وزارت اطلاعات ونشریات

بھارت کا 53 واں بین الاقوامی فلم فیسٹول اختتام پذیر،اگر فلمیں محبت کی خوراک فراہم کرتی ہیں تو اسے جاری رکھا جائے


کوسٹا ریکا کے فلم ساز ویلنٹینا موریل کی ہسپانوی فلم آئی ہیو الیکٹرک ڈریمس کو 53ویں فلم فیسٹول میں  گولڈن پی کوک ایوارڈسے نوازا گیا

عظیم اداکار چرنجیوی  نے سال2022 کا بھارتی فلم شخصیت کا ایوارڈ حاصل کیا

ہمارا مقصد ہندوستان میں فلم بنانے کے لئے ایک سازگار ایکو نظام تیار کرنا ہے اور مستقبل میں اس صنعت کو آگے بڑھانا اور تیار کرناہے :اطلاعات و نشریات کےمرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر کا بیان

ہسپانوی فلم کے ڈائریکٹر کارلوس سورا کو فلم فیسٹول میں ستیہ جیت رے لائف ٹائم اچیو مینٹ ایوارڈ عطا کیا گیا

Posted On: 28 NOV 2022 9:29PM by PIB Delhi

ہندوستان میں جب ایک بین الاقوامی فلم فیسٹول کرانے کی تجویز کے بارے میں پہلی بار تبادلہ خیال کیا گیا تھا تو ایک سوال اکثر یہ پوچھا جاتا تھا کہ اس طرح کے فیسٹول کا کیا مقصد ہے اور کیا  اس طرح کا  فیسٹول مقصد پورا کرسکے گا تواس کے دو جواب تھے پہلا ایک فلم فیسٹول جس  ملک میں ہوتا ہے وہاں  فلم ناظرین کوایسی بہترین فلمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو فلم تیار کرنے والے ملکوں کی بنائی گئی فلمیں فیسٹول میں دکھائی جاتی ہے۔دوسرا یہ کہ ایک بین الاقوامی فلم فیسٹول ان لوگوں کو ایک موقع فراہم کرتا ہے جو شرکت کرنے والے والے ملکوں کی موشن فلم صنعتوں میں مصروف  عمل ہیں۔اس سے ان سبھی کو عام تشویش کے معاملات پر میٹنگ کرنے اور بحث کرنے کا موقع بھی ملتا ہے اور فن کی اس شکل کی پیشرفت پر خیالات پر بحث کرنے اور آئندہ کے پیشرفت پر ٹھوس منصوبے بنانے کا موقع بھی ملتا ہے ۔

ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول جو اب اختتاب پذیر ہوگیا ہے لہٰذا ہم1952 میں پہلی بارممبئی  میں منعقد ہوئے فلم فیسٹول کے  آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر پرسن سی ایم اگروال کے مذکورہ الفاظ کو یاد کرتے ہیں انہوں نے یہ الفاظ اپنے استقبالیہ خطاب کے دوران کہے تھے جو 24 جنوری 1952 کو دیا گیا تھا ۔

ہندوستان کا 53واں  بین الاقوامی فلم فیسٹول آج(28 نومبر2022) کو گوا کے تالیگاؤں میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی انڈو اسٹیڈیم میں شاندار تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

بہترین میں سے بہترین فلم کو اعزاز عطا کرنا

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/A-1RH2Y.jpg

فیسٹول کی بہترین فلم کے لئے پروقار گولڈن پی کوک اعزاز اسپینش فلم ٹینگو سونوس الیکٹرکس /آئی ہیو الیکٹرک ڈریم کو دیا گیا۔یہ ایک ایسی فلم ہے جس کے بارے میں جیوری نے  فلم کے پردے  اور سینما کے حال اور مستقبل کو فلم کے پردے پر پایا۔کوسٹا ریکن فلم ساز ویلنٹینا موریل کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں 16 سالہ لڑکی ایوا کے جوانی میں گزرنے  والے دور کے بارے میں بتایا گیا ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جو صرف بڑھاپے کے بارے میں نہیں ہے، ایسا عمل جو اتنا گہرا ہے کہ بعض اوقات یہ لوگوں کو ایک خاص طریقے سے توڑ سکتا ہے۔

ایرانی مصنف اور ہدایت کار نادر سائیور کو بہترین ہدایت کار کے لیے سلور پی کوک کا ایوارڈسے نوازا گیا،انہیں  نو اینڈ کے لیے  یہ ایوارڈ ملا، جس میں  ایران کے رجعت پسندانہ  سماجی و سیاسی نظام کی جادوئی اور پُر لطف تصویر کشی کی گئی ہے۔ ترکی کی فلم نو اینڈ/بی پاین، جس میں ایران کی خفیہ پولیس کی ہیرا پھیری اور چالوں کی عکاسی کی گئی ہے، ایاز نام کے ایک شخص کی کہانی بیان کرتی ہے، جوایک خاموش، دیانت دارانسان ہے  اور جو اپنے گھر کو محفوظ رکھنے کی بے چین کوشش میں خفیہ پولیس کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے لیکن جب حقیقی خفیہ پولیس جائے وقوعہ پر داخل ہوتی ہے تو معاملات پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/close-15GUR.jpg

