کیا جائے گا اور اس کے بعد گریڈ کے حساب سے ٹرانسمیشن چارجز  لگائے جائیں گے ۔

 

نمبر شمار

ساحل سمندر کے قریب بجلی پروجیکٹ لگانے کی مدت

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز

1

یکم جنوری ، 2033 ء سے 31 دسمبر ، 2033 ء تک

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا 25 فی صد

2

یکم جنوری ، 2034 ء سے 31 دسمبر ، 2034 ء تک

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا 50   فی صد

3

یکم جنوری ، 2035 ء سے 31 دسمبر ، 2035 ء تک

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا 75     فی صد

4

یکم جنوری ، 2036 ء سے

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا  100    فی صد

 

 

حکومت نے قابل تجدید توانائی (8 مارچ ، 2019 ء کے بعد شروع کی گئی)، پمپڈ اسٹوریج سسٹم یا بیٹری  کا استعمال کرتے ہوئے یا ان ٹیکنا لوجیوں کے ہائبرڈ امتزاج کے ساتھ گرین ہائیڈروجن/گرین امونیا پروڈکشن یونٹس کے لیے پروجیکٹ کے شروع ہونے کی تاریخ سے 25 سال کی مدت کے لیے آئی ایس ٹی ایس  چارجز کی مکمل چھوٹ بھی دی ہے۔   31 دسمبر ،  2030 ء کو یا اس سے پہلے شروع کیے گئے  پروجیکٹ  ، اس چھوٹ کے اہل ہوں گے۔ 31 دسمبر ،  2030  ء کے بعد کے  پروجیکٹوں پر درجہ بندی کے حساب سے   ٹرانسمیشن چارجز  عاید کیے جائیں گے ۔  اس  فیصلے سے  استثنیٰ کو  30 جون ،  2025  ء سے  بڑھا کر 31 دسمبر ،  2030  ء  کر دیا گیا ہے۔

 

نمبر شمار

گرین ہائیڈروجن / گرین امونیا پلانٹس کے شروع ہونے کی مدت

قابلِ ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز

1

یکم جنوری ، 2031 ء سے 31 دسمبر ، 2031 ء تک

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا 25 فی صد

2

یکم جنوری ، 2032 ء سے 31 دسمبر ، 2032 ء تک

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا 50   فی صد

3

یکم جنوری ، 2033 ء سے 31 دسمبر ، 2033 ء تک

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا 75     فی صد

4

یکم جنوری ، 2034 ء سے

قابل ادائیگی آئی ایس ٹی ایس چارجز کا  100    فی صد

 

پمپ اسٹوریج پلانٹس  ( پی ایس پی )  کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے، پی ایس پی   پروجیکٹوں کے لیے آئی ایس ٹی ایس  چارجز کی مکمل چھوٹ حاصل کرنے کے  پیمانے کو اب پروجیکٹ کو شروع کرنے کے بجائے پروجیکٹ کے ایوارڈ کی تاریخ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ یہ ان صورتوں میں لاگو ہوگا ، جہاں تعمیراتی کام 30 جون ،  2025  ء کو یا اس سے پہلے دیا گیا ہو۔

انرجی اسٹوریج پروجیکٹوں  سے  توانائی کے اخراج پر آئی ایس ٹی ایس   چارجز، جو پہلے پروجیکٹ کو دیے گئے تھے، اب اس طرح کے پروجیکٹوں کو استعمال کرنے والے ہر فرد کے لیے دستیاب ہوں گے۔ انفرادی صارف کو یہ فائدہ ملے گا، اگر صارف اسٹوریج سسٹم کو چارج کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی توانائی کا کم از کم 51  فی صد  قابل تجدید توانائی  سے حاصل کرے ۔ اس سے پہلے   یہ حد پروجیکٹ کی سطح پر 51  فی صد  تھی۔ یہ تبدیلی اس حقیقت کے پیش نظر پیش کی گئی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے ذخیرہ کرنے والے  پروجیکٹوں کی گنجائش بہت سے ڈسکام/دیگر صارفین کے ذریعے شیئر کی جائے گی اور ان میں سے صرف کچھ انفرادی طور پر 51  فی صد کے اس معیار پر پورا اتر سکتے ہیں  ، جب کہ ایک ہی وقت میں اسے پورا نہیں کیا جا سکتا ۔

 اس کے علاوہ  ، اگر کوئی پروجیکٹ اس کی اصل سی او ڈی   (کمشننگ کی تاریخ) کی بنیاد پر ٹرانسمیشن چارجز  کے استثنیٰ کا اہل ہے، تو یہی فائدہ دستیاب ہوتا رہے گا اگر سی او ڈی   میں مجاز اتھارٹی کی طرف سے توسیع  کی گئی ہو  ۔ یہ ان سرمایہ کاروں کو اعتماد دلانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے  ، جو موجودہ حالات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے فیصلے لے رہے ہیں لیکن ان کی سی او ڈی  ،  ان کے کنٹرول سے باہر وجوہات کی بنا پر ٹرانسمیشن چارج چھوٹ کے لیے متعلقہ قابل اطلاق تاریخ سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح ۔ و ا ۔ ع ا ) 

U. No. 5593



(Release ID: 1928155) Visitor Counter : 102


Read this release in: English , Hindi , Marathi