کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

کھاد کے شعبے میں اصلاحات

Posted On: 01 APR 2022 3:37PM by PIB Delhi

کیمیکل اور کھاد کے وزیر مملکت جناب بھگونت کھوبا نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی ہے کہ حکومت نے 2 جنوری 2013 کو نئی سرمایہ کاری پالیسی (این آئی پی) 2012 کا اعلان کیا اور 7 اکتوبر 2014 کو اس میں ترمیم  بھی کی تاکہ یوریا کے شعبے میں نئی  سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی جاسکے اور اس طرح  ہندوستان کو یوریا  تیار کرنے کے شعبے میں خود کفیل بنایا جاسکے۔ این آئی پی - 2012 کے تحت،  اس کو ترمیم کے ساتھ پڑھا جائے ،میٹکس فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکل لمٹیڈ (میکٹس)، چمبل فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (سی ایف سی ایل) (راما گنڈم  فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمٹیڈ (آر ایف سی  ایل )اور ہندوستان  ارورک اینڈ رسائن لمٹیڈ(ایچ یو آر ایل ) نے 12.7   لاکھ میٹرک ٹن سالانہ(ایل ایم ٹی پی اے) صلاحیت کے یوریا  پلانٹ بالترتیب پناگڑھ-مغربی بنگال، گڈیپن-راجستھان (گڈیپن-III)، راما گنڈم-تلنگانہ اور گورکھپور-اتر پردیش میں  قائم کئے  گئے ہیں۔

مندرجہ بالا کے علاوہ، فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز انڈیا لمیٹڈ  ایف سی آئی ایل کے 1 بند یونٹ یعنی سندھری اور ہندوستان فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (ایچ ایف سی ایل ) کے 1 بند یونٹ برونی میں2012 کے تحت  اس کو ترمیم کے ساتھ پڑھا  جائے۔ 12.7  ایل ایم ٹی پی اے  کے نئے گرین فیلڈ یوریا یونٹس کے قیام کے ذریعے  ان دونوں یونٹوں کو بحال کیا گیا ہے۔ ایف سی آئی ایل  کے تالچر یونٹ کی بحالی کے لیے 28 اپریل 2021 کو ایک خصوصی پالیسی کو نوٹی فائی کیا گیا ہے۔ 12.7 لاکھ میٹرک ٹن   پیدا واری  کا ایک  نیا گرین فیلڈ یوریا پلانٹ نصب کیا گیا ہے۔

حکومت ہند نے 25 مئی 2015 کو نئی یوریا پالیسی(این یو پی )2015  کو بھی نوٹیفائی کیا ہے جس کا مقصد مقامی یوریا کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے مقصد سے موجودہ 25 گیس پر مبنی یوریا یونٹوں  کو فروغ دینا ہے۔ اس کا یہ بھی مقصد ہے کہ یوریا کی پیداوار میں توانائی کی کارکردگی کو فروغ دیا جائے؛ اور حکومت پر سبسڈی کے بوجھ کو معقول بنایا جائے۔ این یو پی- 2015 کے نفاذ سے موجودہ گیس پر مبنی یوریا اکائیوں سے اضافی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یوریا کی اصل پیداوار میں 2015-2014 کے دوران کی حقیقی  پیداوار کے مقابلے میں 20-25  لاکھ میٹرک ٹن سالانہ  کا اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں، آئی ایف ایف سی او (انڈین فارمرس فرٹیلائزر کوآپریٹیو لمٹیڈ) نے نینو ٹیکنالوجی پر مبنی نینو یوریا (مادے کی شکل میں ) کھاد تیار کی ہے۔ محکمہ زراعت اور کسان بہبود (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو)  نے نینو یوریا کو نینو نائٹروجن کھاد کے طور پر 24 فروری 2021 کو فرٹیلائزرز کنٹرول آرڈر، 1985 میں  عبوری  طور پر نوٹیفائی  کیا ہے۔

پی ڈی ایم یا پوٹاش جو مولاسس سے ماخوذ ہے جو کہ 100فیصد مقامی طور پر تیار کی جاتی ہے کو غذائیت پر مبنی سبسڈی (این بی ایس ) اسکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

اس طرح، حکومت ہند(جی او آئی) کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ملک میں نئی ​​کھادوں کی ضرورت کو پہچانے /  شناخت  کریں۔ نئی کھادیں جیسے نینو کھاد، مٹی اور فصل کے لیے مخصوص اپنی مرضی کے مطابق کھادیں، بایو محرک، وقفے وقفے سےدی جانے والی  کھاد جیسے نیم کوٹڈ یوریا وغیرہ کو فرٹیلائزر کنٹرول آرڈر، 1985 کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

حکومت ہند(جی او آئی) نے ایک نئے نقطہ نظر کے ساتھ پودوں کے غذائی اجزاء کے غیر نامیاتی اور نامیاتی دونوں ذرائع (کھاد، بایو فرٹیلائزر، سبز کھاد، فصل کی باقیات کی ری سائیکلنگ وغیرہ) کے مشترکہ استعمال کے ذریعے مٹی کی جانچ پر مبنی متوازن اور مربوط غذائی اجزاء کے انتظام کی سفارش کی ہے۔ جس کا بنیادی مقصد مقدار، صحیح وقت، صحیح موڈ اور صحیح قسم کی کھاد اور کیمیائی کھادوں کے استعمال کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، اسپلٹ ایپلی کیشن، نیم کوٹیڈ، یوریا سمیت وقفے وقفے سے دی جانے والی کھادوں کے استعمال اور پھلی دار فصلوں کو اگانے کی بھی وکالت کی جاتی ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے 29 دسمبر 2017 کو جی ایس آر 1607(ای ) کے ذریعے کھاد کی صنعتوں کے لیے فضلہ اور  گیسوں کے اخراج کے معیارات  سے متعلق ایک نوٹی فیکشن جاری کیا ہے۔کھاد کی تمام صنعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کام کرنے کے لیے متعلقہ ریاست کے آلودگی کنٹرول بورڈ/ آلودگی کنٹرول کمیٹیوں  سے رضامندی حاصل کرنے کے بعد ہی کام کریں۔ تمام کھاد کی صنعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کافی مقدار میں ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ سسٹم اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کا مناسب نظام رکھیں اور مقررہ فضلہ اور گیسوں کے اخراج کے معیارات پر عمل کریں۔ جو کھاد  پیدا کرنے والی صنعتیں  مطلع شدہ فضلے اور اخراج کے اخراج کے معیارات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہتی ہیں، ان کے خلاف انہی اداروں کے ذریعہ قانونی کاررو ائی بھی کی جاتی ہے۔

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے تمام 17 زمروں کی  انتہائی آلودگی پھیلانے والی تمام صنعتوں کے کو ہدایات جاری کی ہیں جن میں کھاد کی صنعتیں بھی سی پی سی بی  سے حقیقی وقت میں ڈیٹا کنیکٹیویٹی کے ساتھ آن لائن کنٹینیوئس ایفلوئنٹ/ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم (او سی ای ایم ایس) کو انسٹال کریں۔سی پی سی بی صنعتوں کا باقاعدہ معائنہ  او سی ای ایم ایس   کے انتباہات یا او سی ای ایم ایس  کے آف لائن ہونے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ معائنہ کے مشاہدات کی بنیاد پر، سی پی سی بی ڈیفالٹر صنعتوں پر موجودہ قوانین کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔

 

*************

 

 

ش ح۔ ج ق۔ ر‍‌ض

U. No.7201

 



(Release ID: 1839061) Visitor Counter : 128


Read this release in: English , Bengali