مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سووچھ بھارت مشن- اربن 2.0 نے پورے شہری بھارت میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے نظر ثانی شدہ سووچھ سرٹیفکیشن پروٹوکول کا آغاز کیا


نظر ثانی شدہ سووچھ پروٹوکولز مزید مضبوط اور شفاف تھرڈ پارٹی سرٹیفکیشن کا مطالبہ کرتے ہیں

Posted On: 25 JUN 2022 6:50PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  25/جون 2022 ۔ سووچھ بھارت مشن-اربن 2.0، جسے ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، نے او ڈی ایف، او ڈی ایف+، او ڈی ایف++، اور واٹر+ سرٹیفکیشنز کے لیے نظر ثانی شدہ سووچھ سرٹیفکیشن پروٹوکولز کا آغاز کیا ہے۔ نئی دہلی کے نرمان بھون میں کل منعقد ہونے والے اس لانچ ایونٹ/ افتتاحی تقریب کی صدارت ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری جناب منوج جوشی نے کی، اور اس میں مختلف حصص داروں جیسے کہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں، شہروں اور سیکٹر پارٹنرز کے حکام نے شرکت کی۔

Image

سنہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی یوم آزادی کی تقریر کے دوران، بھارت سے کھلے میں رفع حاجت کی لعنت کو ختم کرنے کے ہدف کو ایک قومی ترقیاتی ترجیح بنایا گیا تھا۔ مہاتما گاندھی کے 150 ویں یوم پیدائش کو شہری بھارت کے تمام شہروں اور قانونی قصبوں کو 100 فیصد کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) بنانے کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ شہریوں میں بیداری بڑھاکر اور صفائی کی سہولیات کی دستیابی کو مسلسل بہتر بنا کر، سووچھ بھارت مشن-اربن کا پہلا مرحلہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور شہری بھارت کو 100 فیصد کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دیا گیا، تاہم مشن کا مینڈیٹ شہری بھارت کو او ڈی ایف بنانے سے آگے ہے۔

ایس بی ایم – یو کے ذریعے، بھارت نے اپنے لیے صفائی کی ایک کامیاب داستان لکھی ہے، جو کہ مہاتما گاندھی کے کلین انڈیا کے وژن کے تئیں موزوں خراج تحسین ہے۔ مشن کے آغاز کے سات سال بعد، لاکھوں شہریوں، خاص طور پر خواتین، بچوں اور دیویانگوں کو عزت اور تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ صفائی کے نئے اہداف کی طرف ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے صفائی کی ان کامیابیوں کو برقرار رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ نظرثانی شدہ پروٹوکولز کو  ایس بی ایم – 2.0 مقاصد کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اور اسے اس لئے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ درج ذیل چیزوں کو یقینی بنایا جاسکے:

  • کوئی بھی بغیر ٹریٹ کیا ہوا استعمال شدہ پانی یا فیکل کیچڑ (سلج) ماحول میں خارج نہیں کیا جاتا ہے اور تمام استعمال شدہ پانی (بشمول سیوریج اور سیپٹج، گرے واٹر اور بلیک واٹر) کا محفوظ طریقے سے احاطہ کیا جاتا ہے، منتقل کیا جاتا ہے اور اسے ٹریٹ کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ایک لاکھ سے کم آبادی والے سبھی شہروں میں ٹریٹ کئے گئے استعمال شدہ پانی کا زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
  • تمام قانونی شہروں میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک حالت کو برقرار رکھنے کے لیے۔
  • اس میں شہروں کو صاف ستھرے شہری بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے قابل اعتماد آپریشن اینڈ مینٹی ننس (او اینڈ ایم) میکانزم کے ساتھ مضبوط انفراسٹرکچر کی ترغیب دینے کی دفعات شامل ہیں۔ ہر سرٹیفکیشن کے تعلق سے اہم اقدامات حسب ذیل ہیں:
  • او ڈی ایف -  سروے کے نمونے کے سائز اور مقام کی اقسام کی تعداد میں اضافہ کرکے مضبوط نگرانی کا طریقہ کار یقینی بنایا گیا۔
  • او ڈی ایف+ -  طویل مدت میں پائیداری کے لیے سی ٹی/ پی ٹی کی فعالیت اور جدید او اینڈ ایم کاروباری ماڈل پر توجہ مرکوز کرنا۔
  • او ڈی ایف++ - سیپٹک ٹینکوں اور گٹروں کی مشینی صفائی پر زور۔ استعمال شدہ پانی کو محفوظ طریقے سے جمع کرنا اور ٹریٹمنٹ کے ساتھ ساتھ فیکل سلج کا محفوظ انتظام۔
  • واٹر+ - ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے استعمال شدہ پانی اور فیکل سلج دونوں کو جمع کرنے، نقل و حمل، ٹریٹمنٹ اور دوبارہ استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ (1) 20000 سے زیادہ آبادی والے قصبوں کے لیے، کم از کم 25 فیصد گھرانوں کو سیوریج نیٹ ورک سے منسلک کیا جانا۔ (2) پائیداری کے حصول کے لیے کوشش کرنا۔ (3) ماحول میں بغیر ٹریٹ کئے ہوئے استعمال شدہ پانی کو باہر نہیں جانے دیا جاتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002SPRL.jpg

