زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

خریف مہم 2023 کے لیے زراعت سے متعلق قومی کانفرنس


زراعت کے مرکزی وزیر نے ملک کو آتم نربھر بنانے پر توجہ  دیئے جانے  کے ساتھ  2024-2023 کے لیے خریف مہم کا افتتاح کیا

مرکزی وزیر زراعت نے کرشی میپر کا بھی افتتاح کیا، جو زراعت میں جیو اسپیشل ڈیٹا کے لیے ایک مربوط ایپ ہے

ملک 2023-2022  کے دوران بالترتیب 3235، 278 اور 400 لاکھ ٹن غذائی اجناس، دالوں اور تلہن  کی ریکارڈ  پیداوار کرے گا

گزشتہ 3 سالوں سے سرسوں کا مشن نافذ کیا گیا ہے جس  نے ریپسیڈ اور سرسوں کی پیداوار کو 40 فیصد بڑھا کر 91.2 سے 128.2 لاکھ ٹن تک پہنچایا دیا ہے

سال 2024-2023 کے لیے اناج کے لیے 3320، دالوں کی 292.5 اور تلہن  کے لیے 440 لاکھ ٹن قومی ہدف مقرر کیا گیا ہے

Posted On: 03 MAY 2023 6:07PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر زراعت جناب نریندر سنگھ تومر نے 03- 05- 2023 کو نئی دہلی کے این اے ایس سی کمپلیکس خریف مہم 2024-2023  کے لیے زراعت سے متعلق  قومی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت ہندوستانی معیشت کی  ریڑھ کی ہڈی  ہے اور یہ ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کا مرکز ہے۔ اس کا جی ڈی پی کا تقریباً 19 فیصد حصہ ہے اور تقریباً دو تہائی آبادی کا انحصار اس شعبے پر ہے۔

جناب تومر نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہندوستان کا  زرعی شعبہ گزشتہ چھ سالوں میں 4.6 فیصد کی اوسط سالانہ شرح ترقی کے ساتھ مضبوط ترقی کو محسوس  کر رہا ہے۔ اس نے زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں کے شعبے کو ملک کی مجموعی شرح نمو، ترقی اور خوراک کی فراہمی میں  اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔ دوسرے پیشگی تخمینہ (2023-2022 ) کے مطابق، ملک میں غذائی اجناس کی پیداوار کا تخمینہ 3235 لاکھ ٹن ہے جو کہ 2022-2021  کے دوران غذائی اجناس کی پیداوار سے 79 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔ چاول، مکئی، چنا، دالوں، ریپسیڈ اور سرسوں، تلہن  اور گنے کی ریکارڈ پیداوار کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 2023-2022  کے دوران ملک میں گنے کی کل پیداوار کا تخمینہ 4688 لاکھ ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے جو اوسط گنے کی پیداوار سے 1553 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔ باغبانی کے تیسرے پیشگی تخمینہ کے مطابق، 2022-2021  میں باغبانی کی پیداوار  ریکارڈ 3423.3 لاکھ ٹن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ 2021-2020  کی پیداوار سے 77.30 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔

1.jpg

اس کانفرنس کا مقصد گزشتہ فصل کے موسموں کے دوران فصل کی کارکردگی کا جائزہ  لگانا تھا اور اس کا اندازہ  لینا تھا اور ریاستی حکومتوں کے صلاح مشورے سے خریف سیزن کے لیے طے کئے گئے فصل کے حساب سے اہداف  فصلوں کی پیداواریت اور پیداور بڑھانے کے مقصد سے اختراعی ٹیکنالوجیوں کو اپنانے  کی سہولت اور اہم جانکاری کی  فراہم کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کی ترجیح  زرعی ماحولیات پر مبنی فصل کی منصوبہ بندی  پرہے تاکہ چاول اور گندم جیسی زیادہ اشیاء زمین کی منتقلی کی جاسکے جس سے تلہن اور دالوں اور زیادہ  قیمت والی  برآمدادی  ، کمائی والی فصلوں جیسی اشیاء  کے نقصان  کی بھرپائی کی جاسکے۔ ربیع 2021-2020 کے دوران خصوصی سرسوں کا پروگرام شروع کیا گیا تھا جس میں بہت زیادہ  اچھے  اور شاندارنتائج سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ 3 برسوں میں سرسوں کی پیداوار 91.24 سے 40 فیصد بڑھ کر 128.18 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ پیداواری صلاحیت میں 1331 سے 1447 کلوگرام فی ہیکٹر تک 11 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ریپسیڈ اور سرسوں کے زیر کاشت رقبہ 2020-2019  میں 68.56 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 2023-2022 میں 88.58 لاکھ ہیکٹر ہو گیا۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کی بروقت کارروائی نے اس قابل ذکر کامیابی کو ممکن بنایا۔

وزیر موصوف  نے بتایا کہ ہندوستان نے 18 مارچ 2023 کو  نئی دہلی کےآئی آئی اے آر کیمپس پوسا،  پی یو ایس اے  میں  موٹے اناج  کی بین الاقوامی کانفرنس کا(شری انّ) اہتمام کیا۔ یہ کانفرنس  سال کے بڑے جشن کے ایک حصے کے طور پر  منعقد کی گئی تھی ۔ موٹے  اناج  کے بین الاقوامی سال 2023 (آئی وائی ایم ) کو وقف کرتے ہوئے، عزت مآب وزیر اعظم نے آئی وائی ایم  (موٹے اناج کے بین الاقوامی سال )کی خوشی میں یادگاری سکے اور ڈاک ٹکٹ کی نقاب کشائی کی، جس کے بعد  موٹے اناج کی ایک ڈیجیٹل  کتاب کے معیارات  (شری ان) کا اجراء کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے مہارت کے عالمی سینٹر کی حیثیت سے آئی سی اے آر۔ آئی آئی  ایم آر  کااعلان کیا۔ جس کے بعد  شری انّ  اور آئی وائی  ایم 2023کے متعلق  ایک مختصر فلم کی نمائش کی گئی۔ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ تمام شراکت داروں ماہر اداروں جیسے آئی سی آر ،آئی ایس اے ٹی، اے پی ای ڈی اے، آئی سی اے آر۔ آئی آئی ایم آر کے ساتھ ذاتی طور پر یا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میٹنگوں کااہتمام کرکے سال بھر تک  ایک  منظم ڈھنگ سے موٹے اناج کا بین الاقوامی سال منایا جائے  اور دیگر اداروں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ  تحقیق و  ترقی پیداواری صلاحیت اور قدر میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

