امور داخلہ کی وزارت

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ  نے نئی دلی میں آج حکومت ہند ، آسام سرکار اور آٹھ قبائلی گروپوں کےنمائندگان کے مابین تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تقریب کی صدارت کی


یہ معاہدہ  آسام میں قبائلیوں  اور چائے باغات کارکنوں کے کئی دہائیوں سے جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے

ایک پر امن اور خوشحال شمال مشرق کے ، وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن کی روشنی میں یہ معاہدہ شمال مشرق کو 2025 تک انتہا پسندی سے پاک کرنے کی راہ میں ایک اور اہم سنگ میل ہوگا

آج کےاس معاہدے کے بعد آسام کے  قبائلی گروپوں کے 1182 کاڈر خود سپردگی کر کے اصل دھارے میں شامل ہو گئے

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2024 سے پہلے شمال مشرقی ریاستوں کے مابین سرحدی تنازعات اور مسلح گروپوں سے متعلق سبھی تنازعات کو حل کر لیا جائے گا

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ ابھی تک کیے گئے سبھی معاہدوں میں سے 93 فیصد معاہدوں پر عمل درآمد کیا گیا ہے

آج کے اس معاہدے میں یہ حکومت ہند اور آسام سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی گروپوں کی سیاسی ، اقتصادی اور تعلیمی امنگوں کو پورا کریں

اس معاہدے میں یہ التزام رکھا گیا ہے کہ قبائلی گروپوں کی سماجی ، ثقافتی، نسلی اور لسانی شناخت کو تحفظ اور استحکام دیا جائے

Posted On: 15 SEP 2022 7:38PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 15تمبر، 2022/  داخلی امور اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دلی میں آج  حکومت ہند ، آسام سرکار اور قبائلیوں کےآٹھ گروپوں کے نمائندگان کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کی تقریب کی صدارت کی۔ اس معاہدے پر دستخط کیے جانے کے ساتھ ہی آسام میں قبائلیوں اور چائے باغات کے کارکنوں کا کئی دہائیوں سے جاری بحران ختم ہو گیا ہے۔ جن گروپوں نےان معاہدے پر دستخط کیے ہیں ان میں بی سی ایف، اے سی ایم اے، اے اے این ایل اے، اے  پی اے، ایس ٹی ایف ، اے اے این ایل اے (ایف جی) ، بی سی ایف (بی ٹی ) اور اے سی ایم اے (ایف جی) شامل ہیں۔

 آسام کے وزیراعلیٰ جناب ہیمنت بسو سرما اور پیٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی، لوک سبھا کے ممبر جناب پلب لوچن داس ، راجیہ سبھا کے ممبر جناب کامکھیا پرساد تاسا ، آسام سرکار کے وزیر جناب سنجوئے کشن، آٹھ قبائلی گروپوں کے نمائندگان داخلی امور کی مرکزی وزارت اور آسام سرکار کے سینئر افسران بھی اس موقعے پر موجود تھے۔

اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے موقعے پر آج وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک پر امن اور خوشحال شمال مشرق کے وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن کے مطابق یہ معاہدہ شمال مشرق  کو  2025 تل انتہا پسندی سے پاک بنانے کی راہ میں ایک  اور اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جناب نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد شمال مشرق کو پر امن اور ترقی یافتہ بنانے کی سمت بہت سی کوششیں کی گئی  ہیں۔ جن میں سے اہم ترین یہ ہے کہ شمال مشرق میں امن قائم کیا جائے۔ جناب شاہ نے کہا کہ آسام کے قبائلی گروپوں کے 1182 کاڈر ہتھیار ڈال کر اصل دھارے میں شامل ہوئے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ امور داخلہ کی وزارت نے خطے کی مالا مال ثقافت کو فروغ دے کر شمال مشرق کو ترقی دینے کے  اقدامات کیے ہیں  اور اسے ایک پر امن اور خوشحال بنانے کے کام میں تیز رفتاری لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کی کمی اور مفادات کے اختلاف کی وجہ سے مختلف گروپوں نے ہتھیار اٹھائے جس کی وجہ سے ان گروپوں ، ریاستی سرکاروں اور مرکزی حفاظتی دستوں کے مابین جھڑپ میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2024 سے پہلے شمال مشرقی ریاستوں کے مابین سبھی سرحدی تنازعات اور مسلح گروپوں سے متعلق سبھی تنازعات کو حل کر لیا جائے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ پچھلے تین برسوں میں حکومت ہند ، آسام سرکار اور شمال مشرق کی دیگر سرکاروں نے اپنے اور مختلف انتہا پسند گروپوں کے مابین بہت سے معاہدے کیے  ہیں۔ 2019 میں این ایل ایف ٹی معاہدہ ، 2020 میں برو – ریانگ اور بوڈو معاہدہ ، 2021 میں کربی آنگ لانگ معاہدہ ، اور 2022 میں آسام میگھالیہ بین ریاستی سرحدی معاہدہ ، جس کے ذریعے دونوں ریاستوں کے درمیان  تقریباً 65 فیصد سے زیادہ سرحدی تنازعات حل کیے گئے ہیں۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ حکومت ہند اور آسام سرکار یقین دہانی کرائے گی کہ  آج آسام کے قبائلی گروپوں کے ساتھ کیے گئے معاہدےکی شرائط پر پوری طرح عمل درآمد کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی  کی قیادت میں حکومت کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ اُس نے ابھی تک کیےگئے سبھی معاہدوں  میں کیے گئے  93 فیصد معاہدوں کو پورا کیا ہے۔ اور نتیجے کے طور پر آسام سمیت پورے شمال مشرق میں امن قائم ہو گیا ہے۔

