بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
شمال مشرق میں (اندرون ملک) جہاز رانی کے ہب کے طور پر پانڈو پورٹ کی فروغ
प्रविष्टि तिथि:
22 MAR 2022 1:11PM by PIB Delhi
پانڈو (گوہاٹی) قومی آبی شاہراہوں (این ڈبلیو -2) (دریائے برہم پتر) پر انتہائی اہم مقام ہے اور اسی کے مطابق حکومت نے پانڈو میں ایک کثیر - ماڈل دریائی پورٹ قائم کیا ہے۔ تفصیلات ضمیمہ -1 میں ہیں۔
حکومت نے 21-2020 سے 25-2024 کے دوراان این ڈبلیو -2 کی فروغ کے پروجیکٹ کو 461 کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ منظوری دی ہے۔ 72.6 کروڑ روپے کی لاگت سے پانڈو میں بحری جہاز کی مرمت کی سہولت کا قیام اس پروجیکٹ کا ایک جزو ہے۔ پانڈو میں بحری جہاز کی مرمت کی سہولت کی تیاری فائدہ مند ہے، کیونکہ شمال مشرقی خطے (این ای آر) میں خشک ڈاکنگ کے ساتھ جہازوں کی مرمت کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ اس وقت شمال مشرقی خطے کے بحری جہازوں کو ڈرائی ڈاک مرمت کے لئے ، بنگلہ دیش کے ذریعہ کولکاتا لے جایا جاتا ہے۔
شمال مشرق میں اندرون ملک نیوی گیشن کو بڑھانے کی غرض سے صنعت کاروں / کارگو کے آپریٹرس کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکار کے ذریعہ کئے گئے اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ – 2 میں ہیں۔
ضمیمہ-1
این ڈبلیو -2 (دریائے برہم پتر) پر پانڈو ( گوہاٹی) میں کثیر ماڈل ٹرمنل کی تفصیلات:
- پانڈو (گوہاٹی) ، کثیر ماڈل دریائی پورٹ کی تیاری کے لئے ، این ڈبلیو – 2 پر انتہائی اہم مقام ہے۔ لہذا پانڈو میں ٹرمنل کی مرحلے وار تیاری کے لئے ایک ماسٹر پلان تیار کیا گیا تھا اور اسی کے مطابق تیاری کا کام کیا گیا۔ 40.02 کروڑ روپے کی لاگت سے کم سطح کی ایک بندر گاہ کو 2009 میں فعال کردیا گیا۔ 43.89 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اعلیٰ سطح کی بندر گاہ کو بھی 15-2014 کے دوران آپریشنل بنادیا گیا تھا، جو کہ کانٹینروں سمیت میکنکی ہینڈنگ والی سہولت کے ساتھ پورے سال کی کارروائیوں کے لئے ہے۔
- پانڈو پورٹ سے کامکھیا ریلوے اسٹیشن (گوہاٹی) تک ایک براڈ گیج ریلوے لائن کی تعمیر کی گئی ہے جسے این ایف ریلوے 16.46 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا ہے، جب کہ اسے این ایف ریلوے نے 2013 میں تجارتی کارروائیوں کے لئے کھول دیا تھا۔ آئی ڈبلیو اے آئی نے ، تھرڈ پارٹی کے ذریعہ کارگو کی نقل وحرکت کے لئے ، بی جی سائڈنگ استعمال کرنے کی غرض سے این ایف ریلوے کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
- بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی دستیابی۔
|
مقام
|
جیٹی / ٹرمنل
|
ذخیرے کی سہولت
|
آلات
|
دیگر سہولیات
|
|
پانڈو، گوہاٹی
|
نچلی سطح کی آر سی سی جیٹی - (لمبائی -50 میٹر، چوڑائی 20 میٹر)
اونچی سطح کی آر سی سی جیٹی - (لمبائی -50 میٹر چوڑائی 20 میٹر)
|
ٹرانزٹ کے دو شیڈس( ہر ایک
21 میٹر )x 75 میٹر
اسٹوریج کا کھلا رقبہ: 553.90 مربع میٹر
