وزارت خزانہ

سال 2022-23 کے لیے کیپٹل اخراجات میں مجموعی طور پر 35.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس میں سے تقریباً 67 فیصد اپریل تا دسمبر کی مدت میں خرچ کیا گیا ہے


وائبلٹی گیپ فنڈنگ ​​(وی جی ایف ) اسکیم کے تحت محکمہ اقتصادی امور کے ذریعہ 2982.4 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے

نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن میں 108 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ 8964  منصوبے عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہیں

نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی ) کے تحت سڑکوں، پاور سیکٹر، کوئلہ اور کان کنی کے لیے مالی سال 22 میں 0.9 لاکھ کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 0.97 لاکھ کروڑ روپے مونیٹائز کیے گئے

مالی سال 22 میں 10,457 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں

مالی سال 2022 کے دوران قومی آبی گزرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت نے 108.8 ملین ٹن کی اب تک کی بلند ترین سطح کو حاصل کیا ہے، جس میں پچھلے سال کے مقابلے میں 30.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے

Posted On: 31 JAN 2023 1:42PM by PIB Delhi

آج 31 جنوری 2023 کو پارلیمنٹ میں ’اکنامک سروے 2022-23’ پیش کرتے ہوئے خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں اضافہ معیشت کی ممکنہ ترقی کو اہم مدد دیتا ہے۔ 2022-23 (بجٹ تخمینے-بی ای) میں سرمایہ جاتی  اخراجات کا تخمینہ پچھلے سال (2020-21) کے 5.5 لاکھ کروڑ سے  35.4 فیصد بڑھ کر 7.5 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، جس میں سے 67 فیصد اپریل سے لے کر دسمبر 2022  تک خرچ کیا گیا۔ اقتصادی سروے کے باب فزیکل اور ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر : ممکنہ ترقی کی حوصلہ افزائی میں کہا گیا ہے کہ  حکومت نے حالیہ برسوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرمایہ کاری میں سرمایہ کاری کو حمایت دی ہے،  جب نجی شعبے کی جانب سے اس پر ہونے والا خرچ کم ہوگیا تھا۔

اقتصادی سروے کے مطابق، جہاں نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن (این آئی پی) اور نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی) بنیادی ڈھانچہ جاتی سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری محرک فراہم کرے گی، وہیں نیشنل لاجسٹک پالیسی (این ایل پی) خدمات، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر اور رسد ورکنگ فورس  میں ہنرمندی کے فرق کو  دور کرے گی۔ پی ایم گتی شکتی کو کثیر الجہتی نقطہ نظر کے ساتھ فزیکل انفرا اسٹرکچر میں موجود خلا کو پر کرنے اور مختلف ایجنسیوں کے موجودہ اور مجوزہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اقدامات کو مربوط کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ چونکہ فزیکل انفرا اسٹرکچر کو اپنی طویل  مدت  کے دوران مسلسل مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے حکومت نے نیشنل بینک فار فنانسنگ انفرا اسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ (این اے بی ایف آئی ڈی) کو ایک ترقیاتی مالیاتی ادارے کے طور پر بھی قائم کیا تاکہ سرمایہ کاری کا ایک اعلیٰ دور شروع ہو سکے۔ اقتصادی سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ہند کی تمام متعلقہ وزارتوں/محکموں میں پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیل (پی ڈی سیز) کی شکل میں تیزی سے سرمایہ کاری کے لیے ایک ادارہ جاتی میکانزم قائم کیا گیا ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)

     اقتصادی سروے کے مطابق، پی پی پی حکومتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبوں میں نجی شعبے کی طاقت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اپریزل کمیٹی نے مالی سال 2015 سے مالی سال 2023 تک 2,27,268.1 کروڑ روپے کی کل پروجیکٹ لاگت کے ساتھ 79 پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔

      وائبلٹی گیپ فنڈنگ ​​(بی جی ایف) اسکیم کو 2006 میں اقتصادی امور کے محکمے (ڈی ای اے) نے متعارف کرایا تھا تاکہ معاشی طور پر ناقابل عمل لیکن سماجی/اقتصادی طور پر مطلوبہ پی پی پی  منصوبوں کو مالی امداد فراہم کی جا سکے۔ بی جی ایف  اسکیم کے تحت 2014-15 سے 2022-23 تک 57,870.1 کروڑ روپے کی ٹی پی سی کے ساتھ 56 منصوبوں کو اصولی منظوری دی گئی تھی 25,263.8 کروڑ روپے  کے 27  پروجیکٹوں  کو   5813.6 کروڑ روپے (حکومت ہند اور ریاستی حصہ) کی  کل وائبلٹی گیپ فنڈنگ ​​کی منظوری کے ساتھ حتمی منظوری دی گئی۔ مالی سال 2015 سے مالی سال 23 تک اس منصوبے کے تحت  محکمہ اقتصادی امور کی طرف سے تقسیم کی گئی کل رقم 2982.4 کروڑ روپے ہے۔

 ساتھ ہی انڈیا انفرا اسٹرکچر پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اسکیم ( آئی آئی پی ڈی ایف)، جو کہ پی پی پی  پروجیکٹوں کے ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی امداد کی اسکیم ہے، کو حکومت نے 3 نومبر 2022 کو نوٹیفائی کیا تھا۔ اسکیم کے تحت مالی سال 23 سے مالی سال 25 تک تین سال کی مدت کے لیے کل خرچ 150 کروڑ روپے ہے۔

نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن (این آئی پی)

     حکومت نے ملک بھر میں اعلیٰ معیار کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے مالی سال 20-25 کے دوران تقریباً 111 لاکھ کروڑ روپے کی تخمینی انفرا اسٹرکچر سرمایہ کاری کے ساتھ ایک بصیرت مندانہ نقطہ نظر کے  تحت نیشنل انفرا اسٹرکچر پائپ لائن (این آئی پی) کا آغاز کیا۔ این آئی پی میں اس وقت تعمیل کے مختلف مراحل میں  108 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کل  سرمایہ کاری کے ساتھ 8964 پروجیکٹ ہیں۔ اب این آئی پی اور پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ (پی ایم جی) پورٹلز کو مربوط کرنے کی تجویز ہے۔

قومی مونیٹائزیشن پائپ لائن - مونیٹائزیشن کے ذریعے تعمیر

     نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی ) کا حوالہ دیتے ہوئے، اقتصادی سروے کا کہنا ہے کہ اس کا اعلان 23 اگست 2021 کو  ‘‘مونیٹائزیشن کے ذریعے اثاثہ تخلیق’’ کے اصول پر کیا گیا تھا۔ مالی سال 20-25 کے دوران چار سال کی مدت میں مرکزی حکومت کے اثاثوں کے ذریعے این ایم پی  کے تحت کل مونیٹائزیشن کا تخمینہ 6 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ سڑکوں، پاور سیکٹر، کوئلہ اور کان کنی کے شعبے کے لیے، مالی سال 22 میں 0.9 لاکھ کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 0.97 لاکھ کروڑ روپے  کا  مونیٹائزیشن کیا گیا۔

قومی لاجسٹکس پالیسی: لاجسٹکس  کی لاگت کو کم کرنا

      جائزے کے مطابق بھارت سرکار کے ذریعہ ‘اڑے دیش کا عام  ناگرک’ (اڑان)، بھارت مالا، ساگرمالا، پروت مالا، نیشنل ریل پروجیکٹ ،  ‘بنیادی ڈھانچے کے اقدامات’ اور ‘پروسیس ریفارم’ جی ایس ٹی، ای-سنچت، کاروبار کے لیے سنگل ونڈو انٹرفیس (سوئفٹ)، انڈین کسٹمز الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج گیٹ وے (آئس گیٹ)، تورنت کسٹمز و دیگر کے توسط سے  لاجسٹکس ایکو سسٹم کو بہتر بنانے کی کوششیں پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔ قومی لاجسٹک پالیسی 17 ستمبر 2022 کو شروع کی گئی تھی تاکہ لاجسٹکس کی کارکردگی کے عوامل کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سرکاری اداروں کی ان تمام کوششوں کو یکجا کیا جا سکے۔

