جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دریاؤں کا احیاء

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 JUL 2022 5:34PM by PIB Delhi

جل شکتی کے وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ دریاؤں کی صفائی/ستھرائی  ا اور ان کا احیا  مسلسل چلنے والا ایک عمل ہے۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یوٹیز) کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں دریاؤں میں پانی کی صفائی کو یقینی بنائیں۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس بات کو  بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے دائرہ اختیار میں واقع شہری بلدیاتی ادارے اور صنعتی اکائیوں سے ہونے والی آلودگی کو روکا جائے اور  اس پر قابو پانے کے لئے دریاؤں اور دیگر آبی اداروں نیز ساحلی پانی یا زمین میں  فضلہ کو خارج کرنے سے پہلے سیوریج اور صنعتی فضلے  کو مقررہ اصولوں کے مطابق ٹھکانے لگائیں۔اس میں جل شکتی کی وزارت، دریاؤں کے تحفظ کے لیے، گنگا کے طاس کے علاقوں میں دریاؤں کے لیے مرکزی سیکٹر کی نمامی گنگے کی اسکیم کے ذریعے ملک میں ندیوں کے شناخت شدہ حصوں میں آلودگی کو کم کرنے  کی کوشش کررہی ہے اور دیگر دریاؤں کے لیے  مرکز کی طرف سے چلائی  جانے والے نیشنل ریور کنزرویشن پلان (این آر سی پی) کے تحت مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر کے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کا قیام ان پروگراموں کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے۔

این آر سی پی کے تحت آلودہ دریاؤں کےقصبو ں اور شہروں میں آلودگی میں کمی کے کاموں کی تجاویز  وقتاً فوقتاً ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے غور کے لیے حاصل ہوتی ہیں اور ان اسکیموں اورپروگراموں پر منصوبے کے فنڈ ز وغیرہ کی دستیابی کے  رہنما خطوط کے مطابق  ترجیح دی جاتی ہے۔ این آر سی پی نے اب تک ملک کی 16 ریاستوں میں پھیلے 78 قصبوں میں 35 دریاؤں کے آلودہ حصہ کا احاطہ کیا ہے جس کے لئے6,142 کروڑ روپے کی رقم کو منظوری دی گئی ہے اور دیگر باتوں کے ساتھ  ساتھ، 2,745.70 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) کی صلاحیت کے سیوریج ٹریٹمنٹ کی گنجائش رکھی  گئی ہے۔

این آر سی پی کے تحت آلودگی میں کمی کی مختلف اسکیموں کے نفاذ کے لیے مرکزی حصہ کے طور پر2799 کروڑ روپے کی رقم مختلف ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو جاری کی گئی ہے۔ این آر سی پی کے لیے رقم کئےجانے کا طریقہ  مرکز اور ریاست کے درمیان(01.04.2016 سے اثر کے ساتھ)  60:40 کے تناسب میں ہے اور شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستوں کے لیے، یہ تناسب 90:10 میں ہے۔ مہاراشٹرا  کے پنے میں مولا مٹھا دریاکے تحفظ کا عملی منصوبہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان 85:15 کے فنڈنگ ​​پیٹرن کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔

نمامی گنگے پروگرام کے تحت، 374 پروجیکٹوں بشمول 5,015.26 ایم ایل ڈی کے سیوریج ٹریٹمنٹ کے 161 پروجیکٹ اور 5,134 کلومیٹر کے سیوریج نیٹ ورک کو 31,098 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا ہے۔ نمامی گنگے پروگرام میں بنائے گئے اثاثوں کی تاعمر پوری لاگت کے لیے 100فی صد مرکزی حکومت کی فنڈنگ ​​کا تصور کیا گیا ہے جس میں 10 سالہ کارروائی  اور رکھ رکھاؤ (او اینڈ ایم) لاگت شامل ہے۔

این آر سی پی اور نمامی گنگے پروگرام کے تحت ریاست/ مرکز کے زیر انتطام علاقے کے لحاظ سے منظور شدہ لاگت اور اخراجات کی تفصیلات ضمیمہ میں  درج ہے۔

اس کے علاوہ، سیوریج کا بنیادی ڈھانچہ اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن(امرت)) اور ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے اسمارٹ سٹیز مشن جیسے پروگراموں کے تحت تشکیل دیا  گیا ہے۔


ضمیمہ

(

 

(a) State/UT wise sanctioned cost and expenditure incurred under NRCP:

 

(روپے کروڑ میں)

نمبر شمار

ریاست

دریا

مختص رقم

Expenditure incurred by State Govt. as on June,2022

1

آندھرا پردیش

گوداری

110.21

19.59

2

گوا

منڈووی

14.10

13.50

3

گجرات

سابرمتی، مہدھولا، تاپی

1779.78

1010.51

4

جھارکھنڈ

بسبانریکا

3.14

0.98

5

جموں و کشمیر

دیویکا اور کارویری

186.74

49.00

6

کرناٹک

پینر، بندھرا، تندگابھدرا، کاویری،تنگا

66.25

53.59

7

کیرالہ

پمباد

18.45

33.69

8

مدھیہ پردیش

تاپتی، ویانگنگا، نرمدا

20.16

9.67

9

مہاراشٹر

کرشنا، پنچ گنگا، گوداوری، تاپی، مولا متھا

1182.86

214.91

10

منی پور

نمبول

97.72

42.22

11

ناگالینڈ

دیپھو، اور ڈھن شری

78.65

54.42

12

اوڈیشہ

بہراہمنی، مہاندی، ساحلی علاقہ

92.74

90.25

13

پنجاب

ستلج، بیس، اینڈ ستلج، گھگھر

774.43

797.41

14

سکم

رانی چو، ٹیسٹا

463.05

225.54

15

تمل ناڈو

کاویری، اڈیار، کووم، ویگئے، وینار، تمرابرانی

908.13

901.17

16

تلنگانہ

گوداوری موسی

345.72

346.83

 

کل :

 

6142.12

3863.28

 

(b) State/UT wise sanctioned cost and expenditure incurred under Namami Gange programme

(Rs. in crore)

 

نمبر شمار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

 

مختص رقم

Expenditure* incurred by state Govt. as on June 2022

1

اتراکھنڈ

گنگا، رسپانا،

1686.91

888.00

2

اتر پردیش

بندل، کوشی، ڈھیلا،

11564.37

4395.00

3

بہار

الکنندہ۔

6046.58

3080.00

4

جھارکھنڈ

گنگا، گومتی، سریو،

279.24

220.00

5

مغربی بنگال

گھگھر، کالی، یمنا،

4117.70

1672.00

6

دہلی

ہندن، رام گنگا

2361.03

1340.00

7

ہریانہ

گنگا، گنڈک، سون۔

217.87

217.94

8

ہماچل پردیش

گنگا، دامودر

11.57

3.75

9

مدھیہ پردیش

گنگا، دامودر،

68.15

-

10

راجستھان

برکر، آدی گنگا

258.48

121.49

 

اتراکھنڈ

 

26611.9

11938.18

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ش ح۔ ح ا۔ ج

Uno-10324

 


(ریلیز آئی ڈی: 1859783) وزیٹر کاؤنٹر : 86
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi