قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیلی –لا خدمات شہریوں کے لیے اس سال سے مفت فراہم کی جا رہی ہیں: جناب کرن رجیجو


قانونی خدمات کی مربوط بہم رسانی کے لیے محکمہ انصاف اور این اے ایل ایس اے کے درمیان مفاہمتی عرضداشت کا تبادلہ

مفاہمتی عرضداشت کی تجاویز کے تحت، این اے ایل ایس اے خصوصاً ٹیلی-لا پروگرام کے لیے ہر ایک ضلع میں 700 وکلاء کی خدمات فراہم کرے گی

Posted On: 16 JUL 2022 4:09PM by PIB Delhi

قانون و انصاف کے وزیر جناب کرن رجیجو نے آج جے پور میں منعقدہ 18 ویں کل ہند قانونی خدمات میٹنگ کے دوران اعلان کیا کہ’’ اس سال سے، ٹیلی- لا خدمات ملک میں شہریوں کے لیے مفت فراہم کی جا رہی ہیں‘‘۔ ٹیلی-لا سروس مدد کے متلاشی حاشیے پر موجود طبقات کو ایک لاکھ گرام پنچایتوں میں کامن سروس سینٹرس (سی ایس سی) پر دستیاب ٹیلی/ویڈیو کانفرنسنگ بنیادی ڈھانچے کے توسط سے پینل میں وکلاء کے ساتھ مربوط کرکے انہیں قانونی امداد فراہم کرتی ہے۔ آسان اور براہِ راست رسائی کے لیے 2021 میں ٹیلی – لا موبائل ایپلی کیشن (اینڈرائڈ اور آئی او ایس دونوں) بھی لانچ کی گئی  اور فی الوقت یہ 22 درج فہرست زبانوں میں دستیاب ہے۔ اس ڈجیٹل انقلاب سے فوائد بہم پہنچاتے ہوئے، ٹیلی – لا نے محض پانچ برسوں کی مدت میں قانونی خدمات کی رسائی میں 20 لاکھ سے زائد مستفیدین پر احاطہ کر لیا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001J9SQ.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002B563.jpg

 

تقریب کے دوران، محکمہ انصاف، قانون و انصاف کی وزارت اور قومی قانونی خدمات اتھارٹی (این ای ایل ایس اے) نے قومی خدمات کی مربوط بہم رسانی کے لیے مفاہمتی عرضداشت (ایم او یو) کا باہمی تبادلہ کیا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ مفاہمتی عرضداشت شہریوں کے درمیان اتحاد کے سب سے بڑے عنصر کے طور پر قانون کی حکمرانی قائم کرنے اورسب کے لیے انصاف کی فراہمی کے کاز کو فروغ دینے سے متعلق ہماری مشترکہ عہدبندگی کی علامت ہے۔مفاہمتی عرضداشت کی تجویز کے تحت، این اے ایل ایس اے خصوصاً ٹیلی-لا پروگرام کے لیے  ہر ایک ضلع میں 700 وکلاء کی خدمات فراہم کرے گی۔ پینل میں موجود وکلاء حضرات اب ریفرل وکلاء کے طور پر کام بھی کریں گے اور قانونی چارہ جوئی سے پہلے کے مرحلے میں تنازعہ سے گریز اور تنازعہ کو حل کرنے کے لیے میکنزم کو مضبوط بنانے میں بھی تعاون فراہم کریں گے۔جناب کرن رجیجو نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انجمن قلیل مدت میں ایک کروڑ مستفیدین تک  رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے، جناب کرن رجیجو نے زیر سماعت قیدیوں کی رہائی کے ذریعہ جیلوں کی بھیڑ بھاڑ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ این اے ایل ایس اے اپنے ایس ایل ایس اے اور ڈی ایل ایس اے کے توسط سے پہلے سے ہی اس سلسلے میں ٹرائل ریویو کمیٹی (یو ٹی آر سی) کے ذریعہ زیر سماعت قیدمیوں کو مفت قانونی امداد/ قانونی صلاح فراہم کرا رہی ہے۔ گذشتہ برس کے دوران یو ٹی آر سی کی مجموعی 21148 میٹنگوں کا اہتمام کیا گیا، جس کے نتیجہ میں 31605 زیر سماعت قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

محترم وزیر  نے ریاستی قانونی خدمات اتھارٹیوں سے زیر سماعت قیدیوں کو قانونی صلاح/امداد فراہم کرنے سے متعلق اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی اپیل کی تاکہ زیرسماعت جائزہ کمیٹی کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ زیر سماعت قیدیوں کو رہا کیا جا سکے۔انہوں نے ہائی کورٹوں سے اس مدت کے دوران متعلقہ ڈسٹرکٹ جج کی سربراہی میں یو ٹی آر سی کی باقاعدہ میٹنگیں یقینی بنانے کی اپیل کی تاکہ جیلوں میں قید زیرسماعت قیدیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو 15 اگست 2022 سے پہلے رہا کرنے کی سفارش کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’’آزادی کا امرت مہوتسو‘‘ کے جشن کے حصے کے طور پر حکومت ہند نے پہلے ہی قیدیوں کو خصوصی رعایت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے وزارت داخلہ کے ذریعہ رہنما خطوط پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اپنے خطبہ کے آخر میں جناب کرن رجیجو نے کہا کہ انصاف تک رسائی کو، بھارت کے آئین کے تحت مقررکردہ ہمارے قانونی ڈھانچہ کے ایک اٹوٹ حصے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس خواب کی تکمیل اور اب تک کیے گئے کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے قانونی خدمات اتھارٹیوں اور حکومت کے مختلف محکموں اور ایجنسیوں کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔

 

**********

 

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:7640



(Release ID: 1842043) Visitor Counter : 45