کانفرنس نے غذائی اجناس اور دیگر اجناس کی پیداوار کے قومی اہداف کا تعین کیا ہے۔ سال 2024-2023  کے لیے کل غذائی اجناس کی پیداوار کا قومی ہدف 3320 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ دالوں کی پیداوار کا ہدف اس سال 278.1 لاکھ ٹن کے مقابلے 292.5 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے اور 2024-2023  میں تلہن  کی پیداوار 400 سے بڑھا کر 440 لاکھ ٹن کی جائے گی۔ شری انّ کی کل پیداوار 2023-2022  میں 159.1 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 2024-2023  میں 170.0 لاکھ ٹن کرنا ہے۔ حکمت عملی یہ ہوگی کہ بین فصلی اور فصلوں کے تنوع کے ذریعے رقبہ بڑھایا جائے اور کم پیداوار والے علاقوں میں ایچ وائی ویز کے تعارف اور مناسب زرعی طریقوں کو اپنانے کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے(زراعت اور کسانوں کی بہبود) کےمرکزی وزیر مملکت  جناب  کیلاش چودھری نے امید ظاہر کی کہ موٹے اناج  کی عالمی مانگ میں اضافہ ہونے والا ہے، جس کے نتیجے میں سال 2023 کو موٹے اناج  کے بین الاقوامی سال(آئی وائی ایم) کے طور پر منایا جائے گا، یہ ہمیں پیداوار بڑھانے کا ایک منفرد موقع فراہم کرے گا، موثر پروسیسنگ اور کھپت کو یقینی بنائیں، فصل کے روٹیشن( گردش )کے بہتر استعمال کو فروغ دیں، اور  خوراک کے نظام  میں بہتر رابطے کی حوصلہ افزائی  کی جائے  تاکہ موٹے  اناج کو فوڈ باسکٹ کے ایک اہم جزو کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔ اپنی کثیر فعالیت کی وجہ سے، باجرا اقتصادی اور ماحولیاتی تنوع، آب و ہوا کی لچک، اور خوراک اور غذائی تحفظ میں  تعاون دینے  کی کافی صلاحیت رکھتا ہے۔ ‘‘اسمارٹ فوڈ’’ یا ‘‘نیوٹری سیریلز’’ کے طور پر بڑے پیمانے پر پہچانا جاتا ہے، موٹا اناج  دنیا میں زرعی خوراک کے نظام کو تبدیل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہندوستان  موٹے اناج  کے لیے بین الاقوامی مرکز بننے کے لیے تیار ہے۔

2.jpg

اپنے تبادلہ خیال میں انہوں نے کہا کہ تلہن   اور دالوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور بیجوں اور دالوں کی پیداوار میں مزید اضافے کے لیے اب بھی زیادہ زور دیا جانا چاہیے۔ تمام سرکاری سہولتوں کے لیے، اس کے موثر نفاذ  کی خاطر  زرعی اسکیموں اور معلومات کو ایف پی او کے ذریعے دینا ضروری ہے۔

(زراعت اور کسانوں کی بہبود) سکریٹری جناب منوج آہوجا، نے کہا کہ ملک 2016-2015  سے غذائی اجناس کی پیداوار میں بڑھتے ہوئے رجحان کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حکومت نے فصلوں اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، پرائس سپورٹ (کم سے کم امدادی قیمت) کے ذریعے کسانوں کو معاوضے کی  واپسی کی یقین دہانی کو یقینی بنانے، فصلوں کے تنوع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور قرض کی دستیابی کو بڑھانے، میکانائزیشن کو آسان بنانے اور باغبانی اور نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے توجہ مرکوز کی ہے۔ نتیجتاً، زرعی برآمدات نے 2022-2021  میں تاریخی بلند ترین نمو کو چھو لیا۔ پچھلے سال 2021-2020 کے مقابلے میں، زرعی اور اس سے منسلک برآمدات 2021-2020 میں 41.86 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2022-2021  میں 50.24 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں یعنی 19.99 فیصد کا اضافہ درج کیاگیا ۔ زراعت کو جدید بنانے اور کسانوں کی سہولت کے لیے، حکومت نے ایس اے ٹی ایچ آئی (سیڈ ٹریس ایبلٹی، توثیق اور ہولیسٹک انوینٹری) پورٹل اور موبائل ایپ کا آغاز کیا، جو بیجوں کی تلاش، تصدیق اور انوینٹری کے لیے ایک مرکزی آن لائن سسٹم ہے جو کہ بیج کی پیداوار، معیاری بیج کی شناخت اور بیج کی تصدیق کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

3.jpg

مزید  برآں  انہوں نے کہا کہ موسم کی خراب صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنگل ونڈو ایڈوائزری سسٹم کو اپنایا جانا چاہیے تاکہ کاشتکاروں کو موسم سے متعلق مسائل جاری کیے جا سکیں۔ سوائل ہیلتھ کارڈ سسٹم کی بہتری کے لیے اس سال نیا اقدام کیا جائے گا جس کے لیے ایگریکلچر گریجویٹس کو ایس ایچ سی کے نفاذ پر کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

