عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران گورننس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شروع کردہ اصلاحات دراصل عام آدمی کے لئے 'زندگی میں آسانی' پیدا کرنے اور امنگوں سے بھرے نوجوانوں کے حق میں 'منصفانہ ماحول' تیار کرنے کے رُخ پر سماجی اصلاحات ہیں


وزیر موصوف نے بنگلورو میں "شہریوں، صنعت کاروں اور حکومت کی اچھی گورننس کے لئے یکجائی" کے موضوع پر دو روزہ علاقائی کانفرنس میں اختتامی خطبہ پیش کیا

نیشنل ریکروٹمنٹ ایجنسی (این آر اے) اس سال کے آواخر تک نان گزیٹڈ عہدوں پر تقرریوں کے لئے کمپیوٹر پر مبنی آن لائن کامن ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (سی ای ٹی) کرانے کی تیاری کر رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 JUL 2022 3:01PM by PIB Delhi

 

سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کےمرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے مملکتی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہاں کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران گورننس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شروع کردہ اصلاحات دراصل عام آدمی کے لئے 'زندگی میں آسانی' پیدا کرنے اور امنگوں سے بھرے نوجوانوں کے حق میں 'منصفانہ ماحول' تیار کرنے کے رُخ پر سماجی اصلاحات ہیں۔

ڈی اے آر پی جی اور کرناٹک کی حکومت کے زیر اہتمام بنگلورو میں گورننس پر دو روزہ علاقائی کانفرنس میں اپنے اختتامی خطبے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مودی کے طرز حکمرانی کے ماڈل کی خاصیت ان کی صلاحیتوں سے ہٹ کر فیصلے کرنے، ماضی کے ممنوعات کو توڑنے اور حکومت کی مہم کو عوامی مہم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ کام صلاحیت اور اپنی ہمت، یقین اور خلوص کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

کانفرنس کے موضوع "شہریوں، صنعت کاروں اور حکومت کی اچھی گورننس کے لئے یکجائی" کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وسیع تر سماجی مضمرات والی اس طرح کی اصلاحات کی ایک سیریز کی فہرست پیش کی۔ وزیر موصوف نے یاد دلایا کہ مئی 2014 میں حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کے تین مہینوں کے اندر وزیر اعظم نے گزیٹیڈ افسران کے ذریعہ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کو ختم کر کے اپنی تصدیق آپ کو فروغ دے کر انتہائی انقلابی اور صف شکن قدم اٹھایا جس سے ہندوستان کے نوجوانوں میں اعتماد بحال ہوا۔ اسی طرح نریندر مودی جی نے 15 اگست 2015 کو لال قلعہ کی فصیل سے یوم آزادی کے خطاب میں انٹرویوز کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی جس پر یکم جنوری 2016 سے ڈی او پی ٹی نے عمل شروع کیا۔ اس اقدام سے تمام امیدواروں کے حق میں منصفانہ ماحول تیار ہوا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سی پی جی آر اےایم ایس میں شکایات کی تعداد 2014 میں سالانہ 2 لاکھ سے بڑھ کر فی الحال 25 لاکھ ہو گئی ہے جو اس بات کی مثبت عکاسی کرتی ہے کہ اب ایک ایسی حکومت ہے جو شہریوں کی شکایات کو فوری طور پر سنتی ہے اور ان کا ازالہ کرتی ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ افسران کے انفرادی پروفائل کے بجائے اہم ترین اسکیموں پر توجہ مرکوز کرنے والے وزیر اعظم ایکسی لینس ایوارڈوں سے 750 اضلاع کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ  ملا ہے۔ یہ گورننس کے رُخ پرایک اور دور رس اصلاح ہے۔۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مندوبین کو مطلع کیا کہ اس سال کے آواخر تک قومی بھرتی ایجنسی کے تحت نان گزیٹڈ عہدوں پر بھرتی کے لیے کمپیوٹر پر مبنی آن لائن کامن ایلیجیبلٹی ٹیسٹ کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں یہ ٹیسٹ 12 زبانوں میں لیا جائے گا۔ پھر مرحلہ وار اس میں آئین کے 8ویں شیڈول میں درج تمام 22 زبانوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس طرح بعض جنوبی ریاستوں کی زبان کے معاملے میں تعصب کی شکایات کا ازالہ ہو جائے گا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ گورننس کے وزیر اعظم کے منتر کا مطلب ہے شہریوں کی زیادہ شمولیت، جدت طرازی، جدید ترین تکنیکوں کا استعمال اور شفافیت۔ انہوں نے کہا کہ تمام گورننس ماڈلز کا حتمی مقصد آخری قطار کے آخری شخص تک پہنچنا ہے تاکہ اسے معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک دوسرے کے کام کے بہترین طریقوں کو اپنایا جائے اور انہیں اپنے متعلقہ شعبوں، خطوں اور ریاستوں میں نافذ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا  کہ حکومت نے ایک جیسے مسائل سے دوچار ریاستوں کو یکجا کیا ہے تاکہ وہ  ایک دوسرے سے سیکھنے کے لئے ایک جیسے مسائل سے متعلق اپنی مہارت اور تجربات اور کامیابیوں کا اشتراک کرسکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ امنگوں بھرے اضلاع کے ماڈل کی بنیاد پرڈی اے آر پی  جی نے ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس کا نیا تصور متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پہلی ریاست تھی جہاں اس سال جنوری میں ڈسٹرکٹ انڈیکس جاری کیا گیا تھا اس کے بعد اتر پردیش میں اس کا اجرا ہوا۔ اب مدھیہ پردیش میں کام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس ایک سنگ میل ہے اور امید ہے کہ یہ ریاستوں کے تمام اضلاع کی کارکردگی کے ثبوت پر مبنی جائزے کے لئے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے گا۔ وزیر نے اجتماع کو یہ بھی بتایا کہ اگلے مرحلے میں انڈیکس کے قدم  بلاک اور پنچایت کی سطح پر بڑھے  گا۔

