سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دیسی اختراع کے ساتھ پائیدار اسٹارٹ اپس  کے لئے زور دیا

وزیر  موصوف نے عالمی سطح کی ٹیکنالوجیز اور خود اعتماد ہندوستان کے لئے مصنوعات کی کھوج کرنے کی غرض سے جورہاٹ، آسام میں ‘‘ آئی کونک 75 انڈسٹریز کنیکٹ (آئی کنیکٹ )’’ کا افتتاح کیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے عام آدمی کے فائدے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعات تیار کرنے کے لیے تعلیمی برادری اور صنعتی دنیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اپیل کی

Posted On: 12 MAY 2022 3:54PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارتھ سائنسز کی وزارت، وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت، پی ایم او کے وزیر مملکت اور عملہ اور عوامی شکایات کی وزارت کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج دیسی اختراع کے ساتھ پائیدار اسٹارٹ اپس کی تعمیر پر زور دیا۔  انہوں نے کہا، اسٹارٹ اپس کو پائیدار رکھنے کے لیے اخترا کاری کو ایک تحریک دینے والے عمل کی حیثیت اختیار کرنی ہوگی۔

جورہاٹ، آسام میں ‘‘ آئی کونک 75 انڈسٹریز کنیکٹ (آئی کنیکٹ )’’ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، نوجوان کاروباریوں کے اختراعی سٹارٹ اپس کو اگلے 25 سالوں کے شاندار سفر کی ذمہ داری نبھانی ہوگی، یعنی اس وقت جبکہ ہم دنیا میں ایک فرنٹ لائن قوم کے طور پر ہندوستان کی آزادی کے 100 سال کا جشن منا رہے ہوں گے۔ انہوں نے کہا، انڈسٹری کنیکٹ کا مقصد ملک کو خود نگراں اور خود تخلیق بنانے کے لئے عالمی سطح پر معیاری ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی دریافت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ ہمارے تحقیقی ادارے لیبارٹریوں میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات تیار کرنے کے لیے اچھی طرح سے وسائل سے آراستہ اور با صلاحیت ہیں، لیکن اس کے باوجود ملک کی عام خواتین اور مردوں کے فائدے کے لیے انہیں مارکیٹ اور بالآخر معاشرے تک پہنچانے کے معاملے میں ایک ر خنہ موجود ہے۔

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، تحقیق اور صنعت پھلنے پھولنے اور بڑھنے کے لیے باہمی رشتوں کا اشتراک کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے صنعت پر زور دیا کہ وہ عالمی معیار کی مصنوعات کو  تیار کرنے اورلیبارٹریوں سے مارکیٹ تک لے جانے کے لیے بامعنی سرمایہ کاری کے ذریعے  تحقیق اور ترقی کے میدان میں مساوی  کردار ادا کرے ۔ انہوں نے ہندوستانی اور عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مصنوعات کی برانڈ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے گورنمنٹ-انڈسٹری رابطے کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، عظیم 75 انڈسٹری کنیکٹ(آئی۔ کنیکٹ) تقریبات کا مقصد 10 موضوعاتی/فوکس والے شعبوں میں صنعت کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ ڈی ایس آئی آر/ سی ایس آئی آر،   ارضیاتی  علوم کی وزارت ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے ،حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے  اور حکومت ہند کے دیگر سائنسی محکموں کی صنعت تک رسائی کے لیے مربوط کوششیں ہیں۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ سائنس کے مقصد کے لیے کئی سائنسی محکموں کا اکٹھا ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جو اس سے پہلے شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے اور ‘‘ اجتماعی جذبہ’’ حکومت کا کلیدی نسخہ ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آسام کے جورہاٹ سے انڈسٹری آئی۔ کنیکٹ کا سلسلہ شروع کرنے کی وجہ شمال مشرقی خطے کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کی اعلیٰ ترجیح ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں ہی مودی نے واضح کیا تھا کہ حکومت کی ترجیح شمال مشرق کے پسماندہ علاقوں، جموں و کشمیر اور دیگر پہاڑی ریاستوں اور جزائری کے علاقوں کو ملک کے ترقی یافتہ خطوں کے برابر لانا ہے۔ وزیر موصوف نے امید ظاہر کی کہ این۔ ای خطہ غیر دریافت شدہ صلاحیتوں کی سرزمین کے طور پر اپنے بھرپور حیاتیاتی تنوع اور بانس کے وسیع وسائل کی وجہ سے مستقبل کے اسٹارٹ اپس،  صنعت کاری اور نئی سرمایہ کاری کی منزل بنے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کے ترقی پسند سفر میں کچھ ناموں کا ذکر کرتے ہوئے، ایک طرف  سی ایس آئی آر، آئی ایس آر او، ڈی اے ای، ڈی آر ڈی او، آئی سی اے آر اور دوسری طرف  حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا محکمہ، محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کی وزارت جیسی سائنسی تنظیموں کے کردار کی ستائش کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ صنعتی برادری یہ بھی جانتی ہے کہ ٹیکنالوجیز کو لیبارٹریز سے  عام علاقوں تک لے جانے کے عمل  میں کیا پیچیدگیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر صنعت کے ساتھ شراکت داری کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور انہوں نے اکادمی اور صنعت کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعات تیار کی جا سکیں اور وزیراعظم کے ‘‘سمرتھ’’ اور ‘‘آتم نر بھر بھارت’’ وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہیں کم سے کم وقت میں عوام کے لئے فراہم کیا جا سکے۔ 

