ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
ہندوستان 2030 تک غیر حجری ایندھن پر مبنی توانائی وسائل سے تقریبا 50 فیصد مجموعی بجلی کی نصب شدہ صلاحیت حاصل کرلے گا
Posted On:
03 APR 2023 11:07PM by PIB Delhi
ماحولیات ، جنگلات اور آب وہوا میں تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں بتایا کہ پیرس معاہدے کے نفاذ کے لئے اعلی کمیٹی (اے آئی پی اے ) جو ایک بین وزارتی گروپ ہے، 27 نومبر 2020 کو تشکیل دی گئی تھی۔ اس کے کام کاج میں منجملہ دیگر امور کے تال میل ، مواصلات اور اقوام متحدہ آب وہوا میں تبدیلی سے متعلق کنونشن کے فریم ورک کو قومی طور پر تعین شدہ تعاون (این ڈی سی) کی خبر دینا ، پیرس معاہدے کے تحت تقاضوں کی تکمیل کے لئے موسمیاتی اہداف کی نگرانی اور ان پر نظر ثانی ، مختلف موسمیاتی امور سے متعلق مشن وغیرہ کے تحت لائحہ عمل تیار کرنے کےلئے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
آب وہوا میں تبدیلی سےمقابلہ کرنے اور اس سے نمٹنے کے ساتھ ہی ساتھ 2070 تک مکمل خاتمے کے حصول کے لئے ایک لائحہ عمل فراہم کرنے کےلئے ہندوستان نے اضافی وعدوں کے ساتھ 26 اگست 2022 کو اپنا تجدید شدہ این ڈی سی پیش کیا۔ تجدید شدہ این ڈی س کے مطابق ہندوستان کا 2005 کی سطح سے 2030 تک 45 فیصد تک اپنی جی ڈی پی کے اخراج کی شدت کو کم کرنےکے لئے ایک اضافی ہدف ہے۔ ہندوستان، 2030 تک غیر حجری ایندھن پر مبنی توانائی وسائل سے تقریبا 50 فیصد مجموعی بجلی کی نصب شدہ صلاحیت حاصل کرلے گا ۔ ہندوستان نے پیرس معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے لئے 14 نومبر 2022 کو اپنی طویل مدتی لو کاربن ڈیولپمنٹ حکمت عملی بھی پیش کی ہے۔
24مارچ 2021 کو اپنی پہلی میٹنگ میں پیرس معاہدے کے نفاذ کے لئے اعلی کمیٹی اے آئی پی اے نے توانائی کی بچت کے موجودہ تجارتی نظام کے دائرے کو بڑھا کر توانائی کے شعبے کے لئے کاربن کی تجارتی اسکیم پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے19 دسمبر 2022 کوتوانائی کے تحفظ کے ترمیمی قانون 2022 کو نوٹیفائی کیا ہے۔ اس میں گھریلو کاربن مارکیٹ کے لئے شقیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے 30 مئی 2022 کو پیرس معاہدے کی دفعہ 6 کے نفاذ کے لئے قومی طور پر تعین شدہ تعاون (این ڈی اے آئی اے پی اے ) بھی نوٹیفائی کیا ہے، تاکہ ہندوستان میں بین الاقوامی کاربن کی تجارت کےلئے معاہدے کی دفعہ 6 تحت فریم اور عمل آواری کو فروغ دیا جاسکے۔ این ڈی اے آئی اے پی اے نے پیرس معاہدے کی نگرانی میں تعاون پر مبنی طریقہ کار کے تحت کار کریڈٹ کےلین کی کچھ سرگرمیوں کی نشان دہی کی ہے۔ البتہ عالمی بین کی شراکت داری سے کاربن کے اخراج کی نگرانی کے لئے کوئی انتظامی بنیادی ڈھانچہ تیار نہیں کیا گیاہے ۔
**********
ش ح۔ ح ا ۔ ق ر
U. No.3726
(Release ID: 1913792)
Visitor Counter : 173