جناب امت شاہ نےکہا کہ آج کے معاہدے کے مطابق حکومت ہند اور آسام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قبائلی گروپوں کی سیاسی ، اقتصادی اور تعلیمی امنگوں کو پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں قبائلی گروپوں کی سماجی ، ثقافتی، نسلی  اور لسانی شناخت کی حفاظت کے انتظامات کریں۔ اور نہیں مستحکم بنائیں۔ معاہدے میں ایک قبائلی بہبود اور ترقی کی کونسل قائم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جس کا مقصد تیزی کے ساتھ چائے باغات کی ترقی پر توجہ دی جائے۔ جناب شاہ نےکہا کہ اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلح کاڈروں کی بازآبادکاری کی جائے اور چائے باغات کارکنوں کی بہبود کےاقدامات کیے جائیں۔ حکومت ہند اور آسام سرکار کی طرف سےپانچ پانچ سو کروڑ روپے پانچ سال کی مدت کے لیے فراہم کے جائیں گے جس کا مقصد قبائلی آبادی والے گاوؤں اور علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 سے تقریباً 8000 شورش پسندوں نے ہتھیار ڈال کر سماج کے اصل دھارے میں شرکت اختیار کی ہے جس سے شمال مشرقی خطے کو پرامن اور خوشحال بنانے کے وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے کیے گئے بہت سے اقدامات پر ان کے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ سال 2020 میں پچھلی دو دہائیوں کے مقابلے شورش کے واقعات سب سے کم رہے۔ 2021 میں شورش کے واقعات میں 74 فیصد کمی آئی تھی ، حفاظتی دستوں کی ہلاکتوں میں 60 فیصد کمی آئی تھی اور شہریوں کی ہلاکت کی تعداد میں 89 فیصد کمی آئی تھی۔

ایک پر امن اور خوشحال شمالی بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن کے عین مطابق یہ معاہدہ شمال مشرق کو 2025 تک شورش سے پاک بنانے کی راہ میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔

اس معاہدے میں آسام سرکار کی طرف سے قبائلیوں کی بہبود و ترقی کی کونسل قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے جس کا مقصد سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی امنگوں کو پورا کرنا ، سماجی ، ثقافتی ، لسانی اور نسلی شناخت کی حفاظت کرنا اور قبائیلی گاؤوں اور ریاست بھر کے چائے باغات کی ترقی میں تیزرفتاری کو یقینی بنانا ہے۔ معاہدے میں مسلح کاڈروں کی بازآباد کاری کے لیے بھی کہا گیا ہے اور چائے کےباغات میں کام کرنے والوں کی بہبود کے اقدامات کےلیے بھی کہا گیا ہے۔ 1000 کروڑ روپے  پر مشتمل ایک خصوصی ترقیاتی پیکیج (حکومت ہند اور آسام سرکار دونوں کی طرف سے 500 پانچ سو کروڑ روپے ) اگلے پانچ سال کی مدت کے لیے فراہم کیا جائے گا ۔ یہ پیکیج قبائلی آبادی والے گاؤوں اور علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ہوگا۔

حکومت ہند ، وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کے تحت شمال مشرق کو انتہا پسندی سے پاک بنانے کی پابند ہے۔ آزادی کے بعد شمال مشرقی ریاستوں میں ترقی  رک گئی تھی یہ ریاستیں  ایک لمبے عرصے سے نظر انداز کیے جانے اور سیاست کا شکار بنی ہوئی تھیں اور پر تشدد علیحدگی پسندی بھی اپنے پاؤں پسار رہی تھی۔ لیکن جناب مودی نے مشرق نواز پالیسی کے ذریعے ترقی اور امن کی ایک نئی داستان رقم کی ہے۔

وزیراعظم جناب نریندر مودی  کی قیادت میں شمال مشرق میں امن کو یقینی بنانے کےلیے کیے گئے اقدامات۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                              

U - 10305

 

 



(Release ID: 1859708) Visitor Counter : 132