نظر ثانی شدہ سووچھ سرٹیفکیشن پروٹوکولز کا آغاز کرتے ہوئے، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری جناب منوج جوشی نے مزید جامع بننے کے لیے سرٹیفکیشن کے عمل کو مسلسل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ پروٹوکول کا ارتقاء ایک مسلسل عمل ہے اور ہم ایک آسان عمل کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ نظر ثانی شدہ سووچھ سرٹیفکیشن پروٹوکول زیادہ فعالیت پر مبنی ہے اور اسے افسران اور شہریوں کے لیے بہتر طور پر سمجھنے کے مقصد سے آسان بنایا گیا ہے۔ پروٹوکول کا مقصد نہ صرف شہروں کی درجہ بندی کو بہتر بنانا ہے، بلکہ مشن کی روح کو حاصل کرنے کے لیے شہروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0031PAM.jpg

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، محترمہ روپا مشرا، جوائنٹ سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، سووچھ بھارت مشن-اربن، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت نے سرٹیفکیشن کے عمل کو آسان اور زیادہ مضبوط بنانے پر مشن کی توجہ پر زور دیا۔ صفائی کے شعبے میں، ایک ہی سائز کا تمام طریقہ کار اس شعبے کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور ضروریات کو مناسب طریقے سے پورا کرنے میں ناکام رہے گا۔ ہم سب کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم منفرد طریقوں سے صفائی سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل اختراع کریں۔ تمام بیت الخلاء کے آپریشن اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے تاکہ ہم ملک کی او ڈی ایف کامیابیوں کو برقرار رکھ سکیں۔

لانچ ایونٹ کے بعد سووچھ ٹاکز کی تیسری قسط کا آغاز ہوا، جو شہروں اور ریاستوں کی پیئر لرننگ کو فروغ دینے کے لیے مشن کا اہم اقدام ہے۔ مشن کے تحت آئی ای سی کے اقدام کے تئیں پہلی قسط کا عنوان ’صفائی متر سرکشا ‘ اور دوسری قسط کا عنوان ’سوچھتا کی جیوتی‘ تھا، جبکہ تیسرے ایڈیشن کو ’’سووچھ سرٹیفکیشن: دی فیس آف اَربن ٹرانفارمیشن‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد شہروں، ریاستوں اور تنظیموں کے ذریعے تعینات کئے جارہے جدید ٹوائلٹ حل کے تعلق سے افسران کی منفرد صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

Image

جناب چندر موہن گرگ، کمشنر، پریاگ راج نے صفائی سے متعلق حکمت عملیوں کا اشتراک کیا، جسے 2019 میں کمبھ میلے کے دوران میزبان شہر نے کمیونٹی اور عوامی بیت الخلاء کی دیکھ بھال کے لیے اپنایا تھا۔ فائبر ان فورسڈ پلاسٹک سے بنے بیت الخلاء، اور پری فیبب اسٹیل کے بیت الخلاء آسانی سے دیکھ بھال کے جاسکنے کے مقصد سے لگائے گئے تھے۔ کمبھ میلہ 2019 کے دوران، تقریباً 17000 بیت الخلاء بنائے گئے تھے جن کے یونٹوں کو سیوریج نیٹ ورکس سے جوڑنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس طرح، شہر نے 250 سے زائد ٹرک اور دو عارضی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کو سیوریج کے مؤثر انتظام کے لیے لگایا۔ مزید برآں، شہر نے کمبھ میلے کے دوران اچھے برتاؤ کو یقینی بنانے کے لیے، 1500 سے زیادہ رضاکاروں کے ذریعے چلائے جانے والے وسیع مہمات کا اہتمام کیا۔