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ملک کی سب سے بڑی صنعتی تحقیقی تنظیم سی ایس آئی آر کو صنعتی برادری  کے ساتھ قریبی تعلق کے لیے جانا جاتا ہے اور کہا کہ ماضی میں کیٹالسٹ انڈسٹری،  زرعی  کیمیاوی مادے ،  ادویہ سازی اور چمڑے جیسے  چند شعبوں کے نام پیش کئے جاسکتے ہیں ، جس میں اس نے صنعتوں کی ترقی اور مدد میں اپنا  تعاون پیش کیا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ ہر‘آئی۔ کنیکٹ’ایونٹ میں مختلف قسم کے پروگرام شامل ہوں گے جیسے کہ صنتوں کی بڑی کانفرنسیں میگا انڈسٹری کانفرنسز،  جامعہ بات چیت، تکنیکی نمائشیں، بی ٹو بی ملاقاتیں، گول میز مباحثوں کے ساتھ ساتھ  بڑے پروگراموں کے  حاشیہ پر  ہونے والے اجلاس ۔  ان سب سے  کاروبار کو فروغ دینے اور آگے بڑھانے میں  کافی مدد ملے گی ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج کی تقریب ٹیکنالوجی کے ماہرین، حکومتی رہنماؤں، تعلیمی ماہرین، صنعتیں چلانے والوں کے کپتانوں اور اسٹارٹ اپس کے اہم گروپ کے درمیان بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اس کے لئے  خاص توجہ والوں شعبوں میں فنڈنگ، ٹیکنالوجی کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی نیٹ ورک کی شناخت اور قیام (سرکاری اسکیم، آر اینڈ ڈی سیٹ اپ، صنعت، ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپ،  تعلیمی برادری) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس تک مستحکم انداز میں پہنچنا ہوگا؛  اور آخر کار صنعت کی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے صنعت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مزید ہم آہنگی کے ساتھ تعاون کی راہ ہموار ہوگی۔

اپنے اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، 75 انڈسٹری کنیکٹ (‘آئی۔ کنیکٹ’) ایونٹس کی یہ منفرد سیریز سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارتھ سائنسز کی وزارتوں کی جانب سے مختلف  سائنس اورٹیکنالوجی ​​شعبوں میں کامیابیوں کو ظاہر کرنے کے لیے رکھی گئی ہے۔حکومت کی آزادی کا امرت مہوتسو کی تقریبات  کا ایک حصہ ہے۔ جو ترقی پسند ہندوستان کے 75 سال اور اس کے لوگوں، ثقافت اور کامیابیوں کی شاندار تاریخ کو  ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کا امرت مہوتسو ہر اس ملک کے باشندے کے لیے وقف ہے جس نے ملک کے ارتقائی سفر میں فعال کردار ادا کیا ہے اور اس سے خود انحصار ہندوستان اور عالمی معیشت کے لیے وزیر اعظم جناب نریندرمودی جی کے اقدامات کی حمایت کرنے کی صلاحیت اور عزم  کا اظہار بھی ہوتاہے۔

وزیر موصوف نے کہا، ان تقریبات کے نتیجے میں، وہ باہمی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے موضوعاتی شعبوں کے لیے وائٹ پیپرز حاصل کرنے کے منتظر رہیں گے۔ اس میں معینہ وقت کے اندر اندر حاصل کرنے کے لیے قطعی اہداف اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی/روڈ میپ ہونا چاہیے۔

آسام حکومت کے صحت اور خاندانی بہبود، سائنس اور ٹکنالوجی اور آئی ٹی کے وزیر جناب کیشب مہانتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ شمال مشرقی ہندوستان میں متعلقہ انٹرپرینیورشپ کے لیے ٹیکنالوجیز کا  سی ایس آئی آر   معلوماتی کتابچہ پورے خطے میں ٹیکنالوجی پر مبنی انٹرپرینیورشپ کی تعمیر میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آسام حکومت مقامی اختراعات اور اسٹارٹ اپس کی مالی مدد کر رہی ہے تاکہ قومی اور عالمی سطح پر آگے بڑھنے میں ان  کو سہارا دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا، موسمیاتی تبدیلی تشویش اور تحقیق کے ایک اہم شعبہ کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آیا ہے اور حکومت اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے  ماحول دوست  حل تلاش کرنے کے لیے صنعتی دنیا اور  تعلیمی براداری کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ڈاکٹر وی کے سرسوت، ممبر نیتی آیوگ نے ​​اپنے خطاب میں کہا کہ پچھلے 7-8 سالوں میں، ہندوستان عالمی اختراعاتی اشاریے میں 85 سے 47 ویں نمبر پر آگیا ہے اور اس کامیابی سے ملک میں اسٹارٹ اپس کلچر میں ایک بڑی ثقافتی تبدیلی ظہور میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اختراعی  ماحولیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ صنعتوں کو شامل کرکے اختراعاتی اشاریے میں مزید سیڑھیاں طے کرسکتے ہیں۔

اس پروقار اجتماع سے پہلے دواؤں، خوشبودار اور  پھولوں کی کاشت والے پودوں اور ان کی قدر میں اضافے، فوڈ ٹیکنالوجیز اور چمڑے اور چمڑے کی مصنوعات جیسے شعبوں میں سی ایس آئی آر ٹیکنالوجیز پر ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس موقع پر شمال مشرقی ہندوستان میں اہمیت کی انٹرپرینیورشپ کے لیے ٹیکنالوجیز کا سی ایس آئی آر کا کتابچہ بھی جاری کیا۔

 

**********

 

 

ش ح ۔س ب۔رض

U.No:5327



(Release ID: 1825039) Visitor Counter : 37


Read this release in: English , Hindi , Manipuri