کوئلے کی وزارت

وزارت کوئلہ ممبئی میں ’’بند/منقطع کانوں کے آغاز‘‘ اور ’’کول گیسیفی کیشن پروجیکٹس‘‘ پر اعلیٰ سطحی سرمایہ کاروں کا اجلاس منعقد کرے گی: آگے کا راستہ‘‘


پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر توجہ مرکوز

Posted On: 04 MAY 2022 4:57PM by PIB Delhi

کوئلہ، کانوں اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی 6 مئی 2022 کو ممبئی میں ایک اعلیٰ سطحی سرمایہ کاروں کی میٹنگ کا آغاز کریں گے جس میں "کول انڈیا لمیٹڈ(سی آئی ایل) کی بند/منقطع کوئلہ کانوں کے آغاز کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ریونیو شیئرنگ موڈ" اور "کول گیسیفی کیشن؛ آگے بڑھنے کا راستہ".

کوئلہ کی وزارت کے ذریعہ سی آئی ایل  اور ایف آئی سی سی آئی کے اشتراک سے منعقد ہونے والے، سرمایہ کاروں کے اجلاس سے کوئلہ، کانوں اور ریلویز کے وزیر مملکت جناب راؤ صاحب پاٹل دانوے بھی خطاب کریں گے۔ کوئلہ سکریٹری، ڈاکٹر انیل کمار جین اور وزارت، کول انڈیا لمیٹڈ کے دیگر سینئر عہدیدار اور صنعت کے شعبے کے ماہرین بھی ایک روزہ اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔

سرمایہ کاروں کی میٹنگ کے دوپہر کے سیشن کے دوران، بند/منقطع کوئلے کی کانوں کے آغاز کے مواقع اور اس کے ریونیو شیئرنگ ماڈل سے متعلق پہلوؤں کے مظاہرہ پر پریزنٹیشنز اور بات چیت کی جائے گی۔ سی آئی ایل کی بند/منقطع کانوں پر مختصر فلم کی اسکریننگ ایک اور خاص بات ہوگی۔

ہندوستان میں کول گیسیفی کیشن پروجیکٹوں کے موثر نفاذ اور کول گیسیفی کیشن میں کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے، دوپہر کے اجلاس میں  دونوں وزراء خطاب  کریں گے۔ وزیر جناب پرہلاد جوشی 2030 تک 100 ملین ٹن کوئلہ گیسیفی کیشن حاصل کرنے میں حکومت کی کوششوں میں شامل ہونے کی نجی شعبے کی توقعات کو سمجھنے کے مقصد کے ساتھ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جناب پرہلاد جوشی وزارت کوئلہ کی دو رپورٹوں یعنی "کول سیکٹر کے لیے ٹیکنالوجی روڈ میپ" اور "کوئلے سے ہائیڈروجن کے لیے روڈ میپ" کا آغاز کریں گے۔

ہندوستان کے پاس تھرمل کوئلے کا 307 بلین ٹن ذخیرہ ہے اور تقریباً 80 فیصد کوئلہ پیدا ہوتا ہے جو تھرمل پاور پلانٹس میں استعمال ہوتا ہے۔ ماحولیاتی خدشات کے ساتھ حکومت نے 2030 تک 100 ایم ٹی کے کول گیسیفی کیشن کے لیے ایک مشن دستاویز تیار کی ہے کیونکہ کوئلے کو جلانے کے مقابلے میں کول گیسیفی کیشن کو صاف ستھرا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ گیسیفی کیشن کوئلے کی کیمیائی خصوصیات کے استعمال میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ کوئلے سے پیدا ہونے والی سیس (ایس وائی ایس) گیس کو گیسی ایندھن جیسے ہائیڈروجن (سی سی یو ایس کے ساتھ بلیو جوڑ کر)، متبادل قدرتی گیس (ایس این جی یا میتھین)، ڈی میتھائل ایتھر (ڈی ایم ای)، مائع ایندھن جیسے میتھانول، ایتھنول، مصنوعی ڈیزل اور بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کے پاس تھرمل کوئلے کا 307 بلین ٹن ذخیرہ ہے اور تقریباً 80 فیصد کوئلہ پیدا ہوتا ہے جو تھرمل پاور پلانٹس میں استعمال ہوتا ہے۔ ماحولیاتی خدشات کے ساتھ حکومت نے 2030 تک 100 ایم ٹی کے کول گیسیفی کیشن کے لیے ایک مشن دستاویز تیار کی ہے کیونکہ کوئلے کو جلانے کے مقابلے میں کول گیسیفی کیشن کو صاف ستھرا آپشن سمجھا جاتا ہے۔ گیسیفی کیشن کوئلے کی کیمیائی خصوصیات کے استعمال میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ کوئلے سے پیدا ہونے والی سیس گیس کو گیسی ایندھن جیسے ہائیڈروجن (سی سی یو ایس کے ساتھ بلیو جوڑ کر)، متبادل قدرتی گیس (ایس این جی یا میتھین)، ڈی میتھائل ایتھر (ڈی ایم ای)، مائع ایندھن جیسے میتھانول، ایتھنول، مصنوعی ڈیزل اور کیمیکل جیسے میتھانول مشتقات، اولیفنز، پروپیلین، مونو-ایتھیلین گلائکول (ایم ای جی) ، نائٹروجن کھاد بشمول امونیا، ڈی آر آئی ، صنعتی کیمیکلز اور پاور جنریشن بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ پراڈکٹس آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت خود کفالت کی طرف بڑھنے میں مدد کریں گے۔ مندرجہ بالا مقصد کے مطابق، کوئلہ کی وزارت نے کول گیسیفی کیشن کے ذریعے کوئلے کے استعمال کے لیے پہل کی ہے اور سال 2030 تک 100 ایم ٹی کول گیسیفی کیشن حاصل کرنے کے لیے قومی مشن دستاویز تیار کی ہے۔

*******

ش ح۔   ش ت  ۔ج

Uno- 5014



(Release ID: 1822733) Visitor Counter : 101


Read this release in: Hindi , English , Marathi , Bengali