(فرٹیلائزرس) کے سکریٹری  جناب  ارون بروکا نے آئندہ خریف سیزن کے لیے کھاد کی بروقت فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ حکومت نے ملک بھر میں کھاد کی 3.25 لاکھ سے زیادہ دکانوں کو پردھان منتری کسان سمردھی کیندروں میں تبدیل کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ ایسے مراکز ہوں گے جہاں کسان نہ صرف کھاد اور بیج خرید سکتے ہیں بلکہ مٹی کی جانچ بھی کر سکتے ہیں اور کاشتکاری کی تکنیک کے بارے میں مفید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کھاد اور متعلقہ مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے انٹیگریٹڈ فرٹیلائزر مینجمنٹ سسٹم(آئی ایف ایم ایس) کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اپنے  تبادلہ خیال کے دوران  انہوں نے پی ایم پرانم اور پی ایم کسان سمردھی کیندر کے بارے میں معلومات فراہم کی انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ  نامیاتی (آرگینک) معلومات  کا  بھی استعمال کیا ۔

3.jpg

 (ڈی اے آ ر ای کے) سکریٹری ،  اور   آئی سی اے آر کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک نے ریاستوں کے فائدے اور اس کے مطابق ترقی کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے زراعت میں کی گئی حالیہ تکنیکی  پیش رفت  مشترک کیں ۔ انہوں نے سب کے لیے خوراک اور غذائی تحفظ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے بائیو فورٹیفائیڈ اور آب و ہوا میں لچکدار اقسام کے استعمال پر زور دیا۔ مزید تبادلہ خیال کے دوران  انہوں نے ان اقسام کی بہتری کے لیے روشنی ڈالی جو آب و ہوا سے مزاحم ہیں اور نئی جاری کی گئی ہیں اور بائیو فورٹیفائز اقسام کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005GF5S.jpg

 

(کھاد) کے ایڈیشنل سیکرٹری کی طرف سے کھاد کی فراہمی کی صورتحال پر، زراعت کے  ایڈیشنل سیکرٹری کی طرف سے زراعت میں ڈیجیٹلائزیشن کے لئے زرعی اسٹیک پر ایڈیشنل سیکرٹری اور مالیاتی مشیر کی طرف سے جاری کردہ مالی مسائل پر تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔ (فصلوں) سے متعلق جے ایس نے آنے والے خریف سیزن کے امکانات اور حکمت عملیوں پر ایک پریزنٹیشن دی۔ ریاست کے پرنسپل سکریٹریز مہاراشٹرا، جھارکھنڈ اور اڈیشہ نے خریف کی تیاری اور عمل آوری کے لیے اپنی حکمت عملی پیش کی۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا پر پریزنٹیشن پی ایم ایف بی وائی کے سی ای او کے ذریعہ کی گئی، اس کے بعد خشک سالی کے انتظام، آر کے وی وائی کے سالانہ ایکشن پلان اور ڈیجیٹل توسیعی منصوبوں کو متعلقہ جوائنٹ سکریٹریوں نے تفصیلات کے ساتھ مشترک کیں۔

(زراعت) کے ایڈیشنل سکریٹری اور ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو، آئی سی اے آر کے سینئر افسران اور مختلف ریاستی حکومتوں کے افسران نے نیشنل کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کے بعد تمام ریاستوں کے ایگریکلچر پروڈکشن کمشنروں اور پرنسپل سکریٹریوں کے ساتھ بات چیت کا سیشن کیا گیا تاکہ خریف سیزن 2023 کے دوران رقبہ کی کوریج، پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے اپنی ریاستوں سے متعلق مسائل اٹھائے جاسکے۔

*************

ش ح ۔ ح ا ۔ رض

U. No.4805



(Release ID: 1921865) Visitor Counter : 152


Read this release in: Telugu , English , Marathi