ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

جناب ہردیپ سنگھ پوری نے بینگلورو میں آب وہوا اورماحولیات سے متعلق موسمیاتی ہمہ گیری کے ورکنگ گروپ (ای سی ایس ڈبلیوجی) کی پہلی میٹنگ سے خطاب کیا


جی -20 ملکوں نے نشانزد ترجیحات سے متعلق کلیدی امور-ارضیاتی انحطاط پرقابو حاصل کرنے ، ایکونظام کی بحالی کو مہمیز کرنے ، حیاتیاتی تنوع کو مالامال کرنے ، وسائل کی اثرانگیزی اورمدوّرمعیشت  کے بارے میں تبادلہ خیال کیا

Posted On: 10 FEB 2023 6:45PM by PIB Delhi

مکانات اورشہری اموراورپیٹرولیم اورقدرتی گیس کے مرکزی وزیرجناب ہردیپ سنگھ پوری نے آب وہوا اورماحولیات سے متعلق موسمیاتی ہمہ گیری کے ورکنگ گروپ (ای سی ایس ڈبلیو جی) کی میٹنگ کے دوسرے دن سے افتتاحی خطاب کے ساتھ اس کا آغاز کیا۔ انھوں نے کہاکہ یہ ایک مبنی برشمولیت ،  جرأت مندانہ اوراقدامات برمبنی ایجنڈے کی عہد بندی کے مقصد سے آپس میں مل کر کام کرنے کا دورہے ۔ یہ ایجنڈہ خیروعافیت  اورخوشحالی کوفروغ دیتاہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ای سی ایس ڈبلیو جی کے دوران کئے گئے غوروخوض کی بدولت ، لوگوں کے مابین قدرتی وسائل کی ملکیت سے ذہن تبدیل ہو کر ان کی نگرانی کی جانب مبذول ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0016HFG.jpg

جناب  پوری کے کلمات کا اعادہ کرتے ہوئے ، آب وہوا ، ماحولیات ، جنگلات اورآب وہوا کی تبدیلی کی وزارت کی سکریٹری اوربھارت کے لئے جی -20کی چیئر ، محترمہ لینا نندن نے کہاکہ ای سی ایس ڈبلیو جی  کے تحت ، تبادلہ خیال ، غوروخوض ، جی 20کے دیگرکلیدی ورکنگ  گروپوں کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعہ تین کلیدی ترجیحات پرتوجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ آب وہوا ، ماحولیات ، ہمہ گیریت اور آب وہوا  اور موسمی تبدیلی سے متعلق امورکو مکمل طورپر  حل کرلیاجائے ۔ ٹروئیکا (انڈونیشیا اور برازیل) کے نمائندوں نے مرکزی وزیر اورسکریٹری کے کلمات اور رائے زنی کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ABV0.jpg

افتتاحی اجلاس کے بعد ، حیاتیاتی تنوع اورارضیاتی انحطاط یازمین کے بنجربننے کے عمل کے بارے میں ایک تکنیکی نشست ہوئی ۔ اس نشست  کے دوران  تبادلہ خیال میں کان کنی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی ، جنگلاتی آگ سے متاثر ہونے والے علاقوں کی بحالی ، جانوروں کی نسلوں کی بنیاد پر حفاظت کے ذریعہ ان  کے دینے کے ٹھکانوں کے ایکونظام کی بحالی اورعالمی حیاتیاتی تنوع سے متعلق فریم ورک 2022کی ہم آہنگی  کے ساتھ حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اورانھیں مالامال بنانے سے متعلق مختلف النوع امورکا احاطہ کیاگیا۔

معروف عالمی اوربھارتی تنظیموں کے ممتاز مقررین نے موضوع سے متعلق اپنے نقطہ نظر اورخیالات پیش کیا ۔ تبادلہ خیال کے دوران زمینی انحطاط کے بارے میں جی 20فریم ورک کے ذریعہ ارضیاتی انحطاط پرقابو پانے اوراس میں کمی  کرنے کی غرض سے جی -20عالمی پہل قدمی کو مستحکم بناکر، سال 2040تک ارضیاتی انحطاط یازمین کے بنجربننے کے عمل میں کمی لاکر اسے 50فیصد تک کرنے سے جی -20کے ہدف کو حاصل کرنے کی خاطر اقدامات  کو مہمیز کرنے یا ان میں تیزی لانے پرتوجہ مرکوز کی گئی ۔ ورکنگ گروپ نے ، ملکوں کے مابین اپنے بہترین طورطریقوں اورٹیکنولوجی سے ایک دوسرے کو مطلع کرنے ، اورانحطاط شدہ ارضیاتی خطوں کی ماحولیاتی بحالی کے لئے جدت طرازی کے بارے میں اشتراک کی اہمیت پربھی زوردیا۔ اس نشست کے بعد ، جی -20ملکوں ، مدعوکئے گئے ملکوں اوربین الاقوامی  تنظیموں کے اپنے اپنے شعبوں کے ماہرمندوبین نے کئی دورکے تبادلہ خیال کئے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003WE99.jpg

