سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھدروا میں بھارت کے پہلے لوینڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

انہوں نے کہا کہ بھدروا زرعی ٹکنالوجی اسٹارٹ اپس کا امکانی مرکز ہے

آج کا بھدروا بھارت کے ارغوانی انقلاب کے آغاز کی جگہ بن گئی ہے  - ڈاکٹر سنگھ

Posted On: 26 MAY 2022 6:29PM by PIB Delhi

نئی دہلی،26 مئی ، 2022/ سائنس و ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت  (آزادانہ چارج) ، زمینی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت، عملے، عوامی شکایات ، پنشن ، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا ہے کہ بھدروا ملک کے زرعی ٹکنالوجی اسٹارٹ اپس کا امکانی مرکز ہے ۔

ملک کے پہلے لیوینڈر فیسٹیول کا افتتاح کرنے کے بعد مرکزی وزیر نے بھدروا کو بھارت کے ارغوانی انقلاب کے آغاز کا مرکز قرار دیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھدروا میں ملک کا پہلا لیوینڈر فیسٹیول آج وزیراعظم نریندر مودی کی ترقی پسند سوچ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جنہوں نے  2014 میں حلف لینے کے بعد اس بات کو اجاگر کیا تھا کہ جو خطے بھارت کے اصل دھارے سے الگ ہو گئے ہیں انہیں ترقی کے ذریعے اصل دھارے سے جوڑا جائے۔

بھدروا وادی میں آج کا لیوینڈر فیسٹیول مرکز میں موجودہ ترقی پسند حکومت کی ترقی کی بہترین مثال ہے جسے بہت پہلے منایا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ بھدروا زمین اور آب و ہوا کے ضمن میں لیوینڈر کی زراعت کےلیے بہترین مقام ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ  بھدورا جیسے دور دراز کے علاقوں کے لیے وزیراعظم مودی کی قیادت والی حکومت کے ترقیاتی امکانات کو اس حقیقت سے بھی جانا جا سکتا ہے کہ بھدروا میں ملک کا پہلا اونچے علاقے کا دواؤں کا قومی ادارہ تعمیر کیا جا رہا ہے  جس کی طرف نہ صرف بھارت کے بلکہ پوری دنیا کے  دانشور اور محققین راغب ہوں گے جس سے خطے کے لیے روزگار کے لیے موقعے بھی پیدا ہوں گے۔ اس ادارے کا قیام ترقیاتی اقدامات کا ایک ثبوت ہے جو پچھلے 70 سال کے مقابلے بے نظیر رفتار سے دور دراز علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ جموں کشمیر ، ڈوڈہ اور دیگر دور دراز کے علاقوں میں میٖڈیکل کالج پچھلی حکومتوں کی کوئی ترجیح نہیں تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت ملک کے دور دراز کے علاقوں تک ترقی کے اقدامات پہنچانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہی ہے۔  ڈوڈاہ اور بھدرو میں  سڑکوں کے فروغ کے بارے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ڈوڈہ اور بھدروا سے رابطہ پہلے سڑکوں کے ذریعے خاص طور پر بارشوں کے دوران زمینی تودے گرنے کے خطرے کی وجہ سے نامناسب تھے۔ لیکن سڑکوں اور سرنگوں کی تعمیر کی وجہ سے اب ان جگہوں پر پہنچنا آسان ہو گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھدروا – طبانی – بسولی شاہراہ،  بھارت مالا کے نیچے چھترگالا سرنگ، ہمبل اور کلوٹا کو ملانے والی کھیلانی – مرمت – سدھ مہادیو ، بھدورا – چمبا شاہراہ و سرنگ سبھی موسموں میں جاری رہنے والی سڑکیں جوزیر تعمیر ہیں جن سے اس خطے کے لیے ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس حکومت کا یقین کسی  کے تئیں خوشامدی رویہ نہ اپنانے اور سب کے لیے انصاف کے اصول میں یقین رکھتی ہے اور وہ خطے ، مذہب یا ذات کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ سبھی سرکاری اسکیموں کے فائدے قطار میں کھڑے ہوئے آخری شخص تک پہنچے۔

ڈاکٹر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ یہ حکومت ان دیگر چیزوں پر مبنی پہلے کے سیاسی کلچر میں تبدیلی لانے کی بہترین کوششیں کر رہی ہے جس میں کچھ وقت تو لگ سکتا ہے لیکن اسے بھارت میں آئندہ نسلیں ضرور دیکھیں گی۔

خطے میں لیوینڈر زراعت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ لیوینڈر روز گار پیدا کرنے والا ایک موقع ہے اور اس میدان میں تحقیق سے خطے کی فروغ کی بہت سی راہیں کھلیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے ماہر جناب بھارت بھوشن کو بھارت میں ارغوانی انقلاب کا برانڈ ایمبیسڈر کہا جاتا ہے۔ وہ اسٹارٹ اپ کلچر کے تئیں جموں و کشمیر میں نوجوانوں کے لیے جذبے کا ایک وسیلہ ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی حکومت نے یہاں تک کہ ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں بھی ہر ایک شہری کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی۔ لیکن موجودہ حکومت اسٹارٹ اپ انڈیا ، اسٹینڈ اپ انڈیا کے تحت روزگار کے موقعے پیدا کرنے کے لیے امکانات تشکیل دے رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ جموں و کشمیر میں ارغوانی انقلاب کے تحت اسٹارٹ اپ ، اسٹارٹ اپ انڈیا ، اسٹینڈ اپ انڈیا کے تحت موقعوں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ لیوینڈر کی کھیتی کے تحت کسانوں کی امکانی آمدنی نہ صرف دوگنی ہو گئی ہے بلکہ چار گنی ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے چھ مختلف مقامات پر لیوینڈر کے لیے سی ایس آئی آر  - آئی آئی آئی ایم کے تحت چھ آبکاری یونٹوں کا افتتاح بھی کیا۔

بھدروا میں لیوینڈر فیسٹیول میں جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف علاقوں کے بڑی تعداد میں سائنسداں ، ٹکنالوجی کے ماہرین ، ترقی پسند کسان اور زراعت کے متعلق چھوٹے کاروباری حصہ لے رہے ہیں۔

سائنس و ٹکنالوجی کی وزارت کے تحت سی ایس آئی آر – ایروما مشن کا مقصد خوشبو سے متعلق سائنس و ٹکنالوجی تیار کرنا اور اسے پھیلانا ہے۔

لیوینڈر زراعت کی وجہ سے جموں و کشمیر کے دور دراز کے علاقوں میں تقریباً 5000 کسانوں اور نوجوان چھوٹے کاروباریوں کو روزگار ملا ہے۔ کسانوں کے ایک ہزار سے زیادہ کنبے 200 ایکڑ سے زیادہ زمین پر اس کی کھیتی کر رہے ہیں۔

۔۔۔

                  

 

 

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                              

U –5781​​​​​​​



(Release ID: 1828614) Visitor Counter : 40


Read this release in: English , Marathi , Punjabi