فزیکل انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں ترقی

سڑک  نقل و حمل

اقتصادی سروے کے مطابق، وقت کے ساتھ مالی سال 2022 میں 10457 کلومیٹر سڑکوں کی  تعمیر کے ساتھ قومی شاہراہوں (این ایچ)/سڑکوں کی تعمیر میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مالی سال 2016 میں 6061 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر ہوئی  تھی۔ اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے کل بجٹ سپورٹ پچھلے چار سالوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مالی سال 2023 (31 اکتوبر 2022 تک) کے دوران یہ  تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے رہی ہے۔

    پبلک سیکٹر کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن کے وژن کے مطابق، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے مالی سال 2022 میں نہ صرف  سڑکوں پر مونیٹائزیشن کی سہولت کے لئے  بلکہایک سڑک کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مقصد سے غیر ملکی اور ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے ہی اپنا آئی این وی آئی ٹی شروع کیا ہے۔ اب تک نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے آئی این وی آئی ٹی نے دسمبر 2022 تک اعلیٰ صلاحیت والے غیر ملکی اور ہندوستانی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے 10,200 کروڑ روپے اکٹھے کیے ہیں۔

ریلوے

     اقتصادی سروے کے مطابق، کووڈ-19 کے جھٹکے کے باوجود ہندوستانی ریلوے نے مال بردار ٹریفک کو برقرار رکھا ہے۔ مالی سال 22-23 کے دوران (22 نومبر تک) ہندوستانی ریلوے نے مالی سال 21-22 (کے آر سی ایل کو چھوڑ کر)  میں  اسی مدت کے دوران 901.7 ملین ٹن کے مقابلے میں  976.8 ملین ٹن (کے آر سی ایل کو چھوڑ کر) محصول  حاصل کیا ہے جو  8.3 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے ساتھ ہی ریلویز میں بنیادی ڈھانچے  پر سرمایہ جاری خرچ  (کیپیکس) کو پچھلے چار برسوں میں زبردست بڑھاوا ملا ہےکیونکہ مالی سال 23 میں 2.5 لاکھ کروڑ کے کیپیکس (بجٹ تخمینہ) کے ساتھ، پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

     اقتصادی سروے کے مطابق، ہندوستانی ریلوے کے تحت شروع کیے گئے بڑے اقدامات میں ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل پروجیکٹ، ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پروجیکٹ، گتی شکتی ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینل، وندے بھارت ٹرین کی شروعات، الیکٹریکل/الیکٹرانک انٹر لاکنگ سسٹمز، ہائپر لوپ تکنیک کی ترقی اور مالی سال 2021 میں کسان ٹرینوں کا آغاز تاکہ خراب ہونے والی اشیاء کی تیز رفتار نقل و حرکت ممکن ہو سکے، شامل ہیں۔

شہری ہوابازی

    اقتصادی سروے کے مطابق دسمبر 2022 میں مسافروں کی کل تعداد 150.1 لاکھ تھی جو کہ کووڈ سے پہلے کی سطح (19 اپریل سے 20 فروری تک 11 ماہ کی اوسط) سے 106.4 فیصد زیادہ تھی۔ نومبر 22 کے دوران کل ایئر کارگو ٹنیج 2.5 لاکھ میٹرک ٹن تھا، جو کہ کووڈ سے پہلے کی سطح کا 89 فیصد ہے۔