کرناٹک کے وزیر صحت اور خاندانی بہبود اور طبی تعلیم ڈاکٹر کے سدھاکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست میں عوام پر مرکوز گورننس ماڈل کی پیروی کی جارہی ہے۔

"کاروبار کرنے میں آسانی" کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سازگار کاروباری ماحولیاتی نظام کی وجہ سے 400 سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کرناٹک میں یونٹیں قائم کی ہیں۔ ڈاکٹر سدھاکر نے نوجوانوں اور عام آدمی کو بااختیار بنانے کے لئے پہچان، جواب اور ازالے کے آر آر آر ماڈل کا بھی حوالہ دیا۔

ڈی اے آر پی جی کے سکریٹری  جناب وی سری نواس نے کہا کہ یہ کانفرنس مرکزی، ریاستی اور ضلعی سطح پر مختلف انتظامی اصلاحات کے ذریعے حکومت اور شہریوں کو قریب لانے کی کوشش ہے۔ اسے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے فعال کیا جا رہا ہے "زیادہ سے زیادہ گورننس، کم سے کم حکومت" کے پالیسی مقصد کے ساتھ اگلی نسل کی اصلاحات اور اختراعات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس میں حکومتی عمل میں شامل ری انجینئرنگ، ای خدمات تک عالمی رسائی، ضلعی سطح پر ڈیجیٹل اقدامات میں عمدہ کارکردگی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں مہارت اور آئی سی ٹی مینجمنٹ کا استعمال شامل ہیں۔

دو روزہ پروگرام کے دوران، چھ اجلاس میں پریزنٹیشنز رکھی گئیں: (1) انتظامی اصلاحات؛ (2) باہر کا داخلی منظر: پرائیویٹ سیکٹر اور گڈ گورننس؛ (3) بہترین طریقوں کی نقل؛ (4) ریاستوں میں انتظامی اصلاحات؛ (5) بینچ مارکنگ گورننس اور (6) نئی صنعتین اورگڈ گورننس کے تجربات۔

*****

 

U.No:7479

ش ح۔رف۔س ا


(ریلیز آئی ڈی: 1840994) وزیٹر کاؤنٹر : 158