دن کے دوسرے نصف کی شروعات ، وسائل کی اثرا نگیزی اورمدور معیشت کی حوصلہ افزائی کے بارے میں ایک تکنیکی اجلاس کے ساتھ ہوئی۔ مندوبین نے جی -20وسائل کی اثرانگیزی اورمدورمعیشت کا صنعتی اتحاد وضع کرنے  کے بارے میں غوروخوض کیا۔ جس کا مقصد  کلیدی صنعتوں کے مابین عالمی سطح پرساجھیداری کو پروان چڑھاناہے تاکہ تکنیکی  لحاظ سے تعاون ، خیالات ونظریات کے تبادلوں اور جوکھم سے مبرا سرمایہ کی فراہمی کا بندوبست کرنے کے عمل کو تقویت  بہم فراہم کی جاسکے ۔ اس کے علاوہ فولاد کے شعبے میں مدوریت  یاگردش  کو فروغ دینے کے سلسلے میں تکنیکی دستاویزات  کے مسودے کے بارے میں بھی غوروخوض کیاگیا۔

A group of people sitting at a tableDescription automatically generated with medium confidence

اس کے علاوہ پوری دنیامیں بڑے پیمانے پرسامان اوراشیاتیارکرنے والے مینوفیکچررس کی توسیع شدہ ذمہ داری (ای پی آر) کے نفاذ اورنقل پذیری کے بارے میں کلیدی مذاکرات کئے گئے ۔ پلاسٹک اشیاکی پیکیجنگ ، ای –کچرہ ،ناکارہ ٹائروں اوراستعمال شدہ بیٹریوں میں ای پی آر طریق برمبنی مارکیٹ کے لئے بھارت کے بہترین طورطریقوں  پربھی تبادلی خیال کیاگیا۔مدور حیاتیاتی معیشت کے بارے میں تبادلہ خیال کے دوران ، سامان کی کھپت میں بائیو ماس کا حصہ بڑھانے کی فوری ضرورت کو بھی اجاگرکیاگیا۔ کفائیتی اورسستے ٹرانسپورٹیشن یانقل وحمل کے لئے پائیدار  متبادل (ایس اے ٹی اے ٹی ) ، گوبردھن اور20فیصد ایتھانول کی آمیزش والے پیٹرول کے ذریعہ مدورحیاتیاتی معیشت کو فروغ دینے مقصد سے بھارت کی پالیسیوں اورپرگراموں  کو بھی پیش کیاگیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005MWCX.jpg

دن کے اختتامی اجلاس میں ، جی -20سکریٹریٹ کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ اینام گمبھیر نے ماحولیات اورآلودگی سے مبراسبزترقی سے متعلق معاہدے کے لئے لائف یعنی طرز زندگی کے بارے میں ایک پریزینٹیشن دیا۔ جس میں اس بات  کو اجاگرکیاگیا کہ ای سی ایس ڈبلیو جی ، ڈیولپمنٹ ورکنگ گروپ اورآب وہوا اورماحولیات اورموسمیاتی تبدیلی کے اختیارات کے ساتھ منسلک دیگر ورکنگ گروپوں کے قریبی تال میل کے ساتھ کام کرے گا۔ محترمہ اینام گمبھیر نے مزید بتایاکہ سبھی ورکنگ گروپوں کے مابین خوش اسلوبی کے ساتھ اشتراک قائم کرنے میں سہولت پیداکرنے کے لئے طریقہ کاربھی وضع کئے گئے ہیں تاکہ آب وہوا  اورماحولیات  سے متعلق سبھی امور کے بارے میں ایک مجموعی تناظر کو یقینی بنایاجاسکے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0067LVD.jpg

مندوبین  شام کو ایک پُرتکلف عشائیہ میں شرکت کریں گے ۔ جہاں وہ بھارت کے روایتی کھانوں  سے لطف اندوز ہوں گے اورکرناٹک کی مالامال ثقافتی وراثت  کی عکاسی  کرنے والے پروگراموں  سے بھی محظوظ ہوں گے ۔یہ دن ۔ جی -20پلیٹ فارم کی طاقت اوراثرورسوخ کو بروئے کارلانے سے متعلق ایک مثبت  نوٹ کے ساتھ اختتام پذیرہوا  تاکہ ان سے ٹھوس نتائج حاصل کئے جاسکیں ، جن نتائج کو مستقبل کی صدارتیں آگے لے جاسکیں اور جی -20کی اجتماعی اورمشترکہ کوششوں کو بعد میں حقیقت  کی شکل میں لایاجاسکے ۔ ای سی ایس ڈبلیو جی  نے بھارت کی صدارت  کے تحت اس کے کاز کے تئیں اپنی عہد بندی کی بھی  توثیق کی۔

***********

 

(ش ح ۔ع م۔ ع آ)

U -1994



(Release ID: 1901681) Visitor Counter : 153


Read this release in: English , Hindi , Kannada