بندرگاہ

     مارچ 2014 کے آخر میں بڑی بندرگاہوں کی گنجائش 871.52 ملین ٹن سالانہ (ایم پی ٹی اے) تھی، جو 22 مارچ کے آخر تک بڑھ کر 1534.9 ایم پی ٹی اے ہو گئی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، مجموعی طور پر، انہوں نے مالی سال 2022 کے دوران 720.1 ملین ٹن ٹریفک کو سنبھالا ہے۔

    بندرگاہ کی صلاحیت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے، حکومت بندرگاہ کے انتظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جس کے تحت صلاحیت سے کم استعمال کے مسئلے سے نمٹنا، تکنیکی طور پر موثر لوڈنگ/ان لوڈنگ آلات کے ساتھ برتھ کی جدید  کاری  اور بندرگاہ سے کنکٹی وٹی کے لئے نئے چینل بنانا  شامل ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، بندرگاہوں کی تعمیل کو ہموار کرنے اور جہازوں کے لیے ٹرن اراؤنڈ ٹائم (ٹی اے ٹی) کو کم کرنے کے لیے اہم بندرگاہوں پر کلیدی  درآمد-برآمد (ای ایکس آئی ایم- ایکزم) کے عمل کو ڈیجیٹائز کرنے کی سمت میں  بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔

اندرون ملک نقل و حمل

    اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنو- اکنامک فزیبلٹی اور تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کے نتائج کی بنیاد پر کارگو کی نقل و حرکت کے لیے   26 نیشنل واٹر ویز (این ڈبلیو) کو ترجیح دی گئی ہے، جن میں سے 14 انتہائی قابل عمل قومی آبی گزرگاہوں میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ مالی سال 22 کے دوران قومی آبی گزرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت نے 108.8 ملین ٹن کی اب تک کی بلند ترین سطح حاصل کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 30.1 فیصد زیادہ ہے۔

بجلی

اقتصادی سروے کے مطابق، 31 مارچ 2022 تک یوٹی لٹیز اور کیپٹیو پاور پلانٹس کی کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت 482.2 گیگا واٹ (جی ڈبلیو) تھی، جو کہ 31 مارچ 2021 کے  460.7 جی ڈبلیو کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ ہے۔ 31 مارچ 2022 تک یوٹی لٹیز کی نصب شدہ صلاحیت 399.5 گیگا واٹ تھی جو کہ ایک سال پہلے  کے 382.1 گیگا واٹ سے 4.5 فیصد زیادہ ہے۔ یوٹی لٹیز میں کل نصب شدہ صلاحیت کا سب سے بڑا حصہ (59.1 فیصد)  توانائی کے تھرمل ذرائع کا ہے۔ اس کے بعد قابل تجدید توانائی کے وسائل  کا حصہ 27.5 فیصد اور ہائیڈرو پاور کا حصہ  11.7 فیصد ہے۔

 مالی سال 22 اور  مالی سال 21 کے درمیان بجلی کی پیداوار میں سب سے زیادہ اضافہ یوٹی لٹیز اور کیپٹیو پلانٹس کے لیے قابل تجدید توانائی کے وسائل میں ریکارڈ کیا گیا۔ ہندوستان نے 2030 تک غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی وسائل سے 50 فیصد مجموعی برقی توانائی  کی نصب شدہ صلاحیت کو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

      اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان توانائی کے شعبے میں روایتی ذرائع سے غیر فوسل ذرائع کی جانب منتقل ہونے کے لیے پی ایم کسم، سولر پارک اسکیم  اور چند دیگر اسکیموں کے  توسط سے اپنی عہد بستگیوں کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن  ہے۔ حکومت کے تعاون سے پرائیویٹ سیکٹر نے مجموعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور  ایک قلیل مدت میں یونٹ لاگت کو کم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م  م ۔ ن ا۔

U-1036



(Release ID: 1895049) Visitor Counter : 177


Read this release in: Telugu , Malayalam , English , Hindi