نو اینڈ کے  اصل اداکار واحد موبسری کو بہترین مرد اداکار کے لیے سلورپی کوک  ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ اس لئے گیا گیا ہے کیونکہ  اس میں  مرکزی کردار ان  احساسات کی پیچیدگی کو منتقل کرتا ہے جس میں  اسے اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔   بہترین فلم ’آئی ہیو الیکٹرک ڈریمز‘ کے مرکزی کردار ڈینیلا میرین ناوارو کو خواتین کےبہترین اداکار  کے لیے سلورپی کوک سے نوازا گیا۔

ہندوستان کے 53 ویں فلم فیسٹول کا اسپیشل جیوری ایوارڈ فلپائن کے فلمسازلؤ ڈیاز  کے ذریعہ بنائی گئی فلم وین دی ویوآر گون کو دیا گیا ہے۔ یہ فلم فلپائن کے ایک تفتیش کار کی کہانی ہے، جو ایک گہرے اخلاقی دوراہے پرکھڑا ہے۔اس فلم میں اس کے تاریک ماضی کے بارے میں بات کی گئی ہے جو اسے پریشان کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ شدید اضطراب اور جرم سے نجات پانے کی کوشش کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/A-3PY60.jpg  https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/A-55F57.jpg

53 ویں فلم فیسٹول  میں ایتھنز سے تعلق رکھنے والی ڈائریکٹر اسیمینا پروڈرو کو فلم بیہائنڈ دی ہیسٹیکس کے لیے، ایک ڈائریکٹر کی  پہلی بہترین فیچر فلم کے ایوارڈ سے نوازاگیا۔جو فیسٹول میں اس کا بین الاقوامی پریمئرتھا۔ کہانی ناظرین کو ایک شخص ، اس کی اہلیہ اور اس کی بیٹی کے سفر میں حصہ لینے کی دعوت دیتی ہے، جنہیں پہلی بار بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب انہیں اپنے اعمال کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/close-231ZV.jpg

ہندوستانی ہدایت کار، مصنف اور سنیماٹوگرافر پروین کاندریگولا کو ان کی فلم سنیما بندی کے لیے جیوری کی طرف سے اسپیشل مینشن  ایوارڈ سے نواز اگیا۔ یہ ایک غریب اور جدوجہد کرنے والے آٹو ڈرائیور کی کہانی ہے جسے ایک انتہائی مہنگے کیمرے حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے جسے وہ ایک فلم ساز کے لئے ایک آٹو ڈرائیور سے سفر کے دوران حاصل کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/close-3CSX1.jpg

پایم اسکندری کی ہدایت کاری میں بنی ایرانی فلم ’نرگسی‘ نے آئی سی ایف ٹی – یونیسکو گاندھی ایوارڈ حاصل کیا۔

ڈائریکٹر پایم  اسکندری کی  ہدایت کاری میں بنی ایرانی فلم نرگسی نے آئی سی ایف ٹی – یونیسکو گاندھی میڈل جیتا ،یہ ایوارڈ ایک ایسی فلم کے لئے دیا گیا ہے جو مہاتما گاندھی کے امن، رواداری اور عدم تشدد کے نظریات کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ یہ فلم ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا ایک شخص اور اس کی زندگی میں پیدا ہونے والے بوجھ اور نتائج کے بارے میں ہے۔ ہمدردی اور نرمی دو خوبیاں ایسی  ہیں جو اس ایوارڈ یافتہ فلم میں دکھائی گئی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/I-1G9LZ.jpg

اپنے ورچوئل پیغام میں ڈائریکٹر پایم اسکندری نے 53 ویں  بین الاقوامی فلم فیسٹول میں جیوری  ارکان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ یہ ایوارڈ حاصل کرنا  ان کے لئے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے، میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھ پر یقین کیا،ان سبھی لوگوں میں  اس فلم کو بنانے میں شامل ، خاص طور پر میرے خاندان - میری پیاری بیوی اور نرگسی کی تمام کاسٹ اور عملہ شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاؤنز سنڈروم والے لوگ خدا کے فرشتے ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں بہت سی خوبصورت کہانیاں ہیں جنہیں سننا چاہیے۔

اس سال، دنیا بھر کی نو فلموں کو آئی سی ایف ٹی - یونیسکو گاندھی میڈل کے لیے مقابلے کے لیے چنا گیا تھا۔

اداکار پروڈیوسر چرنجیوی کونیڈیلا ،کو سال 2022 کی بہترین فلمی شخصیت کا ایوارڈ عطا کیا گیا

