ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے زیر اہتمام ’’بھارت کی آب و ہوا کی مالیاتی ضرورتوں کو سمجھنا اور گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس کو متحرک کرنا‘‘ کے بارے میں حصص داروں کی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد


ورکشاپ حصص داروں کے ساتھ جاری تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے

موسمیاتی مالیات کے دائرۂ کار، پیمانہ اور رفتار کو بھارت کی خواہشات کے مطابق بڑھانا ہوگا: سکریٹری، ایم او ای ایف اینڈ سی سی

پائیداری کا راستہ مالیات اور انسانی، تکنیکی، ادارہ جاتی اور ریگولیٹری صلاحیت کی ضرورت کو بڑھاتا ہے

Posted On: 24 JUN 2022 5:33PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  24/جون 2022 ۔  24 جون 2022 کو جاری جی سی ایف ریڈی نیس پروگرام کے تحت حکومت ہند کی ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) کی وزارت کی طرف سے نئی دہلی میں ’’بھارت کی موسمیاتی، مالیاتی ضروریات کو سمجھنا اور گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس کی تحریک کاری‘‘ پر ایک حصص دار مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ورکشاپ بھارت کی موسمیاتی مالیات کی ضرورتوں کو سمجھنے اور بھارت میں موسمیاتی لچکدار ترقی میں سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے کی جارہی کوشش کا حصہ ہے۔

ورکشاپ کے افتتاحی سیشن میں ماحولیات کی سکریٹری محترمہ لینا نندن، گرین کلائمیٹ فنڈ کی ریجنل منیجر محترمہ انوپا ریمل لامیچھانے، یو این ڈی پی کی رہائشی (ریزیڈنٹ) نمائندہ محترمہ شوکو نودا نے شرکت کی۔ کلیدی خطبہ وزارت خزانہ کے اقتصادی امورکے محکمہ کے سکریٹری جناب اجے سیٹھ نے پیش کیا۔

ایم او ای ایف سی سی کی سکریٹری محترمہ لینا نندن نے اپنے خطاب میں، بھارت کے اولوالعزمانہ موسمیاتی اقدامات کی تکمیل کے لیے لاگت کی حد کو سمجھنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی، جو درکار ضروری سرمایہ کاری کے پیمانے کی نشان دہی کرے گی اور ایسی پالیسیوں کی نشان دہی کرنے میں بھی مدد کرے گی جو کم کاربن اور لچکدار ترقی کو فروغ دیں گی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنڈنگ ​​کے عوامی ذرائع کا کردار نجی سرمائے کی فراہمی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہم رہے گا۔ انھوں نے موسمیاتی مالیات کے دائرۂ کار، پیمانے اور رفتار پر زور دیا، جس میں بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کی خواہشات کے مطابق کافی حد تک اضافہ کرنا ہوگا۔ انھوں نے کمیونٹی کی سطح کے ترقیاتی منصوبوں پر زور دیا جن میں گرین کریڈٹ پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کاربن مارکیٹ کے ذریعے پیدا ہونے والے گرین کریڈٹ بھی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک مؤثر عنصر کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

سی او پی 26 میں’’بے فکری اور تباہ کن کھپت کی بجائے ذہن سازی اور غور و فکر کے بعد استعمال‘‘ کے تعلق سے عزت مآب وزیر اعظم کے بیان کو یاد کرتے ہوئے ڈی ای اے کے سکریٹری جناب اجے سیٹھ نے اپنے کلیدی خطبہ میں لو کاربن ٹرانزیشن کے تعلق سے اس شعبے کی موسمیاتی مالیاتی ضرورتوں کے لحاظ سے شعبہ در شعبہ جائزہ لئے جانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے نوٹ کیا کہ معیشت کے کلیدی شعبوں کے لیے تیار کیے جانے والے سیکٹرل روڈ میپ میں عملیت کے لئے خارجیات اور ڈیلٹا کا احاطہ کرنا چاہیے۔ کم کاربن اور کلائمیٹ ریزیلینٹ راستوں کی طرف عالمی منتقلی میں مساوات اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں (سی بی ڈی آر – آر سی) پر زور دیتے ہوئے، کمزور شعبے اور کمیونٹیز جیسے ایم ایس ایم ایز، چھوٹے اور پسماندہ کسانوں اور دیہی برادریوں کو کم کاربن کی جانب منتقلی سے وابستہ اضافی پریمیم کو اس میں عنصر ہونا چاہیے۔

ورکشاپ نے مختلف مالیاتی آلات (انسٹرومنٹس)  پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے موسمیاتی اقدامات کے لیے بھارت کی مالی ضروریات کو سمجھنے پر توجہ مرکوز کی، جس میں بھارت کی مالیاتی ضروریات کا اندازہ لگانے اور موسمیاتی مالیات کا فائدہ اٹھانے کے لیے، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے مقصد سے دو تکنیکی سیشن کا اہتمام کیا، جس میں حکومت ہند، نجی شعبوں اور مالیاتی اداروں کے معززین نے شرکت کی۔  اس طرح ورکشاپ نے اس پیمانے پر مطلوبہ مالیات کا بندوبست کرنے کے طریقوں پر توجہ دی، جس سے پائیدار ترقی کے راستے کی طرف منتقلی عمل میں لائی جاسکے۔ ورکشاپ میں مالیاتی انسٹرومنٹس کی عملیت پر زور دیا گیا۔ ورکشاپ نے نوٹ کیا کہ پائیداری کا راستہ مالیات اور انسانی، تکنیکی، ادارہ جاتی اور ریگولیٹری صلاحیت کی ضرورت کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔ جب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو مالی وسائل اور مذکورہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ورکشاپ نے ریوا سولر پاور پروجیکٹ کے تجربات اور کامیابی کی کہانیوں اور قابل توسیع نجی مالیات کو راغب کرنے اور بینک ایبل پروجیکٹس کی سورسنگ کو ڈیزائن کرنے کی ضرورت پر بھی توجہ دی۔ حکومت ہند کی لائن منسٹریز/محکموں، پرائیویٹ سیکٹر کے حصص داروں، مالیاتی اداروں، جی سی ایف سے منظور شدہ اداروں، عمل آوری کرنے والے اداروں، نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ حصص داروں نے ورکشاپ میں حصہ لیا اور اپنے تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔

ورکشاپ میں قلیل مدتی بازیابی اور طویل مدتی لچک پیدا کرنے کے طریقوں کی نشان دہی، پائیدار مستقبل کے لیے کم سے کم لاگت والے توانائی کے حل (انرجی سالیوشنز)، لچکدار اور محفوظ توانائی کے نظام، کارکردگی اور مسابقت، اور سماجی و ماحولیاتی مساوات میں سرمایہ کاری کا فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔ جی سی ایف سیکریٹریٹ نے جی سی ایف کے تحت دستیاب سہولیات کے بارے میں اپنے ماہرانہ خیالات بھی پیش کیے۔ اس مشاورتی ورکشاپ نے پرائیویٹ سیکٹر اور مالیاتی اداروں سمیت مختلف حصص داروں کے ساتھ جاری تعلق کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے، تاکہ مؤثر اور مربوط تعلق کو یقینی بنایا جا سکے۔

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.6875



(Release ID: 1836831) Visitor Counter : 58


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Manipuri