قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایس سی او کی اندرونی پالیسی باہمی اعتماد اور فائدے پر مبنی ہے،  ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے انصاف کی 9ویں میٹنگ میں قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو کا بیان

Posted On: 09 DEC 2022 7:24PM by PIB Delhi

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے انصاف کی نویں میٹنگ میں قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے قانون اور انصاف کی وزارت میں وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل کے ہمراہ نمائندگی کی۔

 

اس سے قبل قانون اور انصاف کی وزارت میں قانونی امور کے ایڈیشنل سکریٹری جنا ب راجیو سنگھ ورما نے 7 دسمبر 2022 کو حکومت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایکسپرٹ ورکنگ گروپ کی تیسری میٹنگ شرکت کی۔


یہ میٹنگیں ویڈیو کانفرنسنگ طریقے سے ہوئیں۔

 

میٹنگ میں عوامی جمہوریہ ہندوستان کی نمائندگی قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے کی ، جبکہ قزاخستان کے انصاف کے محکمے میں نائب وزیر ،چین کے وزیر انصاف، جمہوریہ کرغستان کے نائب وزیر انصاف، پاکستان کے قانون اور انصاف کے وزیر، روسی فیڈریشن کے پہلے نائب وزیر انصاف، تاجکستان کے وزیر انصاف اور ازبکستان کے وزیر انصاف نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ میٹنگ میں ایس سی او کے ڈپٹی سکریٹری جنرل اشیموو ایرک بھی شامل ہوئے۔



ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے انصاف کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عزت مآب وزیر قانون و انصاف جناب کرن رجیجو نے زور دے کر کہا کہ یہ سیشن خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ایس سی او کے قیام کو 21 برس مکمل ہو گئے ہیں، جو کہ 15 جون 2001 کو قائم ہوا تھا اور ہندوستان آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، جو کہ حکومت ہند کی جانب سےآزادی کے 75 سال مکمل ہونے اور یہاں کے عوام کی تاریخ، ثقافت اور حصولیابیوں کا جشن ہے۔ یہ ایس سی او کے جذبے سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ اس کا قیام رکن ممالک کے مابین باہمی اعتماد اور احترام کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہوا تھا۔ ایس سی او اپنی اندرونی پالیسی، باہمی اعتماد اور فائدے کے لجے اصولوں پر چلاتا ہے اور مساوی حقوق، صلاح ومشورہ، ثقافتی تنوع کے تئیں احترام اور یکساں ترقی کی امنگوں کا آئنہ دار ہے۔


انہوں نے کہا کہ ای- کورٹ پروجیکٹ کو حکومت ہند نے مشن موڈ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا، جو کہ نیشنل ای-گورننس منصوبے کا حصہ ہے اور ہندوستانی عدلیہ میں اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی پر عمل درآمد کے لئے قومی پالیسی اور ایکشن پلان پر مبنی ہے۔ کووڈ-19 کے دشوار وقت میں حکومت کی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں یہ تیار کیا گیا اور کووڈ -19 کے دوران عدالتوں کا تمام تر کام ورچوئل طریقے سے چلایا جا  سکا۔ یہ پروجیکٹ 2007 سے ہی زیر عمل ہے۔ یہ پروجیکٹ حکومت ہند کی قانون اور انصاف وزارت کے محکمۂ انصاف اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای-کمیٹی کی مشترکہ ساجھیداری میں چلایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ملک کے عدالتی نظام میں کایا پلٹ لانا ہے تاکہ عدلیہ کا نظام سب کے لئے قابل رسائی، کم خرچ کا ہو، شفاف ہو، جوابدہ اور مقررہ وقت کے اندر ہو۔ اس پروجیکٹ کے تحت دی جانے والی خدمات تمام فریقوں بشمول عدلیہ، ہائی کورٹس، ضلع اور ذیلی عدالتوں اور شہریوں، مدعیان، وکلاء اور ایڈوکیٹ صاحبان سب کا احاطہ کرتی ہیں۔

 

انہوں نے متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی، جو ملک کے شہریوں کو تیز تر، شفاف اور قابل رسائی آپشن فراہم کرتا ہے۔ درحقیقت وہ قومییا عالمی ذمہ داران کے درمیان معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے تنازعات کے حل کو بہتر بنا کر ’’کاروبار کرنے میں آسانی‘‘ حاصل کرنے کے اہم عوامل میں سے ایک تھے۔ ثالثی ایک اور بہت اہم اے ڈی آر میکانزم ہے۔ ثالثی تنازعات کے حل کا ایک رضاکارانہ عمل ہے۔ ثالثی سے متعلق ایک مضبوط قانون بنانے کے لئے حکومت ہند نے ثالثی بل مجریہ 2021 پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے شرکائے اجلاس کو اعلیٰ ترجیحات سے آگاہ کیا۔ حکومت نے اے ڈی آر کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی منظوری دی ہے۔ ہندوستان کو سرمایہ کاری اور کاروبار کے لئے ترجیحی مقام بنانے کی خاطر تجارتی عدالتوں کے ایکٹ اور ثالثی کے قوانین سمیت کاروبار میں سہولت فراہم کرنے والے قوانین اور قواعد وضع کرنا۔

 

جسٹس منسٹرس فورم کی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر وزیر موصوف نے ایس سی او کے رکن ممالک کے تمام وزراء کو ایس سی او کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں پر مبارکباد دی اور مستقبل میں بھی ہندوستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔علاوہ ازیں ڈیجیٹائزیشن اور نئے امکانات کے اس ابھرتے ہوئے دور میں انہوں نے ایس سی او کے تمام شراکت داروں سے تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور ایس سی او کے تمام رکن ممالک کے قانونی نظام میں اے ڈی آرس جیسے نئے میکانزم کو اپنانے اور تیار کرنے کا عہد کرنے کی اپیل کی۔ اس سے قبل ماہرین کے ورکنگ گروپ نے افراد اور/یا قانونی اداروں کو قانونی خدمات کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا اور خدمات کی فراہمی میں انفارمیشن ٹیکنالوجیوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

 

ایس سی او کے رکن ممالک کے قانونی نظام کی ترقی کے تعلق سے باہمی مفاہمت پر زور دیتے ہوئے اور 2025 تک ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی میں فراہم کردہ معاہدوں اور کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس سی او کے رکن ممالک کے وزراء (قانون اور) انصاف نے حسبِ ذیل اعلان کیا:

 

1۔ ایس سی او کے رکن ممالک کی (قانون اور) انصاف کی وزارتوں کے درمیان تعامل کو انجام دینے کے لئے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، اچھی ہمسائیگی اور دوستی کے تحفظ اور توسیع میں تعاون۔

 

2۔ دوشنبے میں 18 اگست 2015 کو دستخط کردہ ایس سی او رکن ممالک کی وزارت قانون اور انصاف کے درمیان تعاون کے معاہدے کے نفاذ پر کام جاری رکھا جائے۔

 

3۔ قانونی نظام کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی  (قانون اور) انصاف کی وزارتوں کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنا جاری رہے۔

 

4۔ ایس سی او کے رکن ممالک کی  (قانون اور) انصاف کی وزارتوں کے نمائندوں کے باہمی دوروں کو منظم کرنے کے لئے ایس سی او کی علاقائی کانفرنسیں، دو طرفہ سمپوزیم، سیمینار، ورکشاپس اور قانونی مسائل پر مشترکہ کورسیز اور اس شعبے میں تجربات کا تبادلے۔

 

5. فرانزک مہارت اور قانونی خدمات پر ماہر ورکنگ گروپس کی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔

 

وزرائے (قانون و) انصاف اور ہندوستان، قزاخستان، چین، جمہوریہ کرغیزستان، پاکستان، روسی وفاق، تاجکستان اور ازبکستان کی  قانون و انصاف کے وزارتوں کے سینئر حکام/ماہرین نے تین روزہ بحث میں حصہ لیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے انصاف کا اگلا اجلاس 2023 میں عوامی جمہوریہ چین میں منعقد ہوگا۔

***

ش ح۔ ع س۔ ک ا

U NO 13599


(Release ID: 1882292) Visitor Counter : 188


Read this release in: English , Hindi , Kannada