ٹالی ووڈ کے میگا اسٹار، پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ کونڈیلا شیوا شنکروڑا پرساد، جو چرنجیوی کے نام سے مشہور ہیں، کو 2022 کے لیے انڈین فلم پرسنالٹی آف دی ایئر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/chi-21QIU.jpg

اس اعزاز کے لیےاِفّی  ، حکومت ہند اور وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ، چرنجیوی نے اپنے والدین اور تیلگو فلم صنعت کے تئیں اپنے تشکر کا اظہار کیا۔ چرنجیوی نے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد زندگی بھر کے لیے تعاون اور تجربے کے لیے حکومت اور فلم انڈسٹری کا بھی شکریہ ادا کیا۔ میں اپنا سر جھکاتا ہوں اور آپ میں سے ہر ایک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر کسی کو سینما انڈسٹری میں آنے کاخیال ہے تو برائے مہربانی آئیں، یہ بدعنوانی  سے پاک پیشہ ہے، آپ یہ پاوگے کہ کسی کے بھی ضمیر میں کوئی جرم نہیں ہوگا، اگر آپ کے پاس صلاحیت  ہے تو آپ اسے پیش کر سکتے ہیں، اور آپ آسمان پر پہنچ جائیں گے۔

یہ اعلان  اطلاعات و نشریات  کےمرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے ہندوستان کے 53 ویں فلم فیسٹول کے شاندار افتتاح کے موقع پر کیاتھا۔

’ہمارا مقصد ہندوستان میں فلم سازی کے لئے ایک ایک افزودہ اور سازگار  ماحول اورمستقبل کے لیے تیارایک صنعت بنانا ہے‘: اطلاعات و نشریات  کے مرکزی  وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر

اطلاعات و نشریات اور نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ ہندوستان کے 53ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول اِفّی نے پورے خطے کے ناظرین، نوجوان اور بوڑھے، نئے مندوبین اور فیسٹول کے سرکردہ افراد  کے لئے سنیما کی دنیا کی  ایک اہم باریکیوں کو کھول دیا ہے۔اِفّی  نے نہ صرف تفریح ​​​​بلکہ ہمیں تعلیم بھی دی۔ اِفّی نے ہمارے مزاح کو گدگدایا اور ان کے احساسکو نکھارا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/close-4G4ID.jpg

گزشتہ نو دنوں کے دوران،ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول میں  282 فلموں کی نمائش کی گئی جس میں دیکھنے کا وقت 35,000 منٹ رہا۔ فیسٹول میں دنیا بھر کے 78 ممالک سے 65 بین الاقوامی اور 15 ہندوستانی زبانوں میں 183 بین الاقوامی فلمیں اور 97 ہندوستانی فلمیں دکھائی گئیں۔ 20 سے زیادہ ماسٹرکلاسز،بات چیت کے اجلاس اور مشہورشخصیات کی ایک لمبی فہرست منعقد کی گئی،جن میں سے کئی اجلاس نہ صرف جسمانی بلکہ عملی طور پر بھی قابل رسائی تھے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ میلے میں دکھائے جانے والا تنوع ’واسودھیو کٹمبکم‘ کا زندہ مجسم ہے جس نے دنیا بھر کے تخلیقی مفکرین، فلم سازوں، سنیما سے محبت کرنے والوں اور ثقافتی شائقین کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا۔

علاقائی سنیما اب اور زیادہ  علاقائی نہیں رہا: اطلاعات و نشریات کےمرکزی   وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر کا بیان

مرکزی وزیر نے علاقائی سنیما پر بھرپور توجہ دینے کے اپنے عزم کو دوہرایاانہوں نے اس کی ترقی کے لئے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سنیما اب  اورزیادہ علاقائی نہیں رہا، یہ قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچ گیا ہے۔اس سال ہم نے بہت سی فلمیں دیکھی ہیں جیسے کے جی ایف ، آر آر آر اور دیگر فلمیں جو بین الاقوامی سطح پر عروج حاصل کرلیتی ہیں۔ حال ہی میں، ہمارے پاس بنگلہ دیش اور وسطی ایشیائی ممالک سے ایک وفد آیا تھاجو 80 سے زائد نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ وہ صرف ہندی فلمی گانے اور علاقائی فلمی گانے سننا چاہتے تھے۔ انہوں نے مدھون چکرورتی کے دور سے لے کر اکشے کمار اور چرنجیوی تک کی فلموں کے بارے میں بات کی، جو حدوں کو پار کرتی ہیں۔ اگر متن مضبوط ہے، تو یہ کسی خاص علاقے کی حدود میں نہیں رہتا۔

اِفّی  ہندوستان کے لئے ایک عظیم سفیر ہے: گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کا بیان

گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے ہندوستان کے 53ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول کی اختتامی تقریب میں  موجود باقی  سبھی  لوگوں کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ اِفّی ہندوستان کے لئے ایک عظیم سفیر ہے۔ انہوں نے فیسٹیول کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نےبرانڈ گوا کوبرانڈ اِفّی  کا مترادف بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوا کی پوری ریاست قدرتی سیٹ، قدرتی خوبصورتی اور مہمان نواز لوگوں پر مشتمل ایک فلم سٹی ہے۔ گوا کے لوگ فن، ثقافت اور موسیقی سے  بہت محبت کرتے ہیں۔ ایک مشہور سیاحتی مقام ہونے کے ناطے، ریاست گوا نے کھانے، زبان اور طرز زندگی میں تنوع کے ساتھ ایک کائناتی نقطہ نظر حاصل کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/close-55894.jpg

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت ہر سال فلم فیسٹیول کے لیے بہترین ضروری انتظامات فراہمکرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ مہمان کو ایک یادگار تجربہ حاصل ہوسکے اور وہ ہر سال فیسٹول  کے لئے نئی ​​جہت اورسمت میں  شامل ہونے کےلئے بھی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے فلمی برادری اور عوام کی مصروفیات میں مزید اضافہ ہو گا اور ناظرین  کا ایساپول بھی بنایا جائے گا جو اسکرین پر نظر آنے والی فلموں کے پہلوؤں سے واقف ہو۔

انہوں نے دیویانگ جن کے لیے ایک خصوصی زمرے کے تحت خصوصی اسکریننگ کی سہولیات  فراہم کرنے کےلئے  بھی خوشی کا اظہار کیا وزیراعلیٰ نے  کہا کہ اس سال  سال کے فیسٹول میں 12,000 سے زیادہ رجسٹرڈ شراکتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان علم اور فن کی مختلف شکلوں کا جشن مناتا ہے اور یہ  ملک عالمی بھائی چارے (واسودھیو کٹمبکم) کے فلسفے  میں بھی یقین رکھتا ہے اور اسی لیے گوا ہر سال عالمی مندوبین کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گواایم آئی سی ای  یعنی ملاقاتیں، ترغیبات، کانفرنسیں، اور نمائشوں کے لیے ایک منزل کے طور پربھی  ابھر رہا ہے۔ انہوں نے گوا میں آنے والے عالمی پروگراموں جیسے جی-20 سربراہ کانفرنس ،  آیوروید سے متعلق عالمی کانفرنس اور پرپل فیسٹول میں شرکت کے لیے سبھی کو دعوت دی۔

فلم فیسٹول کی اختتامی تقریب میں ہندوستانی سنیما کے  مشہور ناموں نے  چمک دھمک  اور عزت  میں اضافہ کیا۔

معروف فلم شخصیات آشا پاریکھ، اکشے کمار، پرسنجیت چٹرجی، آیوشمان کھرانہ، ایشا گپتا، مانوشی چھلر اور شرمن جوشی کواطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر، گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور اطلاعات و نشریات کے وزیرمملکت  ڈاکٹر ایل مروگن نے مبارکباد دی اور ان کی عزت افزائی کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/close-6SPY7.jpg

سرکردہ اداکارہ آشا پاریکھ نے کہا کہ ان کی پہلی فلم دل دے کے دیکھو کی ریلیز ان کے کیریئر کا اب تک کا بہترین لمحہ ہے۔ "مجھے موجودہ دور کی ہندی فلموں کی خواتین اداکاروں میں دیپیکا پڈوکون سب سے زیادہ پسند ہیں۔

اداکار اکشے کمار نے کہا کہ گوا ایک ایسا مقام ہے جہاں فلمی صنعت کی ہر شخصیت یہاں آنا چاہتی ہے۔

بنگالی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار پرسنجیت چٹرجی نے کہا کہ ہر کوئی اِفّی کا منتظر ہے کیونکہ یہ اچھے سنیما کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ گوا میں ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ گوا میں ہوتے ہیں تو وہ یہاں سے اچھی یادیں  لےکر جاتے ہیں۔

بالی ووڈ اداکار آیوشمان کھرانہ نے کہا کہ میں نے جو بھی سماجی اور ثقافتی مسائل اٹھائے  گئے ہیں وہ میری فلموں کے ذریعہ ہی اٹھائے گئے ہیں۔

جنوبی ہندوستان کے بڑے  اداکار رامانائیڈو ’رانا‘ دگوبتی نے سنیما کے مستقبل کے بارے میں بات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ہمارے پاس ایک  سینما ہو سکتا ہے جو محض دو ڈی  نہیں ہے، بلکہ کسی نہ کسی شکل میں بات چیت کے قابل ہو سکتا ہے۔ہندوستان کے بین الاقوامی فلم فیسٹول اِفّی کے بارے میں  انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کی بدلتی ہوئی آوازوں کے ساتھ، فیسٹولس آزاد آوازوں کی فروغ کے لیے ایک ایکو نظام  تیار کرتے ہیں۔