|
20ایم ٹی اور 75 ایم ٹی صلاحیت والی دو ہائڈرولک بندرگاہی کرینیں
وزن تولنے کا ایک بڑا کانٹا: 100 ایم ٹی کی صلاحیت والا
|
ایک ریلوے براڈ گیج (بی جی) سائڈنگ
کسٹمز نوٹیفائڈ
|
ضمیمہ-2
شمال مشرق میں اندرون ملک نیوی گیشن کو فروغ دینے کی غرض سے صنعت کاروں / کارگو آپریٹرس کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے حکومت کے ذریعہ کئے گئے اقدامات
- فیئر وے ترقیاتی ورکس: ہندوستان، بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ کے ذریعہ این ڈبلیو -1 اور این ڈبلیو -2 / این ڈبلیو 16 کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لئے سراج گنج اور دیکھوا کے درمیان پروٹوکول روٹ نمبر -1 اور 2 پر اور بنگلہ دیش میں آشو گنج اور زیکا گنج، پروٹوکول روٹ نمبر – 3 اور 4 پر ، کو پورے سال نیوی گیشن ( 2.5 میٹر کی ہدف شدہ ایل اے ڈی کے ساتھ) کرنے کے کام کے لئے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے ذریعہ مشترکہ طور پر تیار کی جارہی ہے۔ اسی طرح سندر بن میں این ڈبلیو -97 پر فیئر وے ترقیاتی کام کئے جارہے ہیں تاکہ ہندوستان – بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ پر جہازوں کی سہل نیوی گیشن کی اجازت دی جاسکے۔
- قومی آبی شاہراہ -2 میں رو- رو / رو - پیکس خدمت کا آغاز
رو- رو/ رو-پیکس جہازوں کے آپریشن کا افتتاح وزیراعظم نے فروری 2021 میں کیا تھا، جو مندرجہ ذیل روٹس کے لئے تھا۔
|
جہاز کانام
|
رو- رو/ رو- پیکس خدمت، کے درمیان
|
وزیراعظم کے ذریعہ افتتاح کی تاریخ
|
|
ایم وی رانی گیدن لیو اور ایم وی سچن دیو برمن
|
نیاماتی اور کملا باری (مجولی)
|
18.02.2021
|
|
ایم وی جے ایف آر جیکوب
|
گوہاٹی اور شمالی گوہاٹی
|
18.02.2021
|
|
ایم وی بوب کھاتھنگ
|
ڈھبری اور فقیر گنج (یو / ایس ہتھ سنگھی ماری)
|
18.02.2021
|
- محصول پر نظرثانی اور فیس کا جمع کیا جانا:
Iii کےایک اضافی موڈ کی حیثیت سے اندرون ملک آبی شاہراہوں کو فروغ دینے کےلئے بھارت سرکار کے وژن کو آگے بڑھانے کی خاطر بندرگاہوں ، جہازرانی اور آبی شاہراہوں کی وزارت نے تین سال کی مدت کے لئے ابتدا میں آبی شاہرا ہ استعمال کرنے کے چارجز میں چھوٹ پر غور کیا۔
- آئی ڈبلیو ٹی موڈ کا استعمال کرتے ہوئے علاقائی تجارت کو بڑھانا:
اے - پی آئی ڈبلیو ٹی اینڈ ٹی کے تحت بھارت اور بنگلہ دیش میں کال اور روٹس کی نئی بندرگاہوں کا اضافہ: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پی آئی ڈبلیو اینڈ ٹی کے تحت موجودہ آٹھ روٹس کے علاوہ دو آبی شاہراہوں کے روٹس کی توسیع اور اضافے کے ساتھ ہرسائڈ پر موجودہ 6 کے علاوہ کال کی نئی 7 بندرگاہوں کے ساتھ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کے لئے آئی ڈبلیو ٹی موڈ کی رسائی بڑھنے کا امکان ہے،جس کے نتیجے میں این ڈبلیو پر ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔
بی- بھوٹان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت : بھوٹان کے کچھ برآمد کاروں نے کم ٹرانسپورٹ لاگت جیسی آبی شاہراہوں کے موڈ کے ساتھ وابستہ فائدوں پر غور کرتے ہوئے ٹرانسپوٹیشن کے ایک متبادل موڈ کی حیثیت سے اندرون ملک آبی شاہراہوں کی نشاندہی کی ہے۔آئی ڈبلیو اے آئی کی نگرانی کے تحت پہلی نقل وحمل جولائی 2019 میں کامیابی کےساتھ عمل میں لائی گئی ۔آئی ڈبلیو ٹی موڈ کا استعمال کرتے ہوئے یہ تجارت توقع ہے کہ آنے والے سال میں جاری رہے گی اور اس کے خاطر خواہ طور پر بڑھنے کا امکان ہے۔
v - اندرون ملک آبی ٹرانسپورٹ کے استعمال کے لئے شراکتداروں کی آسانی کے لئے اور قومی آبی شاہراہوں سے متعلق مختلف معلومات کی رسائی کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز)
مختلف قومی آبی شاہراہوں کے لئے ایس او پیز کی فہرست جو آئی ڈبلیو اے آئی کی ویب سائٹ پردستیاب ہیں، نیچے دی گئی ہے۔
اے – جمہوریہ بھارت سرکار اور بنگلہ دیش کی عوامی جمہوریہ کی سرکار کے درمیان بھارت کے لئے اور بھارت سے سامان کی نقل وحمل کے واسطے چھاٹو گرام اور مونگلہ بندرگاہوں کے استعمال پر سمجھوتے کا معیاری آپریٹنگ طریقہ کار ( ایس او پی )
بی- بنگلہ دیش اور بھارت کی سرکار کے درمیان ساحلی اور پروٹوکول روٹ پر مسافر اور کروز خدمات سے متعلق مفاہمت نامے کا معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی )
سی – بھارت سرکا ر اور بنگلہ دیش سرکار کے درمیان باہمی تجارت اور راہداری کارگو ز ( جہاز) کی نقل وحمل کے لئے اندرون ملک آبی شاہراہوں کے استعمال پر مفاہمت نامے کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار ( ایس او پی )
ڈی – کووڈ -19 کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اندرون ملک آبی راہداری اورتجارت ( پی آئی ڈبلیو ٹی اینڈ ٹی ) سے متعلق پروٹوکول پر جہازوں کی نقل وحمل کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار ( ایس او پی )
ای – قومی آبی شاہراہروں پر رو/رو ، رو- ٹیکس جہاز کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار ( ایس او پی ) اور چیک فہرست
ایف – کار – ڈی پورٹل کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی )
vi- شراکتدارسے صلاح مشورہ : آئی ڈبلیو اے آئی نے مالی سال 2020 میں 6 مختلف مقامات ( کولکتہ ،کوچی ، ممبئی ، پٹنہ ، گوا اور ڈھاکہ ) میں شراکتدار سے مشورے کئے اور مالی سال 2021 کے دوران 9 کانفرنس کے ساتھ ویبنار س ہوئے ۔ ان مذاکرات سے ٹرانسپورٹیشن کے موڈ کی حیثیت سے آبی شاہراہوں کو فروغ دینے میں مددملی اور توقعات اور شراکتداروں کے فیڈ بیک جاننے میں بھی مدد ملی۔آئی ڈبلیو اے آئی اینڈ ڈبلیو ز سے متعلق مزید اضافی ٹریفک کے لئے موصول ہونے والی توقعات اور فیڈ بیک سے نمٹنے کے لئے نشانزد اقدامات کررہا ہے۔
یہ اطلاع راجیہ سبھا میں بندرگاہوں ، جہازرانی اور آبی شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانندسونووال نے ایک تحریری جواب میں دی ۔
***************************
ش ح ۔ اع ، ح ا ۔ ق ر، رم
U:2988
(रिलीज़ आईडी: 1808136)
आगंतुक पटल : 190