نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نوکرشاہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکمرانی کا نظام سب سے غریب لوگوں کی دہلیز تک پہنچے – نائب صدر جمہوریہ
نائب صدر نے ڈیلیوری کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر زور دیا
نائب صدر نے ایڈمنسٹریٹرز کو مشورہ دیا کہ وہ ضرورت مندوں اور پس ماندہ لوگوں کے لیے خود کو زیادہ قابل رسائی بنائیں
نوکرشاہوں کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور ہندوستان کے اندر اور بیرون ملک سے بہترین طور طریقے اپنانے کے لیے ذہن کو کھلا رکھنا چاہیے: نائب صدر جمہوریہ
جامعیت، چستی، شفافیت اور دیانت داری بہتر نظام حکمرانی کے کلیدی اجزاء ہیں: نائب صدر جمہوریہ
نائب صدر جمہوریہ نے آئی آئی پی اے کے 68ویں یوم تاسیس کے موقع پر پہلا ڈاکٹر راجندر پرساد سالانہ بین الاقوامی یادگاری خطبہ دیا
نائب صدر جمہوریہ نے جناب راجندر پرساد کو ایک دور اندیش لیڈر قرار دیا، جن کی زندگی پرہیزگاری، سچائی، خدمت اور سادگی سے پُر تھی
نائب صدر جمہوریہ نے ایڈمنسٹریٹرز کی تکنیکی اور انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے میں آئی آئی پی اے کے رول کی تعریف کی
प्रविष्टि तिथि:
29 MAR 2022 5:39PM by PIB Delhi
ڈیلیوری کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر زور دیتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ جناب وینکیا نائیڈو نے کہا کہ نوکرشاہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکمرانی کا نظام ہماری آبادی کے سب سے غریب اور سب سے کمزور لوگوں کی دہلیز تک پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوکرشاہوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی فلاحی اسکیم اور ترقیاتی پہل کو جانچنے کے لیے ان کے نفاذ کے ذریعے مستفیدین کو حاصل ہونے والی خوشحال سے بہتر کوئی اور کسوٹی نہیں ہے۔
آج نئی دہلی میں آئی آئی پی اے کے 68ویں یوم تاسیس کے موقع پر پہلا ڈاکٹر راجندر پرساد سالانہ بین الاقوامی یادگاری خطبہ پیش کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں پر مرکوز نظام حکمرانی، عوامی خدمات کی مؤثر طریقے سے فراہمی کے نظام پر منحصر ہے۔ اس بات کو کو تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ نظام ایسا ہونا چاہیے جو شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور آرزوؤں کے مطابق خود کو ڈھال لے، نائب صدر نے جامعیت، چستی، شفافیت اور دیانت داری کے بارے میں بتایا کہ یہ عوامی نظام حکمرانی کے پیچیدہ کام کے کلیدی اجزاء ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اسی لیے اچھی نظام حکمرانی کی کچھ وضاحتی خصوصیات جامعیت، بہتر طرز عمل، دیانت داری، انثر انگیزی اور برابری ہے۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایڈمنسٹریٹرز کو ضرورت مندوں اور کمزور طبقوں کے لیے خود کو زیادہ قابل رسائی بنانا چاہیے، جناب نائیڈو نے کہا کہ نوکرشاہوں کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی لکھتے وقت، معاشرے کے تمام طبقوں سے لے کر آخری آدمی تک، سبھی شہریوں کو سرگرم حصہ دار کے طور پر شامل کرنا چاہیے۔
عوامی خدمات کی آخری میل تک فراہمی کی اہمیت اور ایڈمنسٹریٹرز کے کلیدی رول کو نمایاں کرتے ہوئے، نائب صدر نے آئی آئی پی اے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایڈمنسٹریٹرز کی قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ان کی تکنیکی اور انتظامی مہارت میں اضافہ کر رہا ہے۔
جناب نائیڈو نے کہا کہ نوکرشاہوں کو اپنی مہارت بڑھانے، ہندوستان کے اندر اور بیرون ملک سے بہترین طور طریقوں کو اپنانے کے لیے ذہن کو کھلا رکھنا چاہیے۔ ’’صرف تبھی وہ نظام حکمرانی اور انتظامیہ کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کے لیے اختراعی، بالکل نئی حکمت عملیاں اور حل تلاش کرنے کے قابل ہو سکیں گے اور اس طرح پروگراموں اور پالیسیوں کو مؤثر طریقے سے زمین پر اتار سکیں گے۔‘‘