Image

وجئے واڑہ میں صفائی کے بنیادی ڈھانچے کے ارتقاء پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، میونسپل کمشنر جناب سوپنل پنڈکر نے نما ٹوائلیٹ ماڈل کی مناسبیت کا ذکر کیا۔ یہ ماڈیولر بیت الخلاء ہیں جو دو ماہ کے اندر نصب کیے جاسکتے ہیں اور اس میں کسی بھی وقت ترمیم کی گنجائش رہتی ہے۔ اب زیادہ تر جگہیں ’’پیلے دھبوں‘‘ سے پاک ہونے کی راہ پر ہیں۔ مزید برآں، یو ایل بی نے شہر میں صفائی کے جامع انفراسٹرکچر تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے سینیٹری پیڈ وینڈنگ مشینوں جیسی خصوصیات کے ساتھ ایئر کنڈیشنڈ ’سولبھ کمپلیکسز‘ کو شامل کرنے کے اپنے منصوبے کا بھی اشتراک کیا۔

Image

سووچھ ٹاک میں بھوپال کے میونسپل کمشنر جناب کے وی ایس چودھری نے بھی اظہار خیال کیا۔ انھوں نے مؤثر ٹوائلٹ ماڈل پیش کیے جو شہر میں کام کر رہے ہیں، جیسے کہ شی لاؤنج، بائیو ٹوائلیٹ، اور فریش رومز۔ انھوں نے وقار کو یقینی بنانے اور سب کے لیے صفائی ستھرائی تک رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔

نجی شعبے کی تنظیمیں بھی ویبینار کا حصہ تھیں۔ ٹوائلٹ بورڈ کولیشن سے سنیل اگروال نے صحت کے مثبت نتائج اور ماحولیاتی استحکام کو حاصل کرنے کے لیے اس جگہ میں بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپس کے ساتھ ساتھ خودکار بیت الخلاء کی حمایت کرنے کی ضرورت پر بات کی۔ انھوں نے ایسے ایکسلریٹر پروگراموں کو چلانے کی ضرورت پر زور دیا جو صفائی کے جدید حل کا مظاہرہ کریں، اور جو بڑے پیمانے پر چلائے جاسکتے ہیں اور مشن کے ساتھ منسلک ہوسکتے ہیں۔

جناب ابھیشیک ناتھ نے ’لو کیفے‘ ماڈل پیش کیا، ایک پائیدار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی ماڈل جو عوامی بیت الخلاء کی دیکھ بھال اور دیکھ بھال کے لیے صارف سے فیس لیتا ہے۔ ایرم سائنٹیفک، کیرالہ سے محترمہ سریجا سنتوش نے عوامی بیت الخلاء کے لیے آئی او ٹی پر مبنی ای ٹوائلیٹ بزنس ماڈل کے لیے کیس اسٹڈی پیش کی۔ آخر میں، فریش رومز ہاسپیٹلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ سے جناب آشوتوش گری نے عوامی بیت الخلاء کے لیے کلاؤڈ بیسڈ ای ٹوائلٹ بزنس ماڈل پیش کیا۔

سووچھ بھارت مشن- اربن 2.0، جسے وزیراعظم نے یکم اکتوبر 2022 کو ’کچرے سے پاک شہر‘ بنانے کے مجموعی وژن کے ساتھ شروع کیا تھا، نے ایک لاکھ سے کم آبادی والے قصبوں کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کو ایک نئے فنڈ والے جزو کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ شہری بھارت میں مجموعی طور پر استعمال شدہ پانی کے انتظام کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے مشن کے وعدوں کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بغیر ٹریٹ کئے ہوئے استعمال شدہ پانی کو آبی ذخائر میں نہیں چھوڑا جائے گا۔ (واٹر + پروٹوکول کے مطابق) مشن کے تحت، صفائی کے کاموں کی میکانائزیشن کے ذریعے گٹروں اور سیپٹک ٹینکوں میں خطرناک داخلے (ہزارڈس اِنٹری) کو ختم کرنے کے ساتھ ٹریٹ کیے ہوئے پانی کا زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال ایک اہم شعبہ ہے۔

مستقل اپ ڈیٹس کے لیے، براہ کرم سووچھ بھارت مشن کی آفیشل ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پراپرٹیز کو فالو کریں:

ویب سائٹ: https://sbmurban.org/

ٹوئیٹر: @SwachhBharatGov

انسٹاگرام: sbmurbangov

یوٹیوب: Swachh Bharat Urban

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.6898



(Release ID: 1837022) Visitor Counter : 53


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Manipuri