ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

ریگزاروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے اقدامات

Posted On: 04 APR 2022 3:36PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی ہے کہ ریگ زاروں کے پھیلاؤ  سے نمٹنے کے لیے حکومت کئی اسکیموں/پروگراموں کو نافذ کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں:

  1. قومی جنگل بانی  اور ماحولیاتی ترقیاتی بورڈ (این اے ای بی) لوگوں کو اپنی مہم میں  شریک کر کے تباہ شدہ جنگلات اور ملحقہ علاقوں کی ماحولیاتی بحالی کے لیے قومی شجرکاری پروگرام (این اے پی) کو نافذ کر رہا ہے۔ اس اسکیم کو3 درجے کے ادارہ جاتی سیٹ اپ کے ذریعے  نافذ کیا جاتا ہے۔ ریاستی سطح پر ریاستی جنگلاتی ترقیاتی ایجنسی (ایس ایف ڈی اے) کے ذریعے ، فارسٹ ڈویژن کی سطح پر فارسٹ ڈیولپمنٹ ایجنسی (ایف ڈی اے) کے ذریعے اور گاؤں کی سطح پر جوائنٹ فارسٹ مینجمنٹ کمیٹیوں(جے ایف ایم سیز) کے ذریعے لاگو کیا جاتا ہے۔ این اے پی کے تحت 2020-2018 کے دوران 37110 ہیکٹر کے رقبے کے سدھار کے لیے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 157.78 کروڑ کی رقم جاری کی گئی ہے۔ احاطہ کیے گئے رقبے اور جاری کیے گئے فنڈ کے حوالے سے ریاست وار تفصیلات بالترتیب ضمیمہ I اور II میں ہیں۔

 

  1. نیشنل مشن فار گرین انڈیا (جی آئی ایم) کا مقصد جنگلات اور غیر جنگلاتی علاقوں میں شجرکاری کی سرگرمیوں کے ذریعہ ہندوستان کے جنگلات کے رقبے کی حفاظت، بحالی اور توسیع کرنا ہے۔ جی آئی ایم کی سرگرمیاں مالی سال 2016-2015 میں شروع کی گئیں۔ 117503 ہیکٹر رقبے پر شجرکاری کے لیے ، 594.28 کروڑ روپے کی رقم پندرہ ریاستوں یعنی آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، ہماچل پردیش، کرناٹک، کیرالہ، منی پور، میزورم، اڈیشہ، پنجاب، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، سکم، مغربی بنگال اور ایک مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لئے جاری کی گئ ہے۔ ۔ پچھلے تین سالوں (2019-2018 سے 2021-2020) میں 298.10 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے، جس میں سے 233.44 کروڑ کا استعمال کیا گیا ہے۔

 

  1. ڈیمانڈ پر منحصر کارروائی پر مبنی تحقیقی کام نیشنل مشن آن ہمالین اسٹڈیز (این ایم ایچ ایس) کے تحت چلنے والے پروجیکٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کچھ منصوبوں میں زمین کی بحالی، مٹی کے تحفظ اور واٹرشیڈ مینجمنٹ وغیرہ کے لیے ماڈلز کی ترقی شامل ہے۔ این ایم ایچ ایس کے تحت 10.84 کروڑ روپے منظور کیے گئے تھے اور پوری رقم گزشتہ تین سالوں (2019-2018 سے 2021-2020) میں استعمال کی گئی تھی۔ تفصیل ضمیمہ III میں ہے۔

 

  1. انٹیگریٹڈ واٹرشیڈ مینجمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ایم پی) کو پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کے حصے کے تحت لاگو کیا گیا ہے، جس کا مقصد بارانی اور بنجر ہوئی زمینوں کو تیار کرنا ہے۔ جو سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں ان میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے بہتر دفاع کے ساتھ پائیدار ترقی اور قدرتی وسائل کے بہتر بندوبست کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کے ذریعہ رج علاقہ کی بہتری ، نکاسی کی لائن کی درستی، مٹی اور نمی کا تحفظ، بارش کے پانی کی ذخیرہ  کاری ، نرسری میں اضافہ، چراگاہوں کی نشوونما، ذریعہ معاش وغیرہ شامل ہیں۔

ضمیمہ-I

قومی شجرکاری پروگرام کے تحت آنے والے رقبے کے حوالے سے ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات

منظور شدہ ایڈوانس ورک ایریا

سال  کے حساب سے خلاصہ

نمبرشمار

ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے

علاقہ(ہیکیٹرس میں)

 

 

2018-19

2019-20

2020-21

مجموعی

 

1

 آندھرا پردیش

1480

0

0

1480

 

2

بہار

1550

1935

0

3485

 

3

چھتیس گڑھ

2000

3500

0

5500

 