ہندوستان کی ترقی کے بارے میں آئی ایم ایف کے تخمینہ کا ذکر کرتے ہوئے، جناب نائیڈو نے کہا کہ عالمی وبائی مرض کے اثرات کے بعد ہندوستانی معیشت کی بحالی، ’آتم نربھر بھارت‘ کے جامع ترقی کے وعدے کو آگے بڑھانے والی ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان آج ایک ایسے تبدیلی کے دور کے چوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ہر ایک شہری سماجی و اقتصادی طور پر خود کو با اختیار دیکھنا چاہتا ہے۔ حکومت کے مختلف سماجی تحفظ کے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ عوامی انتظامیہ کو شہریوں کی جانب مزید مرکوز ہونا چاہیے، جو انصاف، اخلاقیات اور بہتر کارکردگی کے اصولوں پر قائم ہو۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک کی ترقی اور حفاظت کے لیے اتحاد ضروری ہے، جناب نائیڈو نے ہندوستان کو غریبی، ناخواندگی، جانبداری، ذات پات اور علاقائیت سے پاک بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو بھارتیہ ہونے پر فخر کا احساس ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر راجندر پرساد کو ایک مثالی لیڈر قرار دیتے ہوئے، جناب نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی ایک خوشحال، متحد اور مضبوط ہندوستان کو دیکھنے کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے کہا، ’’بابو راجندر پرساد کی طلبہ کارکن سے لے کر آزاد ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ بننے تک کا شاندار سفر، ان کی ناقابل تسخیر صلاحیت، عہد اور ملک اور معاشرے کے تئیں عزم کی داستان ہے۔‘‘
یہ بتاتے ہوئے کہ بابو راجندر پرساد نے ذات پات اور نسل کے طوق سے پاک ایک ہم آہنگ اور مساوی ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، جناب نائیڈو نے انہیں ہمارے مادر وطن کا ایک عظیم سپوت قرار دیا، جن کی زندگی پرہیزگاری، سچائی، خدمت اور سادگی سے پُر تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی پی اے، ایڈمنسٹریٹرز کی بڑے پیمانے پر تربیت، تحقیق اور مشاورت کے ذریعے، بہتر، اثر دار اور اخلاقی نظام حکمرانی کا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس طرح ڈاکٹر راجندر پرساد کے خوابوں کو پورا کر رہا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ، جو کہ آئی آئی پی او کے سابق صدر ہیں، نے گزرتے ہوئے برسوں میں پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی مہارت کا ماحول تیار کرنے کی اس ادارہ کی کوششوں کی تعریف کی۔
اس موقع پر، سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ ارضیاتی سائنس کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئی آئی پی اے نے ریٹائرڈ آفیسرز کے کلب کے طور پر شروعات کرتے ہوئے، اپنی موجودگی سے اب تک کا 67 سالہ طویل سفر طے کیا ہے، اور اب یہ صلاحیت سازی کے میدان میں ایک شاندار اور محرک ادارہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی آئی پی اے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ڈیجیٹل کورس اور ٹریننگ پروگرام کے اپنے مشن میں بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 22-2021 میں آئی آئی پی اے نے 69 ڈیجیٹل ٹریننگ پروگرام، 27 آف لائن ٹریننگ پروگرام اور 30 سے زیادہ تحقیقی مطالعے کروائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آئی آئی پی اے، وژن @2047 کاغذ تیار کرنے میں ڈی اے آر پی جی اور ڈی او پی ٹی کا نالیج پارٹنر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی پی اے ، صلاحیت سازی کمیشن (سی بی سی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور اس نے آئی جی او ٹی پلیٹ فارم کے لیے پہلے سے ہی ڈیجیٹل ماڈیول تیار کر لیا ہے۔ آئی آئی پی اے نے سول سروسز امتحان کی تیاری کے لیے سول سروسز کے امیدواروں کی مدد کرنے کی ایک شاندار پہل کی ہے اور اپنے پرگتی کی پاٹھ شالہ پروگرام کے تحت مناسب رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ آئی آئی پی اے کے 68ویں یوم تاسیس کے موقع پر یہ یادگاری خطبہ آئی آئی پی اے فیملی کی بہت ہی اچھی پہل اور ادارہ کے سب سے اہم بانی، ڈاکٹر راجندر پرساد کو شاندار خراج عقیدت ہے۔
اس موقع پر، نائب صدر جمہوریہ نے آئی آئی پی اے کے ذریعے شائع کردہ ایک کتاب بعنوان ’’سردار پٹیل – بلڈر آف ایسپریشنل انڈیا‘‘ کا اجراء بھی کیا۔ اس موقع پر چھتیس گڑھ کے سابق گورنر اور آئی آئی پی اے کے رکن، جناب شیکھر دت، ممبر سکریٹری، آئی آئی پی اے، جناب ایس این ترپاٹھی، رجسٹرار، جناب امیتابھ رنجن، فیکلٹی کے ممبران اور کورس کرنے والے لوگ بھی موجود تھے۔
click here to speech
*****
ش ح – ق ت – ت ع
U: 3440
(रिलीज़ आईडी: 1811105)
आगंतुक पटल : 166