وزارت دفاع
بھارت کو مستقبل کی ٹیکنا لوجیوں میں ایک ’ تقلید کنندہ ‘ سے بدل کر ’ لیڈر ‘ بنانے کے لیے جدت طرازی کریں : نئی دلّی میں سی آئی آئی کے سالانہ اجلاس میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی بڑے صنعت کاروں کو ہدایت
’’ موجودہ عالمی صورت ِحال کے درمیان بھارت کی ترقی اور سلامتی کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں آر اینڈ ڈی ضروری ہے ‘‘
ملک کی آبادی ایک اثاثہ ہے ؛ ہمارا مقصد آبادی کو ’ دولت استعمال کرنے والے ادارے ‘ سے ’ دولت بنانے والے وسائل ‘ میں تبدیل کرنا ہے : وزیر دفاع
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAY 2023 2:02PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے صنعت کے لیڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ جدید حل تلاش کریں تاکہ بھارت کو مستقبل کی ٹیکنا لوجیز میں ایک ’ تقلید کنندہ ‘ سے ’ لیڈر ‘ بننے میں مدد ملے اور ملک موجودہ عالمی سلامتی کے منظر نامے سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہے ۔ وہ 25 مئی ، 2023 ء کو نئی دلّی میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری ( سی آئی آئی ) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس کا موضوع تھا ، ’’ مستقبل کی سرحدیں: مسابقت، ٹیکنالوجی، پائیداری اور بین الاقوامیت ‘‘ ۔
وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ آج کے دور میں سیکورٹی کی صورتِ حال بے مثال رفتار سے بدل رہی ہیں اور ممالک مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور جینیات وغیرہ کے شعبوں میں تکنیکی ترقی پر پہلے سے زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہنے کے چیلنج کے ساتھ ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد کے مقصد سے ایک مقام حاصل کرنے کا موقع قرار دیا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے جدید ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی ( آر اینڈ ڈی ) کو ، یہ کہتے ہوئے ، اس ہدف کو حاصل کرنے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آج کے دور میں کسی بھی قوم کی ترقی اور سلامتی کے لیے اہم نئی جہتوں کو کھولتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہمیں نئے اہداف کا تعین کرنے اور انہیں جدید طریقوں سے حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خود کو ہمیشہ سے ابھرتی ہوئی عالمی صورت ِ حال سے پیدا ہونے والے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آر اینڈ ڈی میں وسائل کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ ٹیکنالوجی دستیاب وسائل کے استعمال کو بہتر بناتی ہے اور یہ قوت میں اضافہ کرنے کے طور پر کام کرتی ہے ۔ ‘‘
وزیر دفاع نے دفاع، صحت، تعلیم، زراعت، تجارت اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی حاصل کرنے کے لیے آر اینڈ ڈی کی ضرورت پر ، یہ کہتے ہوئے زور دیا کہ یہ ملک کو دوسروں پر برتری فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ خود کو مضبوط رکھنے کے لیے، ہمیں ان شعبوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہو گا ، جب ہم ٹیکنالوجی کے لیڈر بن جائیں ۔ ‘‘
جناب راج ناتھ سنگھ نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے نمونے کے دو چہرے ہیں - ایک قائد ملک ہوتا ہے ، جو موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے ، اختراع کرتا ہے اور نئی ٹیکنا لوجی دریافت کرتا ہے اور دوسرا ایک تقلید کنندہ ہوتا ہے ، جو لیڈر کی تقلید کرتا ہے ۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ نئی ٹیکنا لوجی کے مواقع کسی مقررہ لیڈر کے بغیر سامنے آ رہے ہیں، انہوں نے بڑے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ بھارت کو ایک تقلید کنندہ سے ٹیکنالوجی کا لیڈر بنانے میں مدد کریں۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی صنعت میں آر اینڈ ڈی فنڈنگ میں اضافہ کریں اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نئے اور اچھوتے شعبوں/مصنوعات/سامان اور خدمات کے لئے راہ ہموار کریں ۔
