زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پارلیمانی مشاورتی کمیٹی برائے زراعت اور کسانوں کی بہبود کی میٹنگ کا انعقاد
کمیٹی نے کسان کریڈٹ اسکیم پر بہتر نفاذکے لئے تبادلہ خیال کیا
کے سی سی نے تقریباً2.94 کروڑ کسانون کا احاطہ کیا جس کے تحت منظور شدہ قرض کی حد 3.22 لاکھ کروڑ روپے ہے: جناب تومر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2022 5:17PM by PIB Delhi
نئی دہلی،24 مارچ 2022/
پارلیمانی مشاورتی کمیٹی برائے زراعت اور کسانو ں کی بہبود کی ایک میٹنگ 23 مارچ 2022 کو منعقد ہوئی۔ کمیٹی نےکسان کریڈٹ کارڈ اسکیم کے مختلف پہلوؤں پر بہتری اور بہتر نفاذ کے لئے تبادلہ خیال کیا۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت کسانوں کو کے سی سی کی سیچوریشن کے لئے ایک مہم چلا رہی ہے تاکہ پی ایم کسان کے تمام باقی ماندہ استفادہ کنندگان کا احاطہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تین لاکھ روپے تک کے قلیل مدتی قرضے کے تمام انتظامی چارجیز ، انسپیکشن فیس ، فولیو چارجیز وغیرہ کو معاف کردیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان سود کی امدادی اسکیم کے ذریعہ سستی شرح پر قرض حاصل کرسکیں۔
وزیر موصوف نے کمیٹی کے اراکین کو یہ بھی بتایاکہ کے سی سی کے لئے فارم کو آسان بنادیا گیا ہے اور بینکوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مکمل درخواست فارم کی وصولی کے 14 دنوں کے اندر کے سی سی جاری کریں۔کسانوں کو رعایتی قرض تک رسائی فراہم کرنے کی سمت میں بینکوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل اور ٹھوس کوششوں کے نتیجے میں کے سی سی اسکیم کے تحت تقریباً 2.94 کروڑ کسانوں کو منظور شدہ قرض 3.22 لاکھ کروڑ روپے کی حد کے ساتھ 4 مارچ 2022 تک فراہم کرکے ایک اہم سنگ میل حاصل کیا گیا ہے۔
کے سی سی اسکیم کی تفصیلات پر ایک پرزینٹیشن جوائنٹ سکریٹری جناب رتیش چوہان نے دی۔
کمیٹی کے اراکان نے اپنی تشویشات کا اظہار کیا اور اسکیم کو بہتر بنانے کی تجاویز دیں۔ جناب تومر نے کمیٹی کے اراکین کا ان کی قیمتی تجاویز کے لئے شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ وزارت ہر ایک تجویز پر غور کرے گی اور کسانوں کی بہتری کے لئے ساز گار حل نکالے گی۔
کسان کریڈٹ کارڈ کے بارےمیں
کسان کریڈٹ کارڈ 1998 میں کسانوں کو زرعی سامان جیسے بیج، کھاد، کیڑے مار ادویات وغیرہ خریدنے کے لئے قلیل مدتی قرضے، فراہم کرنے کے لئے متعارف کرایا گیا تھا۔ فی الحال کے سی سی قرضے فصلوں کی دیکھ بھال، مویشی پروری ، اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں ، قلیل مدتی اور طویل مدت دسیتاب ہیں۔ قلیل مدتی زرعی قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک سال تک اور طویل مدتی قرض کے لئے یہ حد عام طور پر پانچ سال ہے۔قلیل مدتی قرض کسانوں کو سات فی صد کی رعایتی شرح پر اور اضافی تین فی صد فوری ادائیگی کی ترغیب (پی آر آئی) پر دیئے جاتےہیں۔
اس میٹنگ میں زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری، لوک سبھا کے ممبران جناب بیلنا چندرشیکھر، جناب گرجیت سنگھ اوجھلا، محترمہ جسکور مینا سنگھ، جناب سولنکی، جناب پردیپ کمار چودھری، محترمہ راما دیوی، جناب روڈمل نگر، جناب شری نواس دادا صاحب پاٹل، ممبران راجیہ سبھا محترمہ گیتا ، اور شری رام شکل نے بھی شرکت کی۔
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے محکمے کے سکریٹری جناب سنجے اگروال کے ساتھ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت، ماہی پروری، مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار کے سینئر افسران بھی اس میٹنگ کے دوران موجود تھے۔
**********
ش ح۔ ش ت۔ج
Uno-3164
(ریلیز آئی ڈی: 1809443)
وزیٹر کاؤنٹر : 188