سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیرڈاکٹر جتیندرسنگھ نے پائیدار اسٹارٹ اپس کے لیے ساتھ میں مل کر پی پی پی+ پی پی پی ماڈل کی تجویز پیش کی:صنعت کو اوپر کی طرف لے جانے والے پروگراموں کی اہمیت پر زور دیا
ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے ملک میں انوویشن اور صنعت کاری کے ماحول کے فروغ کے لیے پبلک ، پرائیویٹ سیکٹر، این جی او، تعلیمی اداروں اور تنظیموں کی سرپرستی اور شراکت داری کی اپیل کی
وزیرموصوف نے یہ باتیں انکیوبیٹر تجزیاتی فریم ورک لانچ کرنے کے بعد نیتی آیوگ اٹل انوویشن مشن (اے آئی ایم) پر ایم ایچ ایل سی کی میٹنگ کے دوران کہیں
اب تک 69 اٹل انکیوبیشن سینٹر (اے آئی سی ایس) کو شروع کیا جاچکا ہے، جس کے نتیجے میں 2900 سے زیادہ اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
Posted On:
20 FEB 2023 7:48PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)سائنس و ٹیکنالوجی ؛ وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارضیاتی سائنس؛ وزیر مملکت پی ایم او، عملہ ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے پائیدار اسٹارٹ اپس اور پائیدار سائنسی وینچرس کے لیے بین الاقوامی اشتراک کے ساتھ ‘‘پی پی پی+پی پی پی’’ ماڈل کی تجویز پیش کی ہے۔
نیتی آیوگ میں اٹل انوویشن مشن (اے آئی ایم) کی میٹنگ میں بولتے ہوئے ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے ایسے پروگرام چلانے کی اہمیت پر زور دیا جس سے صنعت کو آگے لے جانے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور رفتار میں تیزی آئے، جہاں صنعت سیکٹر کی پیمائش کرسکے، ہمیں کمیوں کے بارے میں بتا سکے اور اس طرح ہم ایک ساتھ مل کر اسٹارٹ اپس سے بات چیت کرسکیں، تاکہ کوئی ایسا پروگرام سامنے آئے جو ہندوستانی اختراعات کو بین الاقوامی سطح پر لے جائے۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ شراکت داری کرنے والی حکومتیں دائمی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے پرائیویٹ سیکٹر سے بات چیت کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسے برقرار رکھنے کے لیے آؤٹ پٹ کو کاروباری بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح سے ہمارے سامنے جو بھی کامیاب اور قابل نقل ماڈل سامنے آئے گا، وہ ہمیں آگے بڑھنے میں مدد کرسکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے کہا کہ اس کا دوسرا ضروری پہلو علاقائی اختراعی پروگرام ہے، کیونکہ ملک میں کئی تخلیقی اور اختراعی لوگوں کو زبان سے متعلق رکاوٹ کی وجہ سے موقع ہی نہیں مل پاتا اور اسی لیے انگریزی اور ہندی سے اوپر اٹھ کر ہم انہیں مقامی زبانوں میں بھی پروگرام پیش کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے اسٹارٹ اپس اور انوویٹرس کے سفر کو دستاویزی شکل دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن سائنسدانوں نے صنعت کار بننے کا سفر شروع کیا ہے، وہ ناکام یا کامیاب بھی ہوسکتے ہیں،لیکن ہمارے پاس ان کے سفر سے سیکھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
وزیر موصوف نے ملک میں اختراع اور صنعت کاری کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پبلک، پرائیویٹ سیکٹر، این جی او، تعلیمی اداروں اور تنظیموں کی سرپرستی اور شراکت داری کی بھی اپیل کی۔
ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے اس بات کی تعریف کی کہ اے آئی ایم نے اسکولوں میں مسائل کو حل کرنے والی اختراعی ذہنیت کی تخلیق کو یقینی بنانے اور یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، پرائیویٹ اور ایم ایس ایم ای سیکٹر میں صنعت کاری کا ایکو سسٹم تیار کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نشاندہی کی کہ ٹائر -2 ، ٹائر-3 شہروں، آرزومند ضلعوں، قبائلی، پہاڑی اور ساحلی علاقوں سمیت محروم اور پسماندہ علاقوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات کے فوائد کو فروغ دینے کے لیے اے آئی ایم ایک امتیازی شراکت داری سے متحرک ماڈل کے ساتھ اٹل کمیونٹی انوویشن سینٹر (اے سی آئی سی) قائم کرنے جارہا ہے، جس میں اے آئی ایم ، اے سی آئی سی کو یکساں یا زیادہ میل کھانے والی فنڈنگ کی شرط پر 2.5 کروڑ روپے تک کی گرانٹ فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ملک بھر میں اسٹارٹ اپس کے ذریعے 14 اے سی آئی سی قائم کئے جاچکے ہیں، جس میں 10 انکیوبیٹر بھی شامل ہیں۔ مارچ 2023 تک 50 سے زیادہ اے سی آئی سی قائم کرنے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات کی تعریف کی کہ ملک بھر کے اسکولوں میں اٹل ٹنکرنگ لیب بنائے جارہے ہیں اور ملک بھر کے 700 ضلعوں میں 10 ہزار لیب اس وقت کام کررہے ہیں اور 7.5 ملین طلبا کو اے ٹی ایل ایس تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم کے ذریعے جموں وکشمیر ، لداخ، شمال مشرقی ریاستوں، آرزومند ضلعوں، ہمالیائی اور جزیرے والے خطوں میں10 ہزار نئے اے ٹی ایل ایس بھی قائم کیے جائیں گے۔
اٹل نیو انڈیا چیلنج پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندرسنگھ نےکہا کہ اس کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات کا انتخاب، مدد اور آبیاری کرنا ہے، جو قومی اہمیت اور معاشرے کی افادیت کے چیلنجوں کا سامنا کرسکے۔ اٹل نیو انڈیا چیلنج (اے این آئی سی) کا مقصد دوہرا ہے، قومی اہمیت اور معاشرتی افادیت سے متعلق مسائل کو حل کرنے والی موجودہ ٹیکنالوجیوں سے مصنوعات تیار کرنے میں مدد کرنا اور ہندوستانی تناظر میں بازاروں اور گاہکوں کو تلاش کرنے والے نئے حل کی فراہمی میں مدد کرنا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ان تمام کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اے آئی ایم نے سب سے بڑا مینٹر انگیجمنٹ اور مینجمنٹ پروگرام ‘‘ مینٹر انڈیا-تبدیلی کے مینٹرس’’ شروع کیا ہے۔ ابھی تک اے آئی ایم انونیٹ پورٹل پر ملک بھر سے اے آئی ایم کے پاس 10 ہزار سے زیادہ رجسٹریشن ہیں، جن میں سے 4 ہزار سے زیادہ کو اے ٹی ایل ایس اور اے آئی سی ایس کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
******
ش ح ۔ ق ت۔ ت ع
U. No. 1892
(Release ID: 1900953)
Visitor Counter : 136