وزیر دفاع نے ٹیکنالوجی کا لیڈر بننے کے لیے ملک کی کلیدی ضروریات کو پیش کیا ، جیسے مناسب سرمایہ، جدید آر اینڈ ڈی کا بنیادی ڈھانچہ ، آبادی کے ساتھ ساتھ پرانی ٹیکنالوجیز کو اپنانے، سمجھنے اور اس کی بنیاد بنانے کی صلاحیت ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں اور صنعت کو مل کر کام کرنے اور ملک میں آر اینڈ ڈی کو نئی اونچائیوں تک پہنچانے کے لیے ایک یکساں مواقع فراہم کرنے کی خاطر بینکنگ پالیسی، ریگولیٹری پالیسی، فنڈز کی فراہمی، لیبر پالیسی، تعلیم اور صحت کی پالیسی جیسے متعدد اقدامات کئے ہیں ۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے ٹیکنالوجی کے ایک اور پہلو پر ، جسے ’ سماجی – اقتصادی ٹیکنالوجی‘ کہا جاتا ہے اور جسے عام طور پر حکمرانی سے تعبیر کیا جاتا ہے ، اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ ان کا خیال تھا کہ ملک کی آبادی کو ، جسے کبھی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا، اب ایک اثاثہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ سردست بھارت زیادہ آبادی کے فائدے کے دور سے گزر رہا ہے ۔ اس آبادی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے پالیسیاں بنائی گئی ہیں۔ ہم نے اچھی حکمرانی کی سماجی و اقتصادی ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت میں کاروبار کرنے میں آسانی اور رہنے کی آسانی کو مضبوط کیا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کی گئی ہیں ، جن میں آبادی کو تعلیم یافتہ اور صحت مند اور ہنر مند بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ ‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند افرادی قوت پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کرنے میں مدد کرتی ہے، وزیر دفاع نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت کی کوششیں آبادی کو محض ’ دولت استعمال کرنے والے ادارے ‘ سے ’ دولت پیدا کرنے والے وسائل ‘ میں تبدیل کر دیں گی۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے نوجوانوں کو آبادیاتی منافع کا سب سے اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسٹارٹ اپس کی مسلسل ترقی نوجوان بھارتی ذہنوں کی صلاحیت، توانائی اور جوش کا نتیجہ ہے۔ آج ملک میں تقریباً ایک لاکھ اسٹارٹ اپس موجود ہیں ، جن میں سے 100 سے زیادہ یونیکورنس ہیں۔ زیادہ وسائل کے بغیر، ہمارے اسٹارٹ اپس اپنے جذبے کے ساتھ بڑے اداروں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہماری صنعتوں کو اسی جذبے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح کی بڑی کمپنیوں سے مقابلہ کیا جا سکے۔
عالمی سطح کی بڑی کمپنیوں اور بھارتی صنعتوں کے تناظر میں، وزیر دفاع نے ’ ٹیکنالوجی انکمبینٹ چیلنجر ماڈل ‘ کے بارے میں بات کی، جس میں چیلنجر کو نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے کی زیادہ ترغیب ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ عالمی سطح کی بڑی کمپنیاں اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے مالک ہو سکتے ہیں لیکن ہماری صنعت، جو نسبتاً چھوٹی ہے، ٹیکنالوجی چیلنجر ہے۔ اسے نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے کے لیے مزید ترغیب ملے گی ۔ ‘‘
اس موقع پر دفاع کے آر اینڈ ڈی کے محکمے کے سکریٹری اور دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم ( ڈی آر ڈی او ) کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر وی کامت، وزارت دفاع کے دیگر سینئر عہدیدار اور بڑے صنعتی لیڈر موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ش ح ۔ و ا ۔ ع ا )
U. No. 5477
(ریلیز آئی ڈی: 1927308)
وزیٹر کاؤنٹر : 117