سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق ضابطوں کے بل کے مسودے پر غور وخوض جاری ہے


اس بل کا مقصد متاثرین، مجرمین ، مشکوک افراد ، جن افراد پر مقدمہ چل رہا ہے، لاپتہ افراد اور نامعلوم فوت افراد سمیت سبھی زمروں کے افراد کی شناخت کرنا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 APR 2022 1:06PM by PIB Delhi

 

سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) زمینی  علوم  کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت  ، عملے ، عوامی شکایات، پنسن، ایٹمی توانائی اور خلاء  کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا  ہے کہ داخلی  امور  کی وزار ت ایم ایچ اے نے  نربھئے  فنڈ  اسکیم  کے تحت  23  ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں  نے  ڈی این اے تجزیئے، سائبر فورنسک اور متعلقہ سہولیات  کو مستحکم کرنے  کے پروجیکٹوں کو  منظوری دی ہے۔

راجیہ سبھا میں آج  ایک سوال کے تحریری جواب میں ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ سائنس  ٹیکنالوجی  کی  وزارت کے ماتحت  بائیو ٹیکنالوجی  کے محکمے  نے   ڈی این اے ٹیکنالوجی کے استعمال  سے متعلق  ضابطوں کا بل تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد  ڈی این اے ٹیکنالوجی  کے استعمال سے متعلق  ضابطے فراہم کرنا ہے تاکہ  جرائم کا شکار ، مجرمین، مشکوک افراد ، جن افراد پر مقدمہ چل  رہا ہے، لاپتہ افراد اور نامعلوم  فوت  افراد  کی  شناخت سمیت  سبھی  زمروں  کے لوگوں کی  شناخت کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  بل کے مسودہ پر غور وخوض کیا جا رہا ہے۔ اس بل میں  پورے ملک  میں ڈی این اے  سے متعلق اعداد وشمار  اور معلومات   ذخیرہ کرنے کے لئے ڈی این اے  ڈیٹا بینک قائم کرنے کی سہولت  فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

صلاحیت سازی کے لئے 23  ہزار  233 تفتیشی افسران ،قانونی کارروائی سے متعلق  افسران اور میڈیکل افسران کو تربیت دی گئی ہے۔ ایک جدید ترین انداز  کی ڈی این اے تجزیاتی لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے۔ امور داخلہ  وزارت  نے  یہ لیبارٹری  چندی گڑھ  کی فارنسک  علوم  کی  مرکزی  لیبارٹری  میں قائم  کی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ اس۔ ق ر۔

U- 3976


(ریلیز آئی ڈی: 1814404) وزیٹر کاؤنٹر : 171
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali , Tamil