ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
وبائی مرض کا ماحول پر اثر کووڈ - 19
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2022 2:43PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے آج راجیہ سبھا میں بتایا کہ ہندوستان نے کووڈ - 19 کے بارے میں ’پوری حکومت‘اور ’پورے معاشرے‘کے نقطہ نظر کی پیروی کی ہے اور ملک میں صحت عامہ کے ردعمل کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکومت نے کووڈ - 19 کے اثرات کو روکنے، کنٹرول کرنے اور اسے کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ فطرت، آب و ہوا اور ’ایک صحت کا نقطہ نظر جو جانوروں، ماحولیاتی اور انسانی صحت کو مربوط کرتا ہے‘ ہندوستان کی مابعد کووڈ-19 کی رکوری اور ’آتما نربھر بھارت‘ حکمت عملی کا مرکز ہے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران 19 بڑے دریاؤں کے پانی کے معیار کی نگرانی سے ملک میں دریا کے پانی کے معیار میں معمولی بہتری آئی ہے۔ نامیاتی آلودگی میں کمی آئی، سطحی آبی ذخائر میں آکسیجن کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ فضلاتی آلودگی کی سطح وہی رہی۔ اسی طرح صنعتوں کی بندش، چلنے والی گاڑیوں کی تعداد میں کمی، تعمیراتی سرگرمیوں کی کمی اور انسانی سرگرمیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے کئی شہروں میں ہوا کے معیار میں عارضی بہتری آئی۔
مسلسل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشنز (سی اے اے کیو ایم ایس) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بڑے شہروں جیسے کہ دہلی، فرید آباد، گروگرام، غازی آباد، نوئیڈا، ممبئی، کولکتہ، بنگلورو، پٹنہ اور چنئی کے لیے پی ایم2.5، پی ایم 10، ایس او 2 اور این او 2 کی اوسط ارتکاز میں لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے ( 25 مارچ 2020 تا 19 اپریل 2020 ) اور دوسرے مرحلے(20 اپریل، 2020تا 3 مئی، 2020) میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بہتریاں اس طرح ہیں : زیادہ تر شہروں میں لاک ڈاؤن کے مراحل کے دوران پی ایم 2.5 میں70-9 فیصد ، پی ایم10 میں68 -20 فیصد، ایس او2 میں 77-19 فیصد اور این او2 میں 87-20 فیصد کی کمی 2019 کی اسی مدت میں اوسط ارتکاز کے مقابلے میں واقع ہوئی ہے ۔
حکومت نے اس معاملے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ حکومت ہند کے اندر نوڈل وزارت کے طور پر، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) تمام متعلقہ وزارتوں/محکموں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور روابط کو یقینی بناتی ہے تاکہ ملک میں ماحولیاتی نظام پر مبنی طریقوں کو اپنانے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کے انتظامات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ایم او ای ایف سی سی مختلف اسکیموں کو نافذ کر رہا ہے، جن میں گرین انڈیا کے لیے قومی مشن(مالی سال 23-2022کے لیے 361.69 کروڑ روپے)، قدرتی وسائل اور ماحولیاتی نظام کا تحفظ (مالی سال 23- 2022کے لیے 58.50 کروڑ روپے) اور ماحولیاتی تحفظ، انتظام اور پائیدار ترقی (مالی سال 23- 2022کے لیے 142.50 کروڑ روپے)شامل ہیں ۔ معاوضاتی جنگل بانی فنڈ انتظام اور پلاننگ اتھارٹی (سیی اے ایم پی اے) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا مقصد جنگلات کے استعمال اور غیر جنگلاتی استعمال کی طرف موڑ دی گئی جنگلاتی اراضی کے معاوضے کے طور پر جنگلات کی بحالی اور تخلیق نو کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) بھی 2003 میں مرکزی حکومت کے ذریعہ ہندوستان کے حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کو نافذ کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ این بی اے ایک قانونی ادارہ ہے اور حکومت ہند کے لئے سہولت مہیا کرانے والی ، قانونی اور مشاورتی عمل کو تحفظ ، حیاتیاتی وسائل اور استعمال کے فوائد کے مساویانہ اشتراک کے عمل کو انجام دیتا ہے۔ کووڈ - 19 وبا کے جواب میں، این بی اے نے کووڈ - 19 کے علاج کے لیے کووڈ - 19 کی تحقیق اور ادویات کی تیاری سے متعلق رسائی اور فائدہ کے اشتراک کی درخواستوں پر کارروائی کرنے اور اسے پانچ کام کے دنوں میں ٹھکانے لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
کووڈ - 19 کے دوران، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی ) نے علاج کے دوران پیدا ہونے والے فضلے کو سنبھالنے، علاج کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لیے اور کووڈ – 19 کے مریضوں کی تشخیص اور قرنطینہ کے لئے رہنما خطوط تیار کیے ہیں۔ یہ رہنما خطوط کووڈ - 19 سے متعلق فضلہ کے محفوظ انتظام کے لیے جامع اقدامات فراہم کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی متعلقہ وزارتوں، ریاستی محکمہ صحت، شہری ترقیات اور ماحولیات، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز/آلودگی کنٹرول کمیٹیوں اور ایسوسی ایشن آف کامن بایومیڈیکل ٹریٹمنٹ اینڈ ڈسپوزل فیسیلٹیز کو ان کے نفاذ اور تعمیل کے لیے رہنما خطوط بھیجے گئے ہیں۔
مزید برآں، سی پی سی بی نے کووڈ - 19 بائیو میڈیکل ویسٹ جنریشن اور ٹریٹمنٹ سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے کووڈ - 19 بی ڈبلیو ایم کے نام سے ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کی ہے جسے ویسٹ جنریٹرز اور کامن بایومیڈیکل ویسٹ ٹریٹمنٹ فیسیلٹیز (سی بی ڈبلیو ٹی ایفز) کے ذریعے فیڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، کووڈ وبائی امراض کے دوران صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات سے پیدا ہونے والے بایو میڈیکل فضلے کو سی بی ڈبلیو ٹی ایفز اور کیپٹیو ٹریٹمنٹ سہولیات کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کے ذریعے ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔
****
ش ح۔ ا ک ۔ ر ب
U NO : 3187
(ریلیز آئی ڈی: 1809534)
وزیٹر کاؤنٹر : 270