پنچایتی راج کی وزارت
پنچایتی راج اداروں نے تکنیکی ترقی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ایک طویل سفر طے کیا ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ شفافیت، ذمہ داری اور جوابدہی ہوئی ہے: جناب گری راج سنگھ
اسمارٹ گاؤں کی تعمیر خود کفیل انفراسٹرکچر، ذمہ دار شہریوں اور طرز عمل میں تبدیلی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے: جناب یوگی آدتیہ ناتھ
دیہی ترقی کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس عمل کو انجام دینے اور اس کی نگرانی کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے: جناب کپل موریشور پاٹل
پنچایتی راج کی وزارت نے لکھنؤ میں ’دیہی برادریوں کو بااختیار بنانا: کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا ‘ کے موضوع پر دو روزہ اسمارٹ گاؤں پنچایت کانفرنس کا اہتمام کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 SEP 2022 6:30PM by PIB Delhi
ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومت کے تیسرے درجے یعنی پنچایتوں میں ’کم سے کم حکمرانی، زیادہ سے زیادہ نظم و نسق‘ کے وژن کی حمایت کرنے کے لیے، پنچایتی راج کی وزارت نے لکھنؤ، اتر پردیش میں ’دیہی برادریوں کو بااختیار بنانا: کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا‘ کے موضوع پر دو روزہ اسمارٹ ولیج پنچایت کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔
آج قومی سطح کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی قیادت دیہی ترقیات اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ اور پنچایتی راج کے وزیر مملکت جناب کپل موریشور پاٹل نے کی۔
اپنے افتتاحی خطاب میں جناب گری راج سنگھ نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں (پی آر آئی) نے تکنیکی ترقی کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ ’اسمارٹ گاؤں‘ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے ذکر کیا کہ ان میں ایسے نظام اور عمل شامل ہیں جو ٹیکنالوجی کے ذریعے چلتے ہیں جو زیادہ شفافیت، ذمہ داری اور جوابدہی کا باعث بنتے ہیں۔ جناب سنگھ نے موجودہ ٹکنالوجیوں کو دیکھنے اور لاگو کرنے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور منتخب نمائندوں کے کردار پر زور دیا۔ وزیر موصوف نے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم)، پی ایف ایم ایس انٹرفیس، گرام منچترا (مقامی منصوبہ بندی)، ڈرون ٹکنالوجی کو اپنانے اور دیہی ہندوستان میں ’صنعت کاری‘ پر وزن ڈالنے کے سلسلے میں گرام پنچایتوں کی تعریف کی جو ’آتم نربھر بھارت‘ وژن کو مزید تعاون فراہم کرے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب یوگی آدتیہ ناتھ نے 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی ہندوستان کی خواہش کو آگے بڑھانے میں اتر پردیش میں پنچایتی راج اداروں (پی آر آئیز) کے تعاون پر زور دیا۔ جناب آدتیہ ناتھ نے مزید کہا کہ اسمارٹ گاؤں کی تعمیر خود کفیل انفراسٹرکچر، ذمہ دار شہریوں اور طرز عمل میں تبدیلی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری شہریوں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی پر زور دیا۔ انہوں نے چار اہم ستونوں کی اہمیت پر زور دیا، جو آٹھ موضوعات یعنی اسمارٹ پنچایتوں کے قیام کے لیے گڈ گورننس یعنی تمام گرام پنچایتوں (جی پیز) کی بنیادی ڈھانچہ جاتی سہولیات کی فراہمی اور ان میں اضافہ، شفافیت میں اضافہ اور دن میں عوامی شرکت۔جی پیز کا آج کا کام، عوامی شکایات کا تیزی سے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانا، اور تمام جی پیز میں کامن سروس سینٹرز (سی ایس سیز) کا قیام اور بلاتعطل مفت وائی فائی کی سہولت کی فراہمی سے بھی جڑے ہوئے ہیں،
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب کپل موریشور پاٹل نے آئی سی ٹی، انٹرنیٹ، جی آئی ایس اور ریموٹ سینسنگ کا فائدہ اٹھا کر بنیادی سطح پر سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی بہبود کی لمبی عمر کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے ڈیمانڈ سپلائی مینجمنٹ جیسے چیلنجوں پر زور دیا جن کا سامنا پنچایتوں کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، بڑھتی ہوئی آبادی اور ناگزیر تیزی سے شہرکاری کے مطابق کرنے کے دوران کرنا پڑے گا۔ دیہی ترقی کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس عمل کو انجام دینے اور اس کی نگرانی کے لیے حکمت عملی/ماڈل وضع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریگولیشنز اور مینجمنٹ کی بنیادوں پر شہریوں کی شرکت کے ساتھ کلسٹر اپروچ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ( پی پی پی) پر مبنی خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا موزوں فریم ورک اگلی نسل کے اسمارٹ گاؤں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔
افتتاحی اجلاس کے دوران پنچایتی راج کی وزارت کے سکریٹری جناب سنیل کمار نے شرکاء کو اسمارٹ پنچایتیں بنانے کی اہمیت سے آگاہ کیا جو خود انحصاری اور خود مختار ہوں، تاکہ دیہی ہندوستان سے نوجوانوں کو ملازمت کے بہتر مواقع کی تلاش کے لیے شہروں کی طرف غیر ضروری نقل مکانی کو روکا جا سکے۔ جناب کمار نے یہ بھی بتایا کہ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹائزیشن (ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کو فروغ دینا) اور گاؤں کی سطح پر تعلیم یافتہ افرادی قوت ترقی کی بنیاد رکھتی ہے۔ ریاستی سطح کے اقدامات کی مثالیں جیسے کہ اتر پردیش اور مہاراشٹر میں گاؤں کی سطح کے کاروباری افراد، اسمارٹ آندھرا پردیش کی طرف اسمارٹ ولیج – اسمارٹ وارڈ، کوئمبٹور میں اودانتھورائی پنچایت کی بجلی پیدا کرنا، اور سی سی ٹی وی اور بائیو میٹرک مشینوں کی تنصیب، ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز، وائی فائی کوریج۔ گجرات کی پنساری پنچایت کا حوالہ ان کے خطاب میں دیا گیا۔
اس موقع پر ’لوکلائزیشن آف سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز (ایل ایس ڈی جی)، ای لرننگ ماڈیول کا آغاز‘ پر ایک کتاب کا اجراء کیا گیا۔
اسمارٹ گاؤں پنچایتوں پر یہ قومی کانفرنس، جس کا اہتمام پنچایتی راج کی وزارت نے اترپردیش کے پنچایتی راج محکمے اور سی آئی آئی ، ایسوچیم ،سی او اے آئی سمیت صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے کیا ہے، دیہی علاقوں کی ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کی طرف ایک نئی شروعات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس موقع پر اسمارٹ ولیج پنچایت نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے نچلی سطح پر مقامی گورننس کے لیے اہم کردار ادا کرنے والی پنچایتیں اقتصادی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر تیار ہوں گی اور دیہی تبدیلی کو جامع ترقی، لامرکزی انتظامیہ، اچھی حکمرانی کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) 2030 کے ایجنڈے کو حاصل کرنے کی طرف لے جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ م ع۔ع ن
(U: 10300)
(ریلیز آئی ڈی: 1859706)
وزیٹر کاؤنٹر : 141