فودا

تقریب کے دوران،نیٹ فلکس  پر بین الاقوامی شہرت یافتہ اسرائیلی ٹیلی ویژن سیریز فودا کی ٹیم کو اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے مبارکباد دی اور اس کی عزت افزائی کی ۔ یہ سیریز لیور راز اور ایوی ایساچروف کی جانب سے تیار کی گئی ہےجس میں  اسرائیل کی دفاعی افواج میں ان کے تجربات کوپیش کیا گیا ہے۔

ایوی ایسا چروف نے کہا کہ یہ ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اتوار کواِفّی  میں فودا سیزن 4 کا پریمیئر ہوا۔ لیور راز نے کہا کہ وہ  خود کوہندوستان کے عوام سے جڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور یہ جان کر بہت اچھا لگتا ہے کہ فودا کو ہندوستانی دیکھتے اور اسےپسند کرتے ہیں۔

ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر نور گیلون نے کہا کہ ہم اسرائیلی ہندوستانی فلم انڈسٹری میں پلے بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی فلم صنعت ہندوستان کے مقابلے بہت چھوٹی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل  متحمل مزاج والا ملک ہے  کیونکہ ان کی فودا جیسی سیریز اور کچھ دیگر سیریز ہندوستان میں کافی مقبول ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی مختلف قسم کی ہندوستانی فلموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

تقریب کے دوران، ’دی ون اینڈ اونلی رے‘ کے نام سے مشہور فلم ساز ستیہ جیت رے پر ایک آن لائن پوسٹر ڈیزائن مقابلے کے فاتحین کےناموں کااعلان کیا گیا اور انہیں انعام سے نوازا گیا۔جیوری کو 635 اندراجات حاصل  ہوئیں تھیں اور ان میں سے 75 پوسٹرز اور تین فاتحین کا انتخاب کیاگیا۔پہلا انعام شیاک داس نے حاصل کیا۔ دوسری اور تیسری پوزیشن بالترتیب ورد گوڈبولے اور انیرودھ چٹرجی کو حاصل ہوئی۔ جیتنے والوں کو بالترتیب ایک لاکھ، پچھتر ہزار اور پچاس ہزار روپے کے نقد انعامات دئے گئے۔

گوا کے چیف سکریٹری پونیت کمار گوئل، اطلاعات و نشریات کی  وزارت میں فلموں کی جوائنٹ سکریٹری  پرتھول کمار اوراین ایف ڈی سی کے  ایم ڈی رویندرکمار نے تکنیکی شراکت داروں کیوب سینماز، سینیونک، پلز الیکٹرانکس اور ایس ایم پی ٹی ای  کی عزت افزائی کی اور انہیں مبارکباد دی۔

این ایف ڈی سی کے ایم ڈی رویندر بھاکر نے  شکریہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ اِفّی واسودھیو کٹمبکم (ساری دنیا ایک ہے) کے جذبے پر یقین رکھتی ہے اور اس ایڈیشن میں دیویانگ جنوں کے لیے قابل رسائی اور جامع سنیما کے زمرے کو شامل کرکے اسے مزید تقویت ملی ہے۔ ایم ڈی نے کہا کہ میلے میں ناری شکتی واضح طور پر موجود تھی کیونکہ 75 تخلیقی ذہنوں کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ خواتین فلم سازوں نے حصہ لیا، مقابلے کے زمرے میں 66 فیصد فلمیں خواتین فلم سازوں کی تھیں اورخواتین نے فیسٹول ورک فورس کا ایک بڑا حصہ بنایا ۔

اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت یسو نائک، گوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین، اِفّی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ارکان اور جیوری کے ارکان  اور فلمی شخصیات موجود تھیں۔ تجربہ کار ہدایت کار رمیش سپی اور اداکار ہ خوشبو سندر بھی موجود تھیں۔

ہندوستان کے53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول کی جھلکیاں

مشہور ہسپانوی فلم ڈائریکٹر کارلوس سورا کوہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول میں ستیہ جیت رے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بین الاقوامی سنیما کے تئیں ان کی بے پناہ  خدمات اور تعاون کے لئے ایک زبردست ستائش کے طور پر، ہسپانوی فلم ڈائریکٹر کارلوس سورا کو ستیہ جیت رے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ اپنے اس اعزاز کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے، کارلوس سورا نے گوا میں ذاتی طور پر موجود نہ ہونے پرافسوس کااظہار کیا کیونکہ وہ برونکائٹس کے مرض سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔انہوں نے اس اعزاز سے نوازے جانے پرفیسٹول کے منتظمین کے تئیں دلی شکریہ اور محبت کا اظہار کیا ہے۔

کارلوس سورا برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ڈیپریسا ڈیپریسا کے لیے) میں بہترین ڈائیریکٹر  کے لیے گولڈن بیئر کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ انہیں   لا کازا اور پیپرمنٹ فریپے کے لیے دو سلور بیئرز کے ساتھ یہ ایوارڈ حاصل ہوا ۔ انہیں کارمین کے لیے بیفٹا اوربہت سی کئی دیگرفلموں میں کانز میں تین ایوارڈزدئے گئے۔ ان کی بیٹی اینا سورا نے افتتاحی تقریب میں ممتاز فلمساز کی جانب سے ایوارڈ قبول کیا۔

ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول میں 75 کریٹو مائنڈ س آف ٹو مارو 53 آورچیلنج میں مقابلہ کرتا ہے

حکومت کے 75 کریٹو مائنڈ آف ٹو مارو پہل کے حصے کے طور پر خصوصی مہمانوں کی حیثیت سے ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول میں شرکت کی۔ کل کے امید افزا سنیما ٹیلنٹ کا تعلق ہندوستان کی 19 مختلف ریاستوں سے ہے، جن میں آندھرا پردیش، آسام، دہلی، گوا، ہریانہ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، منی پور، راجستھان، بہار، ہماچل پردیش، جموں اور کشمیر۔ ، اوڈیشہ، تمل ناڈو، اتر پردیش، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ منتخب کئے گئے فاتحین میں سب سے زیادہ تعداد مہاراشٹر سے ہے، اس کے بعد تمل ناڈو اور دہلی، اتر پردیش اور مغربی بنگال  سے ہے۔

سب سے کم عمر انعام جیتنے والے ہریانہ کے 18 سالہ نتیش ورما اور مہاراشٹر کے 18 سالہ توفیق منڈل ہیں، دونوں کو میوزک کمپوزیشن میں ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے۔

75 نوجوانوں کا انتخاب فلم سازی کے مختلف شعبوں میں ان کی مہارت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، ان شعبوں کا تعلق  ہدایت کاری، اداکاری، سنیماٹوگرافی، ایڈیٹنگ، اسکرپٹ رائٹنگ، پلے بیک سنگنگ، میوزک کمپوزیشن، کاسٹیوم اور میک اپ، آرٹ ڈیزائن اور اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس(وی ایف ایکس)،(اے آر)،آگو مینٹیٹ ریائلٹی  اور ورچوئل رئیلٹی (وی آر)سے ہے۔ہدایت کاری کے زمرے سے 15 فنکار، 13 ابھرتے ہوئے اداکار اور 11  کا تعلق ایڈیٹنگ  شعبے سے ہے۔

ان 75 نوجوانوں نےہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول اِفّی میں 53 آورکے چیلنج میں بھی حصہ لیا۔مقابلے کے تحت انہیں بھارت @100 کے اپنے آئیڈیا پر 53 گھنٹے میں ایک مختصر فلم بنانے کا چیلنج دیا گیاتھا۔ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول اِفّی  کےاس حصہ کوشارٹس ٹی وی کے تعاون سے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ تقویت ملی ہے۔

ایف ٹی آئی آئی کی طرف سے فلم ٹیکنالوجی نمائش میں فلم انڈسٹری میں نئے محاذوں کی تلاش کرنے والی ٹیکنالوجی کی نمائش کی گئی۔

اِفّی2022 کے ایک حصے کے طور پر فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی جانب سے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں ٹیکنالوجی اور فلم آرٹ/سینما اور جمالیات سے متعلق مختلف عناصر اورٹیکنالوجی کو پیش کیا گیا۔ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول اِفّی میں تفریح کی  ٹیکنالوجی کے میدان میں  جو کچھ  نیا کیاگیااس کی نمائش کی گئی۔ فلم کے شائقین کو فلم آرٹ اور جمالیات کے تناظر میں ٹیکنالوجی کے باہمی ربط کے ذریعے لیا گیا اور یہ کہ  ایسے عناصر کس طرح اکٹھے ہوتے ہیں اور ناظرین کے تجربے کو تقویت بخشتے ہیں، ایسے عناصر کو بھی پیش کیا گیا ۔سنیما کے سازوسامان جیسے سونی، کینن، ریڈ، لائیکا، الٹاس، ڈی زیڈ او، اپوچر لائٹس، ہنسا سنے کے سازوسامان کے معروف  اور سرکردہ مینوفیکچررز نے اس تقریب میں شرکت کی۔ فیسٹول میں نمائش کے دوران  جدید ترین آلات  کو دکھایا گیا جو صنعت کے ماہرین عصری سنیما کی تیاری میں استعمال کر رہے ہیں۔

اِفّی میں میں سی بی سی کی  نمائش سینما میں آزادی کی جدجہد کی تصویر کشی کرتی ہے۔

سنٹرل بیورو آف کمیونیکیشن کی طرف سے آزادی کی تحریک اور سنیما کے موضوع پر ایک ملٹی میڈیا ڈیجیٹل نمائش لگائی گئی تھی۔ نمائش کا افتتاح آج مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ سنگھ ٹھاکر نے کیا۔نمائش کا تصور سی بی سی ٹیم کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کا مرکزی خیال کیمرے کے لینس کی شکل میں ایک اگواڑا کھیلتا ہے۔ ایک بڑی10x12 فٹ ایل ای ڈی اسکرین میں دوردرشن کی مشہور سیریز سوراج کے کلپس دکھائے گئے ہیں جو نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف مختلف آزادی پسند جنگجوؤں کی زندگی اور ان کے تعاون کو پیش کرتے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی، راجہ رام موہن رائے، نیتا جی سبھاش چندر بوس، کالاپانی، بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد کی تحریک آزادی سے متعلق نایاب فوٹیجز بھی دکھائے گئے۔

ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول میں منی پوری سنیما کے 50 شاندار سال کا جشن منا یا جارہا ہے۔

منی پور،جو ہندوستان کی جیول سٹی کہلاتی ہے اور جو شمال مشرق کی آٹھ سسٹرس ریاستوں میں سے ایک ہے، انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (اِفّی) کے 53 ویں ایڈیشن میں شمال مشرقی ہندوستان سے فلموں کی تشہیر کے لیے مشعل بردار بن گیا۔منی پور سنیما کی گولڈن  جوبلی کے موقع پر ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول نے پانچ فیچر اور پانچ غیر فیچر فلموں کی نمائش کی، جسے منی پور اسٹیٹ فلم ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے انڈین پینورما کے تحت تیار کیا ہے۔

فلموں کے گالا پریمیئرز

پہلی مرتبہ اِفّی نےاو ٹی ٹی  پلیٹ فارمز سے ہندوستانی فلموں، غیر ملکوں کی فلموں اور اصل سیریز کے گالا پریمیئرز کی میزبانی کی، جس میں نمایاں ستارے اپنی فلموں  کے لئے خصوصی طور پر حمایت حاصل کرنے کے لیے گوا آئے۔ ان میں پریش راول کی دی اسٹوری ٹیلر، اجے دیوگن اور تبو کی درشیم 2، ورون دھون اور کریتی سینن کی بھیڑیا اور یامی گوتم کی لوسٹ، تیلگو فلم، ریمو، دیپتی نیول اور کالکی کوچلن کی گولڈ فش اور رندیپ ہوڈا اور الیانا ڈی سیوزا کی تیرا کیا ہوگا لولی بھی شامل  ہیں۔اِفّی میں او ٹی ٹی شوز جیسے ودھاندھی، خاکی اور فودا سیزن 4 کی ایک قسط کے ساتھ پریمیئر ہوا۔

بڑی قرعہ اندازی  میں وہ فلمیں تھیں جنہوں نے کانز، برلن، ٹورنٹو اور وینس جیسے دنیا بھر کے معروف فلم فیسٹولس میں متعدد ایوارڈز جیتے ہیں۔ کچھ آسکر جیتنے والوں کی طرف سے ہدایت کاری  کی جاتی ہیں یا ان کی خصوصیات  بیان کی جاتی ہیں۔ ان فلموں میں پارک-چان ووک  کے ذریعہ بنائی گئی فلم ڈیسیزن ٹو لیو اور روبین اوسٹلنڈ کی ٹرائیگل آف سیڈ نیس ، شامل ہیں ۔اس کے علاوہ ڈیرن اورونوفسکی کے ذریعہ بنائی گئی  دی وہیل اور گیلرمو ڈیل ٹورو کی پنوشیو، کلیئر ڈینس کے ذریعہ بنائی گئی  بوتھ سائیڈ آف دی بلیڈ اور گائی ڈیوڈ کی انوسینس ، ایلس ڈیوپ کے ذریعہ  سینٹ اومر اور مریم توزانی کے ذریعہ بنائی گئی دی بلیو کیفٹن جیسی فلم  شامل ہیں۔

کنٹری آف فوکس

فرانس اس سال کے فیسٹول میں توجہ کا ملک ہے،جس میں فرانس کی آٹھ فلمیں پیکج کے تحت ایمانوئل کیری کی بیٹوین ٹو ورلڈز (آؤسٹرہم) کی نمائش کے ساتھ پیش کی گئیں۔

خراج تحسین کا زمرہ:گریٹس آف یور کے اعزاز میں

ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول کےہومیج زمرے  میں پندرہ ہندوستانی اور پانچ بین الاقوامی فلموں کو شامل کیا گیا تھا ۔ بھارت رتن لتا منگیشکر، گلوکار،موسیقار بپی لہری، کتھک کے استاد پنڈت  برجو مہاراج ، اداکار رمیش دیو اور مہیشوری اماں، گلوکار کے کے، ڈائریکٹر ترون، مسٹر نپون داس آسامی اداکار اور تھیٹر آرٹسٹ، مجمدار اور گلوکار بھوپندر سنگھ کوخراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جبکہ بین الاقوامی زمرے میں، فیسٹیول نے باب رافیلسن، ایوان ریٹ مین، پیٹر بوگڈانووچ، ڈگلس ٹرمبل اور مونیکا وٹ کی ذہانت کے لئے انہیں خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

