سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 10 ستمبر 2022 کو سائنس سٹی، احمد آباد میں ریاستی ایس اینڈ ٹی وزراء کے کنکلیو کا افتتاح کریں گے


ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کنکلیو کا مقصد مرکز اور ریاستوں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کے ذریعے قومی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی)  ایکو سسٹم کو مضبوط بناناس ہے

 وزیر موصوف نے کہا کہ  مرکز ریاستوں کو ان کی ریاستی ایس ٹی آئی پالیسیاں بنانے میں مدد کرے گا اور ریاستوں کے ساتھ مل کر ان کی مخصوص ایس ٹی آئی ضروریات، چیلنجوں اور خامیوں کو دور کرنے اور   حل تلاش کرنے کے لیے  کام کرے گا

​​​​​​​سبھی  28 ریاستوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزراء، مرکز کے زیر انتظام 8 خطوں کے منتظمین  اور 100 سے زیادہ اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کے سی ای اوز کی اس دو روزہ سائنس کانکلیو میں شرکت متوقع ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

 

Posted On: 31 AUG 2022 5:30PM by PIB Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی سائنس سٹی، احمد آباد میں 10 ستمبر 2022 کو  سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی (ایس اینڈ ٹی) وزرارت کے 2 روزہ سائنس کانکلیو کا افتتاح کریں گے۔

آج یہاں ایک اعلیٰ سطحی سرکاری میٹنگ کے بعد اس کا اعلان کرتے ہوئے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارضیاتی سائنس کے وزیر مملکت  (آزادانہ چارج) ؛ وزیراعظم کے دفتر ، عملے، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس بار کانفرنس کو مختلف ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے ہر ایک سے متعلقہ نئی ٹیکنالوجیز  اور ’زندگی گزارنے کی آسانی‘ کے واسطے ان کے زیادہ سے زیادہ استعما ل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک مختلف فارمیٹ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میٹنگ  مرکز اور ریاستوں کے درمیان سائلو کو توڑنے میں بھی مدد کرے گی، جبکہ پورے ملک میں زیادہ ہم آہنگی کے ذریعے سائنس ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) ایکو سسٹم کو مضبوط کرے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001A3NC.jpg

تمام 28 ریاستوں کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزراء، مرکز کے زیر انتظام 8 خطوں کے منتظمین، ریاستوں کے اہم عہدیدار - چیف سکریٹریز، ریاستوں میں ایس اینڈ ٹی کے انچارج پرنسپل سکریٹریز اور حکومت ہند  کے اداروں کے تمام سائنس سکریٹریز یعنی  ڈی ایس ٹی، ڈی بی ٹی، ڈی ایس آئی آر، ڈی اے ای، ڈی او ایس، آئی سی ایم آر، آئی سی اے آر، جل شکتی،ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا ی تبدیلی کی وزارت اور 100 سے زیادہ اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کے سی ای اوز کے دو روزہ سائنس کنکلیو میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ دو روزہ سائنس اور ٹکنالوجی کانکلیو ایک نئی جہت کا حامل ہوگا کیونکہ کئی ایکشن پر مبنی فیصلے لیے جائیں گے اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا جائے گا کہ وہ قومی ایس ٹی آئی پالیسی کی طرز پر اپنی انفرادی ایس ٹی آئی پالیسی وضع کریں۔ وزیر  موصوف نے کہا کہ کو آپریٹیو  وفاقیت کے  سچے جذبے کے ساتھ  مرکز ریاستوں کو ان کی ریاستی ایس ٹی آئی پالیسیاں بنانے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ریاستوں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرے گا تاکہ ان کی مخصوص ایس ٹی آئی ضروریات، چیلنجوں اور خامیوں کو دور کیا جائے اور حل  تلاش کئے جائیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002CP2X.jpg

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکاء کو بتایا کہ تقریباً ہر ایک ریاست کے پاس  ایس اینڈ ٹی کونسل موجود ہے لیکن صرف چند ہی فعال طور پر کام کر رہے ہیں اور اس لیے ایس اینڈ ٹی کونسل کی سطح سے آگے ریاستوں کے ساتھ ایس ٹی آئی کے کاموں کو بڑھانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ٹی آئی ایکو سسٹم کی نقشہ سازی میں چار وسیع اشاریئے جیسے نظام کے اندر پیدا ہونے والا علم، نظام کے اندر پیدا کردہ علم کا پھیلاؤ، علم پیدا کرنے والوں اور علم کو پھیلانے والوں کے درمیان تعامل/روابط اور نظام کی ضروریات/ترجیحات اور چیلنجز/کمزوریوں کی شناخت شامل ہیں۔  

کانکلیو کے وسیع ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کا مقصد ایس اینڈ ٹی میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان فعال سرگرمیوں کو فروغ دینا، مرکز اور ریاستوں کے درمیان ایس ٹی آئی کی معلومات اور ڈیٹا کے  پھیلاؤ کو آسان بنانے کے لیے ایک طریقہ کار بنانا،  اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سائنسدانوں، ٹکنالوجسٹوں  اور پروفیشنلز کی صلاحیت  سازی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی آر اینڈ ڈی  میں پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت کو فروغ دینے کے لیے مرکز اور ریاستیں مل کر کام کریں گی اور اعلیٰ ترین سطح پر ایس ٹی آئی میں مرکز-ریاست کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ میکانزم کو ایک مضبوط اور طویل مدتی پوزیشن میں لانے کی کوشش کریں گے۔

اس میٹنگ میں نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے سارسوت، حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے سود، سکریٹری شعبہ سائنس اور ٹیکنالوجی، ڈاکٹر ایس چندر شیکھر، خلا کے محکمے سکریٹری، ایس سومانتھ، ارضیاتی سائنس کے سکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن، بایو ٹیکنالوجی کے محکمے کے سیکرٹری ڈاکٹر راجیش گوکھلے، صلاحیت سازی کے کمیشن کے سیکریٹری،، ہیمانگ جانی اور صحت اور خاندانی بہبود، ماحولیات، جنگلات اور آب  وہوا کی تبدیلی، جل شکتی، زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارتوں کے نمائندے اور سینئر افسران نے جائزہ میٹنگ میں شرکت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

U-9732



(Release ID: 1855869) Visitor Counter : 35