ارضیاتی سائنس کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ گہرے سمندر کے مشن کا مقصد بحر ہند کے گہرے سمندر میں موجود جاندار اور بے جان وسائل کو بہتر طور پر سمجھنا اور اس سے بحری معیشت کی کوششوں میں مدد کرنا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 MAR 2023 3:14PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کے دفتر ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن کے مرکزی وزیر مملکت اورسائنس اور ٹیکنالوجی اور زمینی سائنس ، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گہرے سمندر کے مشن کا مقصد بحر ہند میں موجود گہرے سمندر میں جاندار اور بے جان وسائل کو بہتر طور پر سمجھنا اور اِن سے بحری معیشت کی کوششوں میں مدد کرنا ہے ۔
آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گہرے سمندر کا مشن ایک کثیر وزارتی، کثیر شعبہ جاتی پروگرام ہے ، جس میں گہرے سمندر کی ٹیکنالوجی کی ترقی پر زور دیا گیا ہے ، جس میں 6000 میٹر تک پانی کی گہرائی میں انسان بردار آبدوزوں کی تیاری ، گہرے سمندر میں کان کنی کی ٹیکنا لوجی ، گہرے سمندر میں معدنیات کے وسائل کی تلاش اور سمندری حیاتیاتی تنوع، سمندری موسمیاتی تبدیلی کی مشاورتی خدمات کی ترقی، گہرے سمندر کے سروے اور تلاش اور میرین بایولوجی میں صلاحیت کی تعمیر کے لئے ٹیکنالوجیز کے ساتھ ترقی بھی شامل ہے۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ 3 انسانوں کو لے جانے کے لئے انسان بردار آبدوز کے ذیلی نظام کا ڈیزائن تیار کیا جا چکا ہے اور اس کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ کانکنی کی مشین کا ڈیزائن تیار ہے اور26-2024 ء کے دوران عملی تجربہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ سمندری حیاتیاتی تنوع کی تلاش، سمندری موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مشاورتی خدمات کی ترقی اور گہرے سمندری سروے کے لئے کثیر الضابطہ تحقیقی جہاز کے حصول جیسی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ مشن کے تحت تیار کی گئی ٹیکنالوجیز سمندروں کی تلاش اور توانائی، تازہ پانی اور اسٹریٹجک معدنیات جیسے غیر جاندار وسائل کے ممکنہ استعمال میں مدد کریں گی۔ سمندر کی سطح، طوفانوں کی شدت اور تعداد وغیرہ کے بارے میں مشن کے عمودی 2 کے تحت تیار کئے جانے والے مشورے بھارتی ساحلی علاقوں کے سماجی اور اقتصادی فوائد کے لئے مفید ہوں گے۔ کوبالٹ، نکل، کاپر اور مینگنیز جیسی اسٹریٹجک معدنیات کی تلاش سے ، ان وسائل کے مستقبل میں تجارتی استعمال کے لئے راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔ ساحلوں سے دور توانائی کی پیداوار اور تازے پانی کی پیداوار کے لئے سمندری حرارتی توانائی کی منتقلی سے متعلق مطالعات کئے جا رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ش ح ۔ و ا ۔ ع ا )
U. No. 3196
(ریلیز آئی ڈی: 1910003)
وزیٹر کاؤنٹر : 125