فلم بازار

’فلم بازار‘ نے مختلف زمروں میں  کچھ بہترین فلموں اور فلم سازوں کی نمائش کی ہے۔ پہلی بار،پویلینس نے اِفّی میں مارچے ڈو کینز جیسے بڑے بین الاقوامی بازاروں کی طرز پر شرکت کی۔ اس سال، کُل 42 پویلین تھے، جن میں مختلف ریاستی حکومتوں، شرکت کرنے والے ممالک، فلم صنعت کے فریقوں اور وزارت کے میڈیا یونٹس کے فلمی دفاتر موجود تھے۔

نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی)  کے ذریعہ تخلیق  کئے گئے اور منظم کئے گئے فلم بازار 2007 میں تحمل مزاجی سے اپنی  شروعات سےجنوبی ایشیا کی عالمی فلم مارکیٹ میں تبدیل ہوا ہے۔ہر ایڈیشن کے گواہوں نے قومی اور بین الاقوامی شرکت میں اضافہ کیاہے۔ پچھلے کئی سالوں میں لنچ باکس، مارگریٹا ود اے اسٹرا، چوتھی کوٹ، قصہ، شپ آف تھیسس، تتلی، کورٹ، انہے گھوڑے دا دان، مس لولی، دم لگاکے ہیشا، لائرس ڈائس اور تھی تھی جیسی فلمیں بازار کے ایک یا اس سے زیادہ پروگراموں سے گزر چکی ہیں۔

پانچ دن کے دوران، فلم بازار دنیا بھر سے فلموں کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے ایک کنورجنگ پوائنٹ بن جاتا ہے۔ فلم سازی، پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن میں جنوبی ایشیائی متن اور ٹیلنٹ کی دریافت، حمایت اور نمائش پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ بازار جنوبی ایشیائی خطے میں عالمی سنیما کی فروخت میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔

باکس آفس پر کتابیں

کتابوں میں چھپی اچھی کہانیوں اور کتابوں کو ڈھال کر بنائی جانے والی اچھی فلموں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا بک ایڈاپٹیشن پروگرام، بکس ٹو باکس آفس متعارف کرایا گیا ہے۔ کچھ بہترین  ناشر ان کتابوں کے حقوق فروخت کرنے کے لیے موجود تھے جنہیں اسکرین کے متن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ماسٹرکلاسز اور ان کنورسیشن  سیشنز

ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول میں 20 سے زیادہ ماسٹر کلاسز اور ان کنورسیشن  اجلاس  منعقد ہوئے تھے جن میں آشا پاریکھ، وی وجیندر پرساد، اے آر رحمان، اے سریکر پرساد، انوپم کھیر، پرسون جوشی، آنند سمیت نامور فلمی شخصیات نے شرکت کی۔ جن میں ایل رائے، آر بالکی، نوازالدین صدیقی اور پنکج ترپاٹھی سمیت دیگر اہم لوگ بھی موجود تھے۔

ہندوستان کا 53 واں بین الاقوامی فلم فیسٹول خصوصی طور پر معذوروں (دیویانگجن) کو بہتر تجربہ پیش کرتا ہے

ہندوستان کے 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول  میں دیویانگجن (معذوروں)کےخصوصی زمرہ اور خصوصی تعلیمی اجلاس پیش کیے گئے، تاکہ اس فیسٹول کو خصوصی طور پر معذور (دیویانگجن) فلموں کےشائقین کے لیے زیادہ شمولیت والا اور قابل رسائی بنایا جا سکے۔اِفّی میں اس سال دیویانگجن کا خصوصی  زمرہ سنیما کو ہر ایک کے لیے جامع اور قابل رسائی  بنانےکی سمت ایک اہم قدم ہے۔اس زمرے میں خصوصی طور پر معذورناظرین کے لیے فلم کی نمائش اور مقام کے بنیادی ڈھانچے اور انتظام کے لحاظ سے ان کی رسائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرشار اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اس زمرے  کی فلموں میںسرایت شدہ  سب ٹائیٹلز کے ساتھ ساتھ آڈیو کی وضاحت بھی تھی۔ آڈیو کی وضاحت خاص طور پر آڈیو ٹریکس بنائے گئے تھے جو ایک فلم میں ویوجول معلومات کو بیان کرتے ہیں۔ مزید، فلمیں، جیسے رچرڈ اٹنبرو کی آسکر یافتہ گاندھی اور اننت نارائن مہادیون کی ہدایت کاری میں دی اسٹوری ٹیلر، جن کا پریمیئراِفّی میں دویانگجن  زمرے میں کیا گیا تھا،آڈیو-ویویجلی طور پر سرایت شدہ آڈیو وضاحت اور سب ٹائٹلز سے لیس تھی۔

***********

ش ح ۔ ح ا ۔ م ش

U. No.13080



(Release ID: 1879743) Visitor Counter : 1154


Read this release in: Hindi , English , Marathi , Tamil