نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر نے جنگ کے نئے اور ابھرتے شعبوں مثلا اطلاعات اور سائبر جنگ میں صلاحیتوں کو فروغ دینے پر زور دیا


لڑائیوں کی ملی جلی نوعیت اور ڈرون اور روبوٹکس کے استعمال میں اضافہ جنگ کی شکل میں تبدیلی کا اشارہ ہے:نائب صدر

ہندوستان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش سے ہماری سیکورٹی فورسز سختی سے  نمٹیں گی :نائب صدر

نائب صدر نے دفاع اور ایرواسپیس ٹیکنالوجی خود کفالت حاصل کرنے پر زور دیا

عوام کو ہمارے بہادر فوجیوں کی قربانیوں کے بارے میں ا ور زیادہ بتایا جائے:جناب نائیڈو

خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں بشمول فورسز یکساں مواقع حاصل ہونے چاہئیں:نائب صدر

نائب صدر نے ویلنگٹن میں ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج کا دورہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAY 2022 2:18PM by PIB Delhi

 

 

نائب صدر جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا ہےکہ جنگوں کی ڈرون اور سائبرجنگ کے ساتھ ملی جلی نوعیت نے میدان جنگ کی شکل بدل دی ہے اور انھوں نے ہماری مسلح افواج سے کہا کہ وہ ان نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا ویژن ہندوستانی فوج کو ایک مستقبل کی فورس بنانا ہونا چاہئے۔

ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج، ویلنگٹن میں آج افسران اور اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان کو ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر متوقع جغرافیائی وسیاسی ماحول میں کئی سیکورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اندر اور باہر سے کئی طرح کے خطروں کا سامنا ہے اور انھوں نے مسلح افواج کو کسی بھی چیلنج سے نمٹنے اور کسی بھی سیکورٹی خطرے کا سختی سے جواب دینے کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ہندوستان نے ہمیشہ پرامن بقائے باہم کے فلسفے پر یقین رکھا ہے اور کبھی بھی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رکھے۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کو چیلنج سے ہماری   فورسز سختی سے نمٹیں گی۔

جناب نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ اپنی طویل تاریخ میں ہندوستان نے کبھی بھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ دوسرے ملکوں کے ساتھ پر امن بقائے باہم پر عمل کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم واسودھیو کٹمبکم پر یقین رکھتے ہیں ۔

اس موقع پر جناب نائیڈو نے کہا کہ جغرافیائی اور جغرافیائی وسیاسی محوروں، دہشت گردی اور آب وہوا میں تبدیلی نے ہماری سیکورٹی کے سانچے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ انھوں نے اس طرح کے معاملوں کی گہرائی سے تفہیم پر زور دیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا سیکورٹی کی شکل اور نوعیت میں وقتا فوقتا تبدیلی لانا ضروری ہوتا ہے، انھوں نے ہماری تیاریوں کو لگاتار مستحکم کرنے اور سرگرم حکمت عملی وضع کرنے پر زور دیا۔

ڈیفنس اور ایرواسپیس ٹیکنالوجی میں خودکفالت حاصل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے اس کلیدی شعبے میں آتم نربھر تا حاصل کرنے کی جانب حکومت کے متعدد اقدامات کو سراہتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب جب کہ ہم مستقبل میں قدم رکھ رہے ہیں، آپ کو واحد صاحیتوں والی فورس کی جگہ کئی ڈومین کے چیلنجوں کا سامنا ہوگا جس کے لئے ہمیں مختلف شعبوں کے بارے میں گہرائی سے معلومات حاصل کرنا ہوگی۔ انھوں نے افسران سے یہ بات کہی اور ڈی ایس ایس سی کے ٹرینرز اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ نام طلبہ میں اتحاد اور ہم آہنگی پر خاص توجہ دیں۔

اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ مسلح افواج ہمارے ملک کے سب سے زیادہ قابل احترام اداروں میں سے ایک ہیں، نائب صدر نے کہا کہ ہماری فورز نے اپنی قربانیوں اور انتھک خدمات کی وجہ سے اپنے ہم وطنوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ چاہے بیرون دراندازوں سے لڑائی ہو یا شورش پسندی، یا پھر قدرتی آفات کے وقت میں سول انتظامیہ کی مدد ہو، یونیفارم میں مرد وعورت نے ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

نائب صدر نے مسلح افواج کی سرحدوں پر حالات سے نمٹنے اور حالیہ کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ جب  میں مسلح افواج کے جوانوں سے ملتاہوں تو میرا حوصلہ بلند ہوجاتا ہے اور مجھے ان کے اعلیٰ اقدار اور اپنے فرائض کے تئیں ان کی لگن ہمیشہ تحریک دیتی ہے۔

ہمارے بہادر فوجیوں کی لگن اور ان کی قربانیوں سے عوام کو اور زیادہ آگاہ کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسے سورماؤں کے لئے یادگاریں قائم ہونی چاہئیں تاکہ ہماری نوجوان نسل میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوا اور مسلح افواج کے لئے احترام پر ورش پائے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمارے ملک میں ہمیشہ خاتون سپاہیوں کی تابناک روایت رہی ہے، جناب نائیڈو نے ہماری تاریخ میں قابل ذکر خاتون فوجی جرنلوں کو یاد کیا۔ مثلا گونڈوانہ کی رانی درگاوتی ، رانی ابکا، تلوا کوئن، رودرامادیوی، کتور چنما، رانی لکشمی اور بیگم حضرت محل۔ انھوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ حکومت مسلح افواج میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے خواتین افسران کے لئے پرماننٹ کمیشن اور نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور تمام سینک اسکولوں کو لڑکیوں کے لئے کھولے جانے کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ خاتون افسروں کو ائر فورس کی فائٹر اسٹریم میں تعینات دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ اور خواتین بحری جہازوں پر اور ملٹری پولیس میں اپنے جوہر دکھارہی ہیں حتی کہ غیر ملکی مشنوں میں بھی شامل ہیں۔ انھوں نے اسے یک امید افراد رجحان قرار دیا۔ جناب نائیڈو نے کہا کہ میں اس بات پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔

ہندوستانی مسلح افواج کے مستقبل کے لیڈروں کو تربیت اور تعلیم دینے کے لئے ڈی ایس ایس سی کو کوششوں کو سراہتے ہوئے نائب صدر نے ڈی ایس ایس سی کے ٹرینروں اور اساتذہ کے بارے میں کہا کہ یہ تجربہ کار گروہیں جو 21 ویں صدی کے قومی پروفیشنل اور لیڈروں کو تربیت دے رہے ہیں۔

انھوں نے مدراس رجمنٹ کے افسران اور سپاہیوں کی نمایاں خدمات کے لئے ان کی تعریف کی۔

تملناڈو حکومت میں جنگلات کے وزیر تیرو کے اچندرن، لفٹیننٹ جنرل ایس موہن، اے وی ایس ایم، ایس ایم، وی ایس ایم، ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج کے کمانڈنٹ، ڈیفنس سروسز کے ممتاز ارکان، سابق فوجی اور دیگر اکابرین اس موقع پر موجود تھے۔

****

U.No:5455

ش ح۔رف۔س ا


(ریلیز آئی ڈی: 1826085) وزیٹر کاؤنٹر : 192