4

گوا

0

0

0

0

 

5

گجرات

0

0

0

0

 

6

ہریانہ

0

0

0

0

 

7

ہماچل پردیش

0

45

0

45

 

8

جموںو کشمیر

0

0

0

0

 

9

جھار کھنڈ

0

0

0

0

 

10

کرناٹک

6085

0

0

6085

 

11

کیرالہ

0

0

0

0

 

12

مدھیہ پردیش

0

0

0

0

 

13

مہاراشٹر

0

0

0

0

 

14

اڈیشہ

3188

6335

0

9523

 

15

پنجاب

0

0

0

0

 

16

راجستھان

0

0

750

750

 

17

تملناڈو

0

0

0

0

 

18

تلنگانہ

0

0

0

0

 

19

اترپردیش

0

0

0

0

 

20

اترا کھنڈ

0

0

0

0

 

21

مغربی بنگال

0

0

0

0

 

22

ارونا چل پردیش

0

0

0

0

 

23

آسام

373

0

0

373

 

24

منی پور

0

0

0

0

 

25

میگھالیہ

0

0

0

0

 

26

میزورم

1960

0

0

1960

 

27

ناگا لینڈ

0

6100

0

6100

 

28

سکم

0

0

0

0

 

29

تریپورہ

0

1809

0

1809

 

 

مجموعی

16636

19724

750

37110

 

 

ضمیمہ II

قومی شجرکاری پروگرام کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گزشتہ تین سالوں میں جاری/استعمال شدہ رقم (2019-2018 سے 2021-2020)

نمبرشمار

ریاست/ مرکز کے زیرانتظام علاقے

 سال بہ سال اجراء (روپے کروڑ میں)

گزشتہ تین برسوں کے دوران جاری شدہ مجموعی رقم

(روپے کروڑ میں)

گزشتہ تین برسوں کے دوران استعمال  شدہ مجموعی رقم(روپے کروڑ میں)

2018-19

2019-20

2020-21

1

آندھرا پردیش

6.38

 

 

6.38

6.38

2

بہار

 

1.18

0.8

1.98

1.98

3

چھتیس گڑھ

7.82

5.71

9.88

23.41

23.41

4

گوا

 

 

 

 

 

5

گجرات

 

 

 

 

 

6

ہریانہ

 

 

 

 

 

7

ہماچل پردیش

2.92

0.52

0.57

4.01

3.50

8

جموںوکشمیر

 

 

 

 

 

9

جھار کھنڈ

 

 

 

 

 

10

کرناٹک

10.99

 

 

10.99

10.99

11

کیرالہ

 

 

 

 

 

12

مدھیہ پردیش

7.78

 

0.57

8.35

5.27

13

مہاراشٹر

15.33

 

 

15.33

9.97

14

اڈیشہ

11.36

8.45

13.67

33.48

33.48

15

پنجاب

 

 

 

 

 

16

راجستھان

1.95

 

 

1.95

1.95

17

تملناڈو

2.07

 

 

2.07

0

18

تلنگانہ

 

 

 

 

 

19

اترپردیش

0.32

 

 

0.32

0

20

اترا کھنڈ

2.58

 

1.06

3.64

3.07

21

مغربی بنگال

 

 

 

 

 

22

اروناچل پردیش

 

 

 

 

 

23

آسام

0.58

 

 

0.58

0

24

منی پور

4.38

 

 

4.38

4.38

25

میگھالیہ

0.74

 

 

0.74

0.74

26

میزورم

7.79

 

7.4

15.19

15.19

27

ناگا لینڈ

6.41

2.35

4.27

13.03

13.03

28

سکم

5.98

 

0.88

6.86

6.86

29

تریپورہ

 

3.76

1.33

5.09

5.09

 

مجموعی

95.38

21.97

40.43

157.78

145.29

 

ضمیمہ III

ہمالیائی مطالعات کے قومی مشن کے تحت گزشتہ تین سالوں میں 2019-2018 سے 2021-2020) میں منظور شدہ اور استعمال شدہ رقم

سال

ریاست

منظور شدہ رقم

(روپے کروڑ میں)

استعمال شدہ رقم

(روپے کروڑ میں)

2018-19

اترا کھنڈ

0.34

0.34

ہماچل پردیش

0.19

0.19

2019-20

اترا کھنڈ

1.61

1.61

سکم

0.23

0.23

ہماچل پردیش

0.27

0.27

2020-21

اترا کھنڈ

3.60

3.60

ہماچل پردیش

2.30

2.30

منی پور

1.20

1.20

نا گا لینڈ

1.10

1.10

مجموعی

10.84

10.84

 

****************

 (ش ح ۔س ب۔رض )

U NO: 3827



(Release ID: 1813588) Visitor Counter : 148


Read this release in: English , Urdu , Tamil