جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

انرجی ایشیا 2023: انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی لمیٹڈ کے سی ایم ڈی نے تھائی لینڈ کے بنکاک میں عملداری کے اعلیٰ افسران نے گول میز ملاقات میں فعال کاربن کیپچر اسٹوریج اور سیکوسٹریشن پر زور دیا

Posted On: 19 MAY 2023 5:45PM by PIB Delhi

انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی لمیٹڈ (ایریڈا) کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب پردیپ کمار داس نے کل روایتی ذرائع سے کم پیداوار اور بجلی کے استعمال کے ذریعے کاربن کے اخراج سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ فیوچر انرجی ایشیا (ایف ای اے) 2023 میں ایشیا نیچرل گیس اینڈ انرجی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام عملداری کے اعلیٰ افسران کی گول میز ملاقات میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔

A group of people sitting around a round tableDescription automatically generated with medium confidence

جناب داس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قابل تجدید توانائی  کے شعبے میں ہندوستان کی قابل ذکر پیش رفت عالمی اوسط شرح نمو سے زیادہ  ہے اور اس کامیابی میں انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کا بڑا تعاون شامل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی آبادی کی موجودگی کے باوجود فی کس توانائی کی کھپت اور فی کس کاربن کے اخراج کی شدت دنیا کی اوسط اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کے سی ایم ڈی نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ہندوستان نے پہلے ہی غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے 40 فیصد حصے کے اپنے سابقی نشانے کو وقت سے پہلے ہی پار کر لیا ہے، حکومت ہند پہلے سے ہی 2030 تک اخراج میں کمی کے نشانے، اسکیموں اور پالیسیوں کو مطلع کر دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اب اپنے جی ڈی پی کے اخراج کی شدت کو 2005 کی سطح سے 2030 تک 45 فیصد تک کم کرنے کا پُر عزم ارادہ رکھتا ہے اور اسے 2030 تک غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کے وسائل سے تقریباً 50 فیصد مجموعی برقی توانائی کی تنصیب کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔

انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے) کا مقصد جہاں شمسی توانائی کے حل کی بہترین اور منصوبہ بند تعیناتی کے ذریعے آب و ہوا میں تبدیلی کے خلاف کوششوں کو متحرک کرنا ہے، وہیں ہندوستان دیگر ایشیائی ممالک جیسے بھوٹان، نیپال، میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے لین دین پر فعال طور پر بات چیت کر رہا ہے۔ ان میں قابل تجدید توانائی سمیت ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے متعدد مفاہمت ناموں پر دستخط اور دستیاب وسائل اور توانائی کی کھپت کا بہترین استعمال شامل ہیں۔

جناب داس نے یہ بات اجاگر کی کہ ہندوستان کی نصب شدہ غیر فوسل ایندھن کی صلاحیت میں پچھلے ساڑھے آٹھ  برسوں میں 396 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے 9 برسوں میں نصب شمسی توانائی کی صلاحیت 24.4 گنا بڑھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم ہند کے ون سن ون ورلڈ ون گرڈ اقدام کے مطابق افزونیِ قدر کے پورے سلسلے میں عالمی سطح پر کاربن کیپچر اسٹوریج اور سیکوسٹریشن (سی سی ایس ایس) کے بہترین نفاذ اور استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام سطحوں پر مربوط اور جامع کوشش کرنے کی بروقت ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ سی سی ایس ایس کو یقینی بنانے کی خاطر افزونیِ قدر کے پورے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز کی بروقت بہترین صلاحیت کی تعمیر کے ساتھ ملک کے ہر بجلی صارف/شہری کے لئےایک جامع آگاہی پروگرام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موثر نفاذ کے لیے صحیح وقت پر اور صحیح طریقے سے صحیح پالیسی کا قیام سی سی ایس ایس کی جانب بہترین متوقع نتائج کے حصول کے لئے ضروری ہے۔

گول میز میٹنگ میں تھائی لینڈ کی وزارت توانائی کے اعلیٰ نمائندوں، عمل داری کے اعلیٰ افسران اور توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان نے حصہ لیا۔ بات چیت میں کاربن کیپچر کی زیادہ لاگت سمیت سی سی ایس ایس منصوبوں کو درپیش مالیاتی اور آپریشنل چیلنجوں پر بھی غور کیا گیا۔

*****

 

U.No:5309

ش ح۔رف۔س ا



(Release ID: 1925710) Visitor Counter : 108


Read this release in: English , Hindi , Punjabi