پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 DEC 2022 7:43PM by PIB Delhi
دیہی ترقی اور پنچایت راج کے مرکزی وزیر جناب گریراج سنگھ نے آج نئی دلی میں کٹیلے پودے کی کاشت اوراس کے اقتصادی استعمال سے متعلق ایک مشاورتی میٹنگ طلب کی ۔ میٹنگ میں چلی کے سفیر جناب جوان اینگولو ، مراقش کے سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن جناب ایراچد الائوی میرانی ، برازیل کے سفارتخانے کی توانائی ڈویژن کی ہیڈ محترمہ کارولینا سیتو ، برازیل کے سفارتخانے کے زرعی اتاشی جناب اینگلولو ماریسیو اور ان ملکوں میں بھارتی سفیروں نے ورچوئل طریقے سے میٹنگ میں شرکت کی۔
میٹنگ میں چلی ، میکسیکو، برازیل ، مراقش ، تیونیشیا ، اٹلی ، جنوبی افریقہ جیسے مختلف ملکوں کے 14 ماہرین کے علاوہ ہندوستان نے بھی شرکت کی ۔زرعی وسائل کے محکمے کے سکریٹریوں کے علاوہ امور خارجہ کی وزارت ، دیہی ترقی کے محکمے اور خوراک اور زرعی تنظیموں کے نمائندوں ، انڈین آئل کارپوریشن لمٹیڈ ، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ اور خشک علاقوں میں زرعی تحقیق کے بین الاقوامی سینٹر کے نمائندوں کے علاوہ دیگر سینئیر افسروں نے بھی شرکت کی ۔
ہندوستان کے پاس اپنے جغرافیائی رقبے کا تقریباََ 30فیصدحصہ بنجر زمین کے زمرے میں آتا ہے۔ڈی او ایل آر پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے اپنے واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ کے ذریعہ بنجر زمین کو بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مختلف قسم کے پودے لگانا ان سرگرمیوں میں سے ایک ہے، جو بنجر زمینوں کی بحالی میں معاون ہوتی ہے۔دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب گریراج سنگھ نے خواہش ظاہر کی کہ ملک کے وسیع تر فائدے کے لئے حیاتیاتی ایندھن ،خوراک ،چارہ اور بایو فرٹیلائزر کی پیداوار کے لئے اس کے استعمال کے فوائد کو سمجھنے کے لئے بنجر زمین پر کٹیلے پودے لگانے کے لئے مختلف متبادل تلاش کئے جائیں گے۔ وزیر موصوف کا خیال ہے کہ بایو فیول کی پیداوار سے ملک کے ایندھن پردرآمد کا بوجھ کم ہوگا اور ان علاقوں کے غریب کسانوں کے لئے روزگار اور آمدنی پیداکرنے میں بھی مدد ملے گی۔
انڈین کونسل آف ایگریکلچر ل ریسرچ اورخشکی کے علاقوں میں زرعی تحقیق کے بین الاقوامی سینٹر کو مدھیہ پردیش میں آئی سی اے آر ڈی اے کے انبالہ فارم میں ایک پائیلیٹ پروجیکٹ قائم کرنے کے لئے شامل کیا جارہا ہے ۔وزارت پٹرولیم سے اس منصوبے میں ضروری تکنیکی مدد فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
کٹیلے پودے ایک زیرو فیٹک پلانٹ ہے جو کہ نسبتا َ ََسست رفتاری سے اگتا ہے جیسا کے اوپر بتایا گیا ہے کہ اس میں بے پناہ صلاحیت ہے ۔اس کے علاوہ اس سے ملک کے لئے قومی سطح پر طے شدہ شراکت اور پائیدار ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ محکمے کا خیال ہے کہ اگر فوائد ان کی موجودہ آمدنی کی سطح سے کہیں زیادہ ہیں تو بنجر زمین والے علاقوں میں کاشتکاروں کی طرف سے کٹیلے پودے کو چنا جائے گا۔ چِلی ، میکسیکو ، برازیل ،مراقش اور دیگر ممالک کے تجربات کا جائزہ لیا جارہا ہے ،جو اس مقصد کے حصول میں بہت مددگار ثابت ہوں گے۔
*************
ش ح۔ح ا ۔ رم
U-13677