خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
ہمہ گیر انداز میں بچوں کی جامع نگہداشت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پی ایم کیئرس فار چلڈرن
Posted On:
14 DEC 2022 3:09PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ اطلاع فراہم کی گئی کہ پی ایم کیئرس فار چلڈرن اسکیم ان بچوں کو امداد فراہم کرتی ہے جنہوں نے کووِڈ۔19 وبائی مرض کی وجہ سے والدین یا ان میں سے بچ جانے والا کوئی ایک یا قانونی سرپرست یا گود لینے والے والدین کھو دیے ہیں ۔ اس اسکیم کا مقصد ہمہ گیر انداز میں بچوں کی جامع نگہداشت اور تحفظ کو یقینی بنانا، اورصحتی بیمہ کے توسط سے ان کی خیرو عافیت کو یقینی بنانا، تعلیم کے ذریعہ انہیں بااختیار بنانا اور مالی تعاون کے ذریعہ 23 برس کی عمر تک انہیں خود کفیل بنانے کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ ایک آن لائن پورٹل یعنی pmcaresforchildren.in کے ذریعہ اس اسکیم تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ہر ایک شناخت شدہ بچے کے کھاتے میں ایک مقرر کی گئی رقم کچھ اس طرح منتقل کی گئی ہے کہ جب یہ بچے 18 برس کی عمر کو پہنچیں گے تو ہر ایک بچہ کے ذاتی اندوختہ میں 10 لاکھ روپئےجمع ہو جائیں گے۔ ڈاک خانہ کی ماہانہ آمدنی اسکیم میں 10 لاکھ روپئے کی رقم کی سرمایہ کاری کے ذریعہ، یہ بچے 18 سے 23 برس کی عمر کے درمیان ماہانہ وظیفے کے حقدار ہوں گے۔ 23 برس کی عمر کو پہنچنے پر انہیں 10 لاکھ روپئے کی رقم حاصل ہوگی۔ رشتہ داروں کے ساتھ رہنے والے بچے مشن وتسلیہ اسکیم کے تحت ماہانہ 4000 روپئے حاصل کر رہے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت، قریب ترین کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن/کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ یا پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، درجہ 1 سے 12 کے اسکول جانے والے تمام بچوں کے لیے سالانہ 20000 روپئے کے بقدر کی اسکالرشپ فراہم کی گئی ہے۔ بھارت میں پیشہ وارانہ کورسز/اعلیٰ تعلیم کے لیے تعلیمی قرض حاصل کرنے میں بھی بچوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے، جس کے لیے سود پی ایم کیئرس فنڈ برداشت کرے گا۔ 5 لاکھ روپئے کے بقدر صحتی بیمہ احاطہ کے ساتھ تمام بچوں کوآیوشمان بھارت پردھان منتری – جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم – جے اے وائی) کے تحت درج رجسٹر کیا جا چکا ہے۔ اُن کے 23 برس کی عمر کو پہنچ جانے تک اُنہیں صحتی بیمہ کے تحت احاطہ فراہم کیا جائے گا۔
بچے ’سواناتھ اسکالرشپ اسکیم فار اسٹوڈینٹس‘ کے فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں، جسے اے آئی سی ٹی ای کے ذریعہ منظور شدہ اداروں اور کورسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ’آل انڈیا کونسل فار ٹکنیکل ایجوکیشن(اے آئی سی ٹی ای)‘ کے ذریعہ نافذ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت، ایک طالب علم کو ہر ایک تعلیمی سال کے لیے (پہلے برس میں داخل شدہ ڈگری کے طلباء کے لیے زیادہ سے زیادہ 4 برس اور ڈپلومہ کے طلباء کے لیے زیادہ سے زیادہ 3 برس)کالج فیس کی ادائیگی، کمپیوٹر کی خریداری، اسٹیشنری، کتابیں، آلات، سافٹ ویئر، وغیرہ کے لیے یک مشت رقم کے طور پر سالانہ 50000 روپئے فراہم کیے جاتے ہیں۔ روزگار میں ہنرمند افرادی قوت کی قلت اور فی الوقت برسر روزگار افراد کی کم ہنرمندی جیسی دوہری چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے ملک میں اے آئی سی ٹی ای کے ذریعہ منظور شدہ تمام اداروں کے لیے، اے آئی سی ٹی ای اور ’’ہنرمندی میں اضافہ اور ای آئی سی ٹی ای کی تنظیم نو کا مشن‘‘ (کے اے آرایم اے) کے تحت بھی بچوں پر احاطہ کیا جاتا ہے۔ راجستھان سمیت، پی ایم کیئرس فار چلڈرن اسکیم کے تحت اسکالرشپ کے مستحق درجہ 1 سے 12 کے اسکول جانے والے بچوں کی ، ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ I میں دی گئی ہیں۔
ضمیمہ- I
پی ایم کیئرس فار چلڈرن اسکیم کےتحت اسکالرشپ کے مستحق درجہ 1 سے 12 کے اسکول جانے والے بچوں کی ،ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے لحاظ سے تفصیلات
Sl. No.
|
ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
اسکالرشپ کے مستحق بچوں کی مجموعی تعداد
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
0
|
2
|
آندھرا پردیش
|
316
|
3
|
اروناچل پردیش
|
7
|
4
|
آسام
|
51
|
5
|
بہار
|
71
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
12
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
98
|
8
|
دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو
|
12
|
9
|
دہلی
|
133
|
10
|
گوا
|
6
|
11
|
گجرات
|
204
|
12
|
ہریانہ
|
87
|
13
|
ہماچل پردیش
|
23
|
14
|
جموں و کشمیر
|
16
|
15
|
جھارکھنڈ
|
46
|
16
|
کرناٹک
|
205
|
17
|
کیرلا
|
107
|
18
|
لداخ
|
0
|
19
|
لکشادیپ
|
0
|
20
|
مدھیہ پردیش
|
399
|
21
|
مہاراشٹر
|
731
|
22
|
منی پور
|
19
|
23
|
میگھالیہ
|
12
|
24
|
میزورم
|
14
|
25
|
ناگالینڈ
|
12
|
26
|
اڈیشا
|
103
|
27
|
پڈوچیری
|
11
|
28
|
پنجاب
|
37
|
29
|
راجستھان
|
186
|
30
|
سکم
|
0
|
31
|
تمل ناڈو
|
339
|
32
|
تلنگانہ
|
231
|
33
|
تری پورہ
|
0
|
34
|
اتراکھنڈ
|
42
|
35
|
اترپردیش
|
408
|
36
|
مغربی بنگال
|
53
|
مجموعی تعداد
|
3991
|
******
ش ح۔ا ب ن۔ م ف
U-NO.13802
(Release ID: 1883